Tuesday, October 21, 2014

"ہر گھر سے بھٹو نکلے گا"

پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقارعلی بھٹوکا 4اپریل 1979ء کو 51 سال کی عمر سیاسی قتل ہوا۔ چند سالوں کے بعد ان کے چھوٹے صاحبزادے شاہنواز15 جولائی 1985 کو فرانس کے شہر، نائس میں پراسرار طور پر قتل کر دئے گئے۔ ان کی عمر 26 سال تھی۔ بھٹو کے بڑے بیٹے میر مرتضیٰ بھٹو کو 20 ستمبر 1996 کراچی میں چھے ساتھیوں سمیت "پولیس مقابلے" میں ماردیا۔ اس وقت ان کی عمر 42 سال تھی۔
اس خاندان کے ان تین افراد کے قتل کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو کے نے سیاست آگئیں تو کئی سیاسی نعرے مشہور ہوئے مثلآ چاروں صوبوں کی زنجیر ۔۔۔ بے نظیر بے نظیر وغیرہ۔ ان میں یہ نعرہ بھی شامل تھا۔ "تم کتنے بھٹو ماروگے۔۔۔ ہر گھر سے بھٹو نکلے گا۔"
پھر 27 دسمبر 2007  افسوسناک سانحہ رونما ہوا جس میں پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم اور بھٹو خاندان کے چوتھے چراغ کو گُل کردیا گیا۔ ان کے قتل کے فورآ بعد آصف علی زرداری نے ایک پریس کانفریس بلوائی اور اس میں دو اہم اعلانات کئے گئے۔
پہلا بی بی کا وصیت نامہ
دوسرا، آصف زرداری کی اولاد کا اپنے نام کے ساتھ "بھٹو" کے صیغے کا اضافہ کرنا۔
اب پاکستان پیپلز پارٹی کے روح رواں بلاول "بھٹو" زرداری ہیں اور ڈرائونگ سیٹ کے برابر میں آصف علی زرداری۔  ستر کی دہائی سے اب تک یعنی تقریبآ 45 سال کے طویل مدت کا سفر طے کرنے کے بعد  اب "دوسرے گھر" یعنی زرداری خاندان سے "بھٹو" نکل آیا۔ خدا جانے "ہرگھر"  سے بھٹو نکلنے کے لئے مزید کتنے سال درکار ہونگے۔

Tuesday, October 14, 2014

پاکستانی نوجوان اور تعلیم


وہ تمام افراد جن کی عمریں 15-29 برس کے درمیان ہوں، یوتھ یعنی نوجوان کہلاتے ہیں۔ انھیں معاشرے کا سب سے فعال اور چاق و چوبند طبقہ سمجھاجاتا ہے کیونکہ عمر کے اس حصے میں انسان مسلسل زیادہ ذہنی وجسمانی محنت کرسکتا ہے۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ نوجوان نسل ملک و قوم کا بیش بہا اثاثہ ہوتا ہے۔ اسے فرض شناسی اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلاکر صحیح سمت کی طرف رواں کیا جائے تو نہ صرف ہر شعبہ ہائے زندگی میں اپنا بھرپور کردار ادا کرسکتا ہے بلکہ ملک کی معاشی و معاشرتی ترقی میں نئی تاریخ رقم کرسکتا ہے۔
پاکستان کو یوتھ کی تعداد کے اعتبار سے خوش قسمت ملک تصور کیا جاتا ہے کیونکہ ملک کی کل آبادی کا ایک بڑا حصہ یعنی 25 ملین نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ 1998 کی مردم شماری کے مطابق ملک کی آبادی کا ہر پانچواں فرد 15-24 سال کے درمیانی عمر کا ہوتا ہے۔پاکستانی یوتھ آج ان گنت مسائل میں پھنسا ہوا ہے۔ ان میں سب سے اہم اور بنیادی مسئلہ تعلیم ہے۔ اس کے سبب دیگر کئی مسائل جنم لیتے ہیں۔
تعلیم:
بقول نیلسن منڈیلا ’’تعلیم ہی وہ طاقتور ترین ہتھیار ہے جس کے ذریعے پوری دنیا کو تبدیل کیا جاسکتا ہے‘‘۔ کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی علم و تعلیم کے بغیر ممکن نہیں اور یہ معاشرے کے ہر فرد کا بنیادی حق ہے۔ مگر بدقسمتی سے ملک میں اس شعبے کو روز اول سے ہی نظر انداز کیا جاتا رہا ہے اور ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ اپنے قیام کے 66 سال بعد بھی اس ملک میں سالانہ بجٹ کا صرف دو فیصد حصہ شعبہ تعلیم کے لیے مختص ہے جو کہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے۔ دوسری جانب بجٹ کا ایک بڑا حصہ قرض دینے والے سرمایہ دار ادارے جیسے عالمی بینک، آئی ایم ایف اور ایشین ڈیویلپمنٹ بینک کی قرضوں پرسود کی ادائیگی اور دفاع پر خرچ کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کا نظام تعلیم دن بدن بہتر ہونے کے بجائے بدتر اور تنزلی کی طرف سفر کررہا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی شرح خواندگی 46 فیصد ہے اور بد قسمتی سے اس شرح میں وہ تمام افراد شامل ہیں جو فقط اپنا نام لکھنا جانتے ہیں۔ 1998 کی مردم شماری کے مطابق 15-27 سال کے عمر کے 37 فیصد لڑکے اور آدھے سے زیادہ لڑکیاں ناخواندہ ہیں اور شرح خواندگی میں شامل افراد میں 33 فیصد لڑکے اور 37 فیصد لڑکیاں صرف پانچویں جماعت تک تعلیم حاصل کرپاتے ہیں۔ 50 لاکھ بچے اسکول نہیں جاپاتے ہیں۔ جن میں 66 فیصد لڑکیاں ہیں۔ اس شرح میں ہم نے بھارت 30 فیصد، نیپال 22 فیصد اور بنگلہ دیش 44فیصدکو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ایک حالیہ عالمی سروے کے مطابق پاکستان 120ملکوں میں اسکول نہ جانے والے بچوں کی درجہ بندی میں نچلی ترین سطح کے دوسرے نمبر پر ہے۔ ان میں اخری نمبر نائجریا کا ہے۔1
دیہی علاقوں میں شرح ناخواندگی خطرناک حد تک اونچی ہے۔ 60 فیصد دیہی علاقوں کی لڑکیوں کے لیے تعلیم کے دروازے بند ہیں یعنی وہ کبھی کسی تعلیمی ادارے میں داخل نہیں ہوتیں۔ جس کے سبب انھیں زندگی میں لاتعداد مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مثلاً ملک کی پیداواری نظام میں بھرپور حصہ لینے کے باوجود بہتر روزگار کے حصول اور خوشحالی میں ناکامی شامل ہیں۔
ملک کا نظام تعلیم چار مختلف اقسام میں بٹا ہوا ہے اور ہر نظام کا طریقہ تدریس، تدریسی مواد، معلم کا رویہ، طالب علم کا رویہ نہ صرف ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہیں بلکہ بعض اوقات ایک دوسرے سے متصادم بھی نظر آتے ہیں۔ ان مختلف اقسام کا انتخاب مختلف طبقات کرتے ہیں۔ مثلاً کسی بیورو کریٹ کی اولاد سرکاری اسکول نہیں جائیں گی اور نہ ہی کسی مزدور کا بیٹا بیکن ہاوس جیسے مہنگے ترین اسکولوں میں داخلہ لے سکتا ہے۔

سرکاری اسکول:
سرکاری اسکول کے انتظام اور مالی معاملات سرکار کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹیٹکس کے مطابق ملک میں پرائمری اسکولوں کی تعداد 1,77,724 ہے اور ان میں سے 70 فیصد سرکاری اسکول ہیں لیکن المیہ یہ ہے کہ حکومت کی مجرمانہ غفلت کی وجہ سے کہیں یہ صرف نام کے اسکول، کہیں جاگیرادار کا اصطبل اور کہیں منافع خور اسے گودام کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق صرف صوبہ سندھ میں 27 اضلاع میں 6,721 ایسے اسکول ہیں جن کا وجود صرف کاغذوں پر موجود ہے۔2 ان میں درس و تدریس کا کوئی کام نہیں ہوتا۔ ان اسکولوں کو نہ طالبان نے بند کرایا ہے اور نہ کسی خود کش بمبار نے۔ اس کا مجرم علاقے کا جاگیردار ہے۔ یہ کام وہ بلا خوف، بنا کسی جھجک کے کھلے عام سر انجام دیتا ہے کیونکہ وہ نہیں چاہتا ہے کہ لوگوں میں علم، شعور اور آگہی پیدا ہو۔ اسے یہ بھی معلوم ہے کہ اگر تعلیم باآسانی غریب کے دسترس ہوگی تو باشعور ہوگا اور اپنے حقوق پر غاصبانہ قبضہ کرنے والوں کے خلاف بغاوت کا علم بلند کرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ان اسکولوں کو بند کیا جاتا ہے۔ اس جرم میں حکومت برابر شریک ہوتی ہے کیونکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنے کام خوش اسلوبی سے انجام نہیں دیتے۔ دوسری جانب یہ جاگیردار اتنا با اثر ہوتا ہے کہ علاقے کی پولیس، میڈیا اور دیگر ادارے اس کی مرضی کے خلاف کوئی کام نہیں کرتے۔
یہاں سرکاری اسکول کا انتخاب غریب طبقہ کرتا ہے جو نجی تعلیمی اداروں کی فیس ادا نہیں کرسکتا۔ یونیسکو کے مطابق اٹھارہ کروڑ کی آبادی والے ملک جس میں نوجوانوں کی تعداد 25 ملین ہے میں صرف 1,63,000 سرکاری اسکول ہیں ان میں سے 40,000 برائے خواتین ہیں۔ اگر ہم صوبائی سطح پر دیکھیں تو 15,000 تعلیمی ادارے پنجاب میں 13,000 سندھ میں 8,000 کے پی کے اور چار ہزار بلوچستان میں واقع ہیں۔ ملک بھر میں چودہ ہزار لوئر سیکنڈری اسکول میں 5.4 ملین طلباء اور 10 ہزار ہائر سکنڈری اسکولوں میں 3 ملین طلباء زیر تعلیم ہیں۔ 3 بدقسمتی سے اس شعبے کے ساتھ ناروا سلوک ایک عرصے سے جاری ہے کرپشن ، اقربا پروری، من پسند کی بھرتیاں اور میرٹ کی قتل عام کی خبریں عموماً اخباروں کی زینت بنتی ہیں۔ احتساب کا کوئی نظام نہ ہونے کے سبب تنزلی کی طرف سفر جاری ہے۔4 جیسے چند ماہ قبل محکمہء تعلیم گلگت بلتستان نے گریڈ 14کی خالی اسامیوں کو مشتہر کیا۔اخباری بیانات کے مطابق کھلے عام ایک سیٹ چار سے آٹھ لاکھ روپے میں بکتی رہی۔ مقامی اخباروں کے مطابق وہاں کے وزیر تعلیم براہِ راست ملوث تھے۔ یہ خبر اخباروں میں شائع ہونے کے باوجود کوئی کاروائی نہیں کی گئی۔5
نجی تعلیمی ادارے
پرائیوٹ اسکول؍کالج کسی ایک فرد یا چند افراد کی ذاتی ملکیت ہوتی ہے۔ کسی بھی فرد یا افراد کا کوئی نجی تعلیمی ادارہ کھولنے کا مقصد منافع کماناہوتا کیونکہ آج یہ منافع بخش کاروبار بن گیا ہے اور اسکول سے لے کر یونیورسٹی کی سطح تک ادارے تعمیر کیے جاتے ہیں اور بے انتہا منافع کمارہے ہیں۔ ایسے تعلیمی اداروں کی تعداد کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا البتہ یہ ہمیں شہر میں کئی جگہوں پر بڑی تعداد میں اسکول نظر آتے ہیں۔ جن کے اوپر ’’داخلے جاری ہیں‘‘ کا بینر سارا سال لگا رہتا ہے۔ صبح کے اوقات میں اسکول اور شام میں ’’کوچنگ سینٹر‘‘ چلائے جاتے ہیں ۔ اب دیہاتوں اور گاؤں کی سطح پر بھی دن بدن ان کی تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ قومی تعلیمی مردم شماری 2000, 2007-8 کے مطابق ملک میں پرائمری نجی اسکولوں کی تعداد میں 18فیصد ،آٹھویں جماعت تک 98 فیصد اور دسویں جماعت تک کے نجی تعلیمی اداروں میں 105 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مجموعی طور پر پاکستان میں نجی تعلیمی اداروں میں پچھلے چودہ سالوں میں 105فیصد اضافہ ہو اہے۔
ایک نجی تعلیمی ادارے کے طلباء سے بات چیت کرنے کے بعد پتہ چلا کہ ان اداروں میں کس طرح مختلف بہانوں سے طالب علموں سے کئی مد میں پیسے حاصل کئے جاتے ہیں۔ داخلے کے وقت ’’سیکورٹی فیس‘‘ کے نام پر پیسے لیے جاتے ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ خارج ہوتے وقت وہ پیسے واپس دے دیے جائیں گے۔ مگر عموماً واپس نہیں ہوتے۔ سہمائی امتحانات کی فیس، ششماہی امتحانات کی فیس، پھر ایڈمٹ کارڈ کی الگ فیس، غیر حاضر ہوجانے پر جرمانے کے نام پر فیس اکثر نجی اسکول میں وصول کی جاتی ہے۔غرض کہ کوئی بھی ایسا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے جہاں پیسے کمانے کی گنجائش ہو۔ اب ان اسکولوں نے کاپیوں کی جلدیں اسکول کے نام سے شائع کراکر دوگنی قیمت پر بچوں کو فروخت کرتے ہیں اور انہیں پابند کرتے ہیں کہ تمام طلباء اسکول ہذا سے ہی کاپیاں اور کتابیں خریدیں۔ ان اسکولوں میں درس و تدریس انگریزی زبان میں کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ اسکول ایسے اساتذہ، خصوصاً لڑکیوں کو بھرتی کرتے ہیں جو کم سے کم تنخواہ پر کام کرنے کے لیے راضی ہوں۔ ان کی صلاحیتوں کا قطعاً کوئی اندازہ نہیں لگایا جاتا۔
شہر میں موجود چھوٹے نجی اسکولوں کی ماہانہ فیس 500 سے1000 کے درمیان ہوتی ہے۔ ان اسکولوں میں درس و تدریس کے لیے خواتین جن میں سے اکثر نوجوان لڑکیاں ہوتی ہیں کو تر جیع دی جاتی ہے۔ ان کی تعلیمی قابلیت کم سے کم میٹرک اور زیادہ سے زیادہ ایم اے ہوتی ہے۔ میٹرک اور انٹر پاس اساتذہ کو 1200 سے 3000 ماہانہ تنخواہ دی جاتی ہے۔ بی اے اور ایم اے ڈگری والے اساتذہ کو 6000 سے 8000 ماہانہ تنخواہ دہ جاتی ہے۔ لڑکیوں کو بطور ٹیچر بھرتی کرنے میں اسکول مالکان کو فائدہ ہوتا ہے وہ کم تنخواہ پر کام کرنے کو راضی ہوجاتی ہیں اور باسانی ان سے زیادہ کام لیا جاسکتا ہے۔ ان اسکولوں میں بیشتر اساتذہ کوبغیر ٹسٹ کے ان کی قابلیت کوبِنا جانچے بھرتی کیا جاتا ہے۔
کیمریج سسٹم،اے /او لیول
نجی تعلیمی اداروں کے اس قسم میں ملک کا امیر طبقہ تعلیم حاصل کرتا ہے۔ یہاں کا نصاب اور تدریس مواد برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کا ترتیب کردہ ہوتا ہے جسے او/ اے لیول کہا جاتا ہے۔ یہ تعلیمی ادارے عموماً اونچی اور بڑی عمارتوں پر مشتمل ہوتے ہیں اور درس و تدریس کا عمل انگریزی زبان میں ہوتا ہے۔ ان کی ماہانہ فیس 10 ہزار سے 30 ہزار تک ہوتی ہے۔
تعلیمی معیار اور تدریسی مواد باقی تمام اقسام سے مختلف ہوتا ہے۔ آٹھویں جماعت سے ہی بچے کو شماریات، جغرافیہ اور بنیادی تاریخ پڑھائی جاتی ہے۔ یہ تمام مضامین ملک میں رائج دیگر تعلیمی نظام کے دیگر اقسام میں سطحی طور پر پڑھایا جا تاہے۔ ان اداروں میں غیر نصابی سرگرمیوں مثلاً کھیل کے مقابلے، تقریری مقابلے، آرٹ کے مقابلے، مباحثے منعقد کرائے جاتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان اداروں میں طلباء سیکھنے کے تمام مواقعے اور سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ ان اسکولوں میں اساتذہ کو مناسب طریقے سے ان کی قابلیت کی جانچ پڑتال کے بعد بھرتی کرتے ہیں۔ انھیں میڈیکل اور آنے جانے کے لئے ٹرانسپورٹ کی سہولیات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔ ان اسکولوں کے اساتذہ کی تنخواہیں دیگر تعلیمی نظام میں پڑھانے والے اساتذہ کی تنخواہوں سے تین چار گنا زیادہ ہوتی ہیں۔
مدارس
عموماً یہ خیال کیا جاتا ہے کہ مذہبی سوچ کے حامل والدین اپنی اولاد کو مدارس میں داخل کراتے ہیں۔ مگر دیکھنے میں آیا ہے کہ اس کے پیچھے کئی اور وجوہات بھی شامل ہیں۔ ہمارے ارد گرد کئی ایسے مذہبی رجحان رکھنے والے افراد بستے ہیں جن کے بچے انگریزی میڈیم اسکولوں میں زیر تعلیم ہیں۔ مدارس میں داخل کیے جانے کے کئی وجوہات ہیں اور وقت گزرنے کے سات ساتھ اس میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ طارق رحمان کے مطابق 1947 میں ملک میں صرف 137 مدارس تھے اور اپریل 2002 تک ان کی تعداد 10,000 تک پہنچ گئی ہے جن میں 1.7 میں طلباء رہائش پزیر ہیں اور تعلیم حاصل کرتے ہیں۔6
یہ سوچ بھی عام ہے کہ مدارس میں بچوں کو مفت خوراک، لباس اور رہن سہن کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ اسی وجہ سے ملک کا وہ انتہائی غریب طبقہ جو اپنی اولاد کو ملک میں موجود دیگر تعلیمی نظام کے اقسام میں داخل نہیں کراسکتا اور زیادہ تر ایسے افراد جو دو وقت کی روٹی نہیں کھلا سکتے اور ان کا تن نہیں ڈھانپ سکتے مدارس میں داخل کراتے ہیں۔ مدارس میں بچوں کے ساتھ تشدد کی خبریں معتدد بار میڈیا میں آچکی ہیں۔ کیونکہ بیشتر مدارس کے اساتدہ خود تعلیم و تربیت سے آراستہ نہیں ہوتے ہیں اور ڈانٹ ڈپٹ، مار پیٹ کی مدد سے رٹوانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مدارس کے قاری کے رویے اور جسمانی و جنسی ور پر ہراساں کرنے کی خبریں بھی بارہا آچکی ہیں۔8,7کراچی میں تین سال قبل اس نوعیت کے ایک واقعے میں قاری نے سات سالہ بچے کی ٹانگ توڑ دی تھی۔ 9اسی طرح کے ایک اور واقعے میں ملتان میں مدرسے کے استاد نے سات سالہ بچے کا سر ڈنڈے سے مار کر پھاڑ دیا تھا۔10اس طرح کے واقعات کے رونما ہونے کے باوجود ملک میں مدرسہ جانے والوں کی تعداد میں کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں مدارس کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اس وقت پاکستان میں مدارس کے پانچ بورڈ ہیں سب سے بڑے بورڈ وفاق المدارس العربیہ کے ساتھ نو ہزار مدارس وابستہ ہیں۔ اس کے علاوہ تنظیم المدارس اہلسنت، وفاق المدارس السلفیہ، وفاق المدارس شعبہ اور جماعت اسلامی کے رابطہ المدارس الاسلامیہ کے ساتھ 13,000 سے زائد مدارس وابستہ ہیں۔ ان مدارس میں 30 لاکھ سے زائد طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں۔ 11
پاکستان میں مدارس کے سب سے بڑے بورڈوفاق المدارس کے نصاب میں باقاعدہ اردو، انگریزی، ریاضی اور سائنس شامل ہے۔12 یہ ایک خوش آئند بات ہے۔ مگر اسی بورڈ کے تحت چلنے والے مدرسوں، جو کراچی سے گلگت ، چترال تک پھیلے ہوئے ہیں میں لڑکیوں کو انگریزی، ریاضی اور سائنس کے مضامین نہیں پڑھائے جاتے ہیں۔ایک ہی کلاس کے لڑکوں کے لئے الگ اور لڑکیوں کوالگ نصاب ترتیب دیا ہوا ہے۔ لڑکیوں کو قرآن، قصص الانبیا ، کتاب النکاح اور بہشتی زیور پڑھایا جاتا ہے۔ 13
پاکستان میں خصوصاً بلوچستان اور کے پی کے کے چند علاقوں میں لڑکیوں کو اس جواز کے ساتھ اسکول نہیں بھیجا جاتا ہے کہ ہمارا مذہب اس کی اجازت نہیں دیتا۔ دنیا میں کوئی بھی ایسا مذہب نہیں جو علم و تعلیم کی اجازت نہیں دیتا ہو۔ حدیث مبارکہ ہے کہ ’’علم حاصل کرو چاہے تمہیں چین جانا پڑے‘‘۔ اس حدیث میں صرف مردوں کو علم کی تلاش میں چین جانے کا ذکر نہیں کیا گیا۔ یہاں کچھ لوگ اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے مذہب کو استعمال کرتے ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق کے پی کے میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کی وجہ سے چھ لاکھ بچوں کا ایک سال یا اس سے زیادہ وقت ضائع ہوا۔ کئی اسکولوں کو بم سے اڑا دیا گیا اور 715 اسکولوں کو نقصان پہنچایا گیا۔14/1 دنیا کا کونسا مذہب اس قسم کے گھناؤنے اور پرتشدد احکامات کی اجازت دیتا ہے تو گویا اسلام کو علم و تعلیم کا منافی اور مخالف قرار دینا سراسر جھوٹ پر مبنی ہے۔ مندرجہ ذیل دی گئی حدیث اس کی دلیل ہے۔
’’علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے‘‘۔
طبقاتی نظام کے حقائق
ہمارے ملک میں کئی قسم کے نظام تعلیم رائج کرنے کے پیچھے کئی محرکات پوشیدہ ہیں اور یہ کہ سرمایہ دار اور جاگیردار طبقہ اوران کی اولاد ہمیشہ حکمران رہنے کا خواب اسی طبقاتی نظام تعلیم کی مرہون منت ہے۔ شعبہ تعلیم کے یہ درجات اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں اور اس سے حکمران طبقہ فائدہ اٹھاتا چلا آرہا ہے۔ ذرا سوچئے بیکن ہاؤس جیسے اسکول، سرکاری اسکول اور مدرسہ سے فارغ التحصیل طلباء عملی زندگی میں ایک دوسرے کا مقابلہ کیسے کرسکیں گے۔ مثال کے طور پر علامہ اقبال کا مضمون تینوں نظام سے فارغ التحصیل طلباء پڑھ کر آتے ہیں مگر تینوں نظاموں کے تدریسی مواد اور معلمین کے مختلف نقطہ نظر کی وجہ سے تین الگ الگ علامہ اقبال کے تصورات سامنے آتے ہیں۔ اس بارے ماہر تعلیم روبینہ سہگل کہتی ہیں۔
’’بعض مدارس کے طلباء میں عسکریت پسند رویہ بہت زیادہ فروغ پزیر ہے اسی طرح سرکاری اسکولوں کے طلباء میں یہ تناسب بہت زیادہ ہے لیکن یہ بھی نہیں ہے کہ نجی تعلیمی اداروں کے طلباء طالبات میں تعصبات نہیں ہیں۔ ریاست اور مدارس کے نصاب میں ایک دلچسپ فرق ہے۔ ریاستی نصاب بہت زیادہ بھارت کے مخالف ہے کیونکہ اسے  سیکیورٹی کے تناظر میں ترتیب دیا گیا ہے۔ لیکن مدارس کا نصاب ہندوؤں کے بہت زیادہ خلاف نہیں بلکہ یہ مغرب مخالف زیادہ ہے اور مغربی اقدار کی نفی کرتا ہے‘‘۔
اس کی وجہ سے تفریق اور بڑھتی چلی جاتی ہے۔ اعلیٰ طبقے کی اولاد اس نظام تعلیم کی وجہ سے بیورو کیریٹ، متوسط طبقے کے بچے کلرک جیسی چھوٹی نوکری اور مزدور کی اولاد مزدوری کرنے پر مجبور ہوتی ہے۔ کارل مارکس نے کہا تھا۔
’’حکمران طبقوں کے نظریات ہر دور میں حکمران نظریات رہے ہیں۔ جو طبقہ مادی ذرائع پیداوار پر حاوی ہوتا ہے اس طبقے کے نظریات بھی باقی نظریات پر حاوی ہوتے ہیں۔ جس طبقے کے قبضے میں ذرائع پیداوار ہوتے ہیں، اسی طبقے کے قبضے میں وہ ذرائع بھی ہوتے ہیں جو خیالات اور نظریات کی پیداوار کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ لہذا جن لوگوں کے پاس خیالات کے ذرائع پیداوار نہیں ہوتے وہ ان خیالات سے متاثر ہوتے ہیں جو حکمران طبقے تیار کرتے ہیں۔ وہ نظریات جو معاشرے میں غالب ہوتے ہیں معاشرے کے سماجی اور مادی رشتوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ مادی اور معاشی رشتے ہی خیالات کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ سماجی رشتوں میں کچھ طبقے دوسروں پر حاوی ہوتے ہیں لہذا حاکم کے خیالات اس عدم برابری کے ہی خیالات ہوتے ہیں۔ حکمران طبقوں کے پاس سوچ کے ذرائع اور ایک خاص شعور ہوتا ہے۔ لہذا وہ اس شعور کے تحت سوچتے ہیں۔ ان طبقوں کا کسی بھی دور کی ہر چیز پر غلبہ ہوتا ہے۔ وہ اپنی طاقت اور حکمرانی کو نظریات کے ذریعے بھی فروغ دیتے ہیں۔ وہ سوچ کے ذریعے بھی حکومت کرتے ہیں۔ وہ خیالات بنانے والوں کے طور پر اور دانشوروں کے طور پر بھی حاکم ہوتے ہیں۔ وہ اپنے وقت کے اور اپنے مفاد کے نظریات کی ساخت بھی کرتے ہیں اور ان نظریات کو معاشرے میں پھیلانے کے ذرائع پر بھی قابض ہوتے ہیں۔ لہذا ان کے نظریات ہی حکمراں نظریات بن جاتے ہیں‘‘۔
دوسری جانب مزدور اور غریب طبقے کے نوجوانوں کو ایسی تعلیم دی جاتی ہے کہ وہ اپنے حقوق کے لیے لڑنے کو گناہ کبیرہ سمجھتے ہیں۔ اول تو اس طبقے کو اپنے حقوق اور آزادی رائے سے واقف ہونے کا موقع فراہم نہیں کیا جاتاکیونکہ اس طبقے کو علم و آگاہی سے دور رکھنا حکمراں طبقے کے مفاد میں ہوتا ہے۔ اس سے ان کے مظالم کی پردہ پوشی بھی ہوتی ہے اور مذاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ علم و شعور کے فقدان کے سبب مزدور اور غریب طبقے کے کچھ لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ ان کا وجودمحض امراء اور حکمراں طبقے کی خدمت کرنا ہے۔ معاشرے میں حکمران نظریات کو نظام تعلیم اور زرائع ابلاغ کے ذریعے عام کیا جاتا ہے۔ ان نظریات کو معاشرے میں اس انداز سے پیش کرتے ہیں کہ تمام لوگ اسے حقیقت اور اپنا نظریہ تسلیم کرتے ہیں۔ اتنا ظلم سہتے ہیں کہ ظلم سہنے کو اپنی قسمت مانتے ہیں۔
پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور حکمرانوں نے اس نظام کو تناور درخت بنانے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ ڈاکٹر روبینہ اس بارے میں کہتی ہیں کہ پاکستان میں چاہے کوئی بھی نظریہ حاوی رہا ہو اس کے سرمایہ دارانہ نظام کی تشکیل میں مدد دی ہے۔ فوج نے اس نظام کو تحفظ بھی اور سرپرستی بھی کی اور ہر نظریے کو اس نظام کے لیے اچھے کارکن اور فوج کے لیے اچھے سپاہی فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا۔15
سرمایہ داری نظام ہر مرحلہ پر اپنے تقاضے بدلتا ہے اور ہر مرحلے پر تعلیمی نظام سے توقع ہوتی ہے کہ بہتر قسم کا مزدور فراہم کیا جائے جدیدیت اور جمہوریت دور سے تبدیلیاں ضرور آتی ہیں لیکن اس بات کی بے شمار دلائل ملتے ہیں کہ تعلیم کا سرمایہ داری معیشت سے گہرا رشتہ ہے۔ تعلیم پیداواری طبقے کی شناخت کے لیے اہم ہے کیونکہ یہ ’’اچھی‘‘ قدریں فراہم کرسکتی ہے بلکہ نئی نئی قسم کے ہنر اور علوم عام کرسکتی ہے۔ تعلیم کے ذریعے استحصالی پیداواری رشتوں کی ازسرنو تشکیل کی جاتی ہے۔
خواندہ افراد جو صرف 46 فیصد ہیں کس درجے کے معیاری تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ اس کا اندازہ مندرجہ ذیل رپورٹ پڑھ کر کیا جاسکتا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صوبہ سندھ میں پرائمری سطح پر 33 فیصد بچے ایک جملہ پڑھ سکتے ہیں۔ 27 فیصد مقامی یا اردو زبان میں اپنے سے نچلے جماعتوں کی کہانی پڑھ سکتے ہیں۔ 27 فیصد ایک سو سے چھوٹے اعداد کی حساب کتاب کرسکتے ہیں اور صرف 13 فیصد تین عددی تقسیم کرنے کے قابل ہوتے ہیں۔ صوبے میں 85 فیصد اسکول چار یا اس سے کم کمروں پر مشتمل ہیں۔ 20 فیصد اسکول نیا عمارت کے ہیں 60 فیصد پینے کے اور 60 فیصد اسکولوں کو ایک یا دو اساتذہ چلاتے ہیں۔16
دیگر صوبوں کی صورت حال بھی زیادہ مختلف نہیں۔ بلوچستان میں مجموعی طور پر 77.7 پرائمری اسکول جانے کی عمر کے بچے اسکول نہیں جاتے۔ اسکول جانے والوں میں 92.2 بچے اپنے سے ایک جماعت کم جو ایک سال قبل وہ پڑھ چکے ہیں میں موجود کہانی نہیں پڑھ سکتے ہیں اور 78 فیصد پچھلی جماعت کے جملے نہیں پڑھ سکتے۔ صوبہ بلوچستان میں اسکولوں کی کل تعداد 12,293 ہے۔ ان میں سے 8,092 بغیر چار دیواری کے ہیں۔ 846 بغیر چھت کے اور 9,579 اسکولوں بجلی کی سہولیات سے محروم ہیں۔ 8,827 ایسے اسکول ہیں جہاں ٹوائلٹ موجود نہیں۔17
آبادی کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے یعنی صوبہ پنجاب میں شعبہ تعلیم کی حالت بھی تشویش ناک ہے۔ البتہ دوسری صوبوں کے بنسبت اسے بہتر قرار دیا جاسکتا۔ یہاں 50 فیصد پرائمری اسکول جانے کی عمر کے بچے اسکول سے باہر ہیں۔ 18
گلگت بلتستان میں سرکاری تعلیمی اداروں کی تعداد نسبتاً کم ہے۔ مشرف حکومت میں یہاں پہلی قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی بنی۔ یہاں اعلیٰ تعلیم کے ادارے نہ ہونے کے سبب نوجوان ملک کے بڑے شہروں کا رخ کرتے ہیں۔ کالجوں کی سالانہ مردم شماری برائے سال 2010-11 کے مطابق گلگت بلتستان میں کل 20 کالج ہیں۔ 15 لڑکوں کے اور 5 لڑکیوں کے ان میں 4537 لڑکے اور 2909 لڑکیاں زیر تعلیم ہیں۔ پورے علاقے میں صرف تین ہائر سکنڈری تعلیمی ادارے ہیں ایک ضلع استور اور دو ضلع گانچھے میں۔ پرائمری اور میڈل اسکولوں کی کل تعداد 1008 ہیں ان میں ضلع گلگت میں 116، اسکردو 384، دیامر122، غذر 122، گانچھے 128، استور 112 اور ضلع ہنزہ- نگر میں 83  موجود ہیں. باقی صوبوں سے قدرے بہتر 73 فیصد بچوں کو پرائمری اسکول سطح تعلیم کی رسائی حاصل ہے اور جو 27 بچے اسکول میں داخل نہیں ہوپاتے۔ 5-9 سال کے بچوں کی تعداد 178496 ہے۔ ان میں 92554 لڑکے اور 85942 لڑکیاں شامل ہیں۔ 19
1947 میں یہاں صرف 3 میڈل اسکول اور 80 پرائمری اسکول موجود تھے۔ 66 سال گزرنے کے بعد آبادی میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے مگر ان سالوں میں محکمہ تعلیم پر زیادہ توجہ نہیں دے دی گئی۔ اسکول کی تعداد میں تو کسی حد تک اضافہ ہوا ہے مگر تعلیم کے معیار پر سمجھوتا کیا جاتا رہا ہے۔20/4 مردم شماری برائے سال 2010-11 کے مطابق سرکاری اسکولوں کی تعداد 1011 ہے۔ نیم پرائیوٹ اسکول 687 اور نجی اسکولوں کی تعداد 5555 ہے۔ اب دیگر صوبوں کی طرح نجی اسکولوں کی تعداد میں اضافہ آسانی سے دیکھا جاسکتا ہے۔ زیادہ پہلے نہیں دس پندرہ سال قبل گلگت میں ٹیوشن پڑھنا معیوب بات سمجھی جاتی تھی مگر اب کوچنگ سینٹر اور ٹیوشن سینٹر کلچر یہاں بھی رائج ہوتا جارہا ہے۔
نجی تعلیمی اداروں کی غیر موجودگی اور لوگوں کی ذاتی زمین کے مالک ہونے کے سبب یہاں طبقاتی فرق موجود نہیں تھا مگر چند سالوں سے اس علاقے میں بھی طبقاتی فرق پیدا ہوتا جارہا ہے۔ اس کی ایک وجہ نظام تعلیم ہے۔ چند برس پہلے سب بچے سرکاری تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرتے تھے۔ مگر دفاعی اداروں کے تحت چلنے والے تعلیمی اداروں مثلاً آرمی پبلک اسکول، کیڈٹ کالج وغیرہ کے بننے کے بعد نظام تعلیم طبقات میں بٹنا شروع ہوگیا۔ 66 سال گزرنے کے باوجود اس خطے میں حکومت نے کوئی میڈیکل اور انجنئرنگ یونیورسٹی نہیں بنائی اور نہ ہی کوئی فنی تعلیم کا ادارہ موجود ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ملک میں رائج نظام تعلیم کے مختلف اقسام سے فارغ التحصیل بچے عملی زندگی میں ایک دوسرے سے مقابلہ کرسکتے ہیں؟؟ کیا دونوں کا سوچنے اور جانچنے کا عمل ایک جیسا ہے؟؟ جواب نفی میں آتا ہے کیونکہ نجی اداروں سے تعلیم حاصل کرنے والوں کو روز اول سے ہی سرمایہ دارانہ سوچ کے حامل اساتذہ ، انتظامی امور پر فائز منتظمین اور والدین انھیں منافع کمانے اور مزدوروں سے زیادہ کام لینے کے گُرسیکھاتے ہیں۔ اس طرح طبقات میں موجود فاصلہ بڑھتا جاتا ہے۔ یوں نسل در نسل طبقات میں موجود فاصلے کو مزید وسیع کرنے میں نظام تعلیم بڑا اہم کردار ادا کرتا ہے۔ مخصوص نظام تعلیم سے نکلے نوجوان ملک کے وسائل پر قبضہ جماتا ہے اور وسائل کو ایک مخصوص دائرے میں صرف اپنے لیے استعمال کرتا ہے۔ جبکہ دوسرے طبقے کے نوجوان چونکہ ایک ایسے نظام تعلیم سے نکل کر آتے ہیں کہ اپنے اوپر قابض طبقے کا مقابلہ میدان تعلیم میں نہیں کرسکتا۔ کیونکہ وہ بے سرو سامانی کے عالم میں ہوتا ہے۔ اس لیے ان کی حالت مزید کمزور ہوتی چلی جاتی ہے۔ وہ معاشرتی، معاشی اور ذہنی طور پر خود کو مزید کمزور کرتے ہیں۔ یوں یہ طبقہ محنت مزدوری اور خدمت میں لگ جاتا ہے۔ یہاں سے کئی دیگر مسائل اس طبقے کے نوجوانوں کے سامنے آتے ہیں۔
پاکستان کے آئین کے شق نمبر 25 کے مطابق 5-16 سال کی عمر کے تمام بچوں کو اتبدائی اور بنیادی تعلیم فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔21 مگر پاکستانی حکومت پچھلے 66 سالوں سے آئین کے شق نمبر 25، 37A اور 38 کی شعوری طور پر خلاف ورزی کررہی۔ اب ایک ایسا نظام تعلیم ناگزیر ہے جس میں ہر فرد کو یکساں مواقع فراہم ہوں۔
نوجوانوں کا معروف انقلابی رہنما چی گویرا نے ایک مرتبہ اپنے گوریلا فائٹرز سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر تم چاہتے ہو کہ وہ (ارباب اختیار) تمہیں دھوکہ نہ دے سکیں تو لکھنا پڑھنا سیکھو۔ کیونکہ جو لکھنا پڑھنا جانتا ہو اسے آسانی سے دھوکہ نہیں دیا جاسکتا‘‘ ہمارے ارباب اختیار سختی سے اس بات پر عمل پیرا ہے کہ غریب طبقہ علم و تعلیم سے دور رہے۔ اس مقصد کے لیے نظام تعلیم کا سہارہ  لیتے ہیں۔ تعلیم تمام مسائل کا حل ہے مگر بدقسمتی سے ہمارے ملک کا نظام تعلیم ہی مزید مسائل پیدا کرتا ہے۔ کسی دینی مدرسے سے فارغ التحصل کا مقابلہ بالکل نہیں کرسکتا۔ کیونکہ مدرسے سے صرف عربی رٹ کر آتا ہے۔ لڑکیاں جو فقط بہشتی زیور اور کتاب النکاح کے مضامین پڑھ کر آتی ہیں عملی زندگی میں ان لڑکیوں سے کیسے مقابلہ کرسکیں گی جو سائنس کے بنیادی مضامین پڑھ کر آتی ہیں۔ چنانچہ ان میں ایک بہت بڑا خلیج پایا جاتا ہے۔ ان دونوں کے تدریسی مواد میں اتنا بڑا فرق ہے کہ دونوں ایک ٹیبل پر ایک ساتھ نہیں بیٹھ سکتے اگر بیٹھ بھی گئے تو ان کے سوچنے جانچنے اور پرکھنے کے انداز میں موجود فرق کی وجہ سے محاذ آرائی اور تصادم کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔ اسی طرح سرکاری تعلیمی ادارے کے طالب علم اور کیمبرج سسٹ کے طالب علم کا موازنہ کیسے کیا جاسکتا ہے؟ سرکاری اسکولوں کی حالت ناگفتہ بہ، اساتذہ اسکول سے غائب (مگر حاضری کے رجسٹر میں حاضر، اور تنخواہ وصول کرتے ہیں) اور احتساب کا کوئی نظام نہ ہونے کے سبب تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کا فقدان بھی پایا جاتا ہے۔
مدارس کا نصاب دیکھ کے  یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ وہاں کے طلباء کس سمت محو سفر ہیں اور ان کا مستقبل کیا ہوگا۔ انہیں ذہنی نشونما اور تربیت کا مواقعہ ہی فراہم نہیں کیا جاتا ہے تو بھلا ان سے توقعات کیونکر کرے۔ یہی مسئلہ سرکاری اور چھوٹے نجی اسکولوں کے ساتھ درپیش ہے۔ یہ طلباء بنیادی ضروریات سے محروم ہوتے ہیں۔ انہیں پڑھانے والے اساتذہ خود بغیر تربیت اور ناتجربہ کار ہوتے ہیں۔
دوسری جانب کیمرج اور بڑے نجی اسکولوں میں روز اول سے ہی بچوں کی تعلیم و تربیت کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ ای سی ڈی، بچپن کی ابتدائی نشونما کے لیے ابتدائی مخصوص دو تین سال لگادیے جاتے ہیں۔ اس دوران بچوں کو کھلونوں اور کھیل کود کے ذریعے بنیادی چیزیں پڑھائی جاتی ہیں۔ اساتذہ کو ماہرین نفسیات اور ماہرین تعلیم تربیت دیتے ہیں جبکہ سرکاری اسکول اور مدارس میں فرش پر یا پھٹے ٹاٹ پر بٹھایا جاتا ہے اور رٹایا جاتا ہے۔ اگر بچے کو سبق یاد نہیں ہوتا تو استاد؍قاری کاہل، سست، نالائق، کند زہن جیسے الفاظ استعمال کرتا ہے۔ بعض مدارس اور اسکولوں میں صرف باتوں پر اکتفا نہیں کیا جاتا ہے اخباری رپورٹ کے مطابق بعض استاد اور قاری ڈنڈے اور تار کی مدرسے جسمانی تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔ یہ الفاظ بچے کی شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں اور بچہ نفسیاتی طور پر خود کو کمزور محسوس کرنے لگتا ہے۔ ایک ایسا بچہ جسے بچپن سے لے کر نوجوانی کی عمر تک سیکھنے کے کئی مراحل اور اچھے درس گاہوں سے استفادہ اٹھایا اور دوسرا مدرسہ یا سرکاری اسکول کے پھٹے ٹاٹ پر قاری یا استاد سے ڈانٹ سن کر اور رٹ کر جوان ہوا ہو، دونوں میں کتنا خلیج ہوگا؟ کیا ان دونوں کو ایک ہی امتحان گاہ میں بٹھایا جاسکتا ہے؟ بالکل نہیں ان دونوں کی سوچ، مقاصد، اطوار، رائے حتیٰ کہ لب و لہجہ اور لباس بھی ایک دوسرے کے لیے قابل قبول نہیں ہوتا۔ لہذا اپنے تعلیمی اداروں سے فارغ ہو کر الگ الگ راستوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ وہ تمام نوجوان جن کی تعلیم و تربیت بڑے بڑے نجی اسکولوں مثلاً کیمرج سسٹم کے تحت ہوئی ہوں، انتظامی امور کو سنبھالتے ہیں جبکہ چھوٹے نجی اسکولوں اور سرکاری اسکولوں سے فارغ التحصیل نوجوان کلرکی سطح کی نوکری اور مدارس سے تعلیم پانے والے مساجد کے پیش امام یا پھر مدارس میں ہی درس و تدریس سے وابستہ ہو جاتے ہیں یوں ایک مخصوص طبقہ ملک کے وسائل اور انتظامی امور پر قابض ہوجاتا ہے اور امیر سے امیر تر ہو جاتا ہے دوسری طرف غریب خدمت گزاری اور غریب سے غریب تر ہوتا جاتا ہے ملک کا نظام تعلیم ان طبقات میں موجود خلیج میں مزید اضافہ کرتا ہے۔ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 38 کے مطابق عام آدمی کے معیار زندگی کو بلند کرکے دولت اور وسائل، پیداوار و تقسیم کو چند اشخاص کے ہاتھوں میں اس طرح جمع ہونے سے روک کر کہ اس سے مفاد نقصان پہنچے اور اجرو ماجور اور زمیندار و مزارع کے درمیان حقوق کی منصفانہ تقسیم کی ضمانت دے کر بلا لحاظ جنس وزارت مذہب یا نسل عوام کی فلاح و بہبود کی حصول کی کوشش کرے گی۔
(ب) تمام شہریوں کے لیے ملک میں دستیاب وسائل کے اندر معقول آرام و فرصت کے ساتھ کام اور مناسب روزی کی سہولتیں مہیا کرے گی۔ کیا یہ کھلا تضاد اور آئین کا انحراف نہیں؟ آئین بنانے والے ہی اس پر کوئی عمل نہیں کرتے۔
روبینہ سہگل کے مطابق علم اور طاقت کا آپس میں گہرا تعلق ہوتا ہے۔ اس لیے حاکم و محکوم دونوں استعمال کرتے ہیں۔ حکمران طبقے اور طاقت ور گروپ علم کو حکومت کرنے اور دوسروں پر کنٹرول کی غرض سے استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح محکوم طبقے، عورتیں اور اقلیتیں علم کو آزادی کی تحریکوں میں استعمال کرتے ہیں۔22 بچے کسی بھی قوم کا مستقبل اور ترقی کی ضمانت ہوتے ہیں۔ مہذب قومیں اپنے اس انمول خزانے کی حفاظت کرتی ہیں۔ اس کی نشونما میں بہتیرین دماغ اور کثیر بجٹ لگاتی ہیں۔مگر افسوس کہ ہم آج تک اجتماعی طور پر بچوں اور ملک کے نوجوان نسل کو اثاثے کے طور پر نہیں اپنا سکے ۔  یہ نسل بھی درجات اور طبقات کے مختلف حصوں میں بٹا ہوا ہے۔ روزنامہ ڈان کے ایک لکھاری نے ان بچوں کی درجہ بندی کچھ یوں کی ہے- امیر بچے، غریب بچے، صاحب کے بچے،دوست کے بچے، کام کرنے والے بچے، گلی میں آوارہ گھومنے والے بچے، سگنل پر زبر دستی گاڑی کے شیشے صاف کرنے اور گالیاں کھانے والے بچے، بھیک مانگتے بچے، چور بچے، بدمعاش بچے، بھوکے بچے، ننگے بچے، اسکول جاتے بچے اور اسکو ل کے باہر حسرت سے تکتے بچے ۔۔۔۔۔۔۔
کوئی شخص ڈنڈے یا لکڑی کی مدد سے کتے کو مارے اور تنگ کرے تو وہ کتا طیش میں آکر جواباً اس شخص پر حملہ کرتا ہے۔ وہ لکڑی کو نہیں کاٹتا مگر ہمارے لوگ ’’لکڑی‘‘ کو قصور وار ٹھہرا کر اسے سزا دینے کی بات کرتے ہیں اور اصل مجرم پس پردہ ہی رہ جاتا ہے۔ ہمارا رد عمل اس کتے سے بدتر ہے۔ وہ اصل مجرم کو پہنچانتا ہے اور بجائے لکڑی کو کاٹنے کے حملہ کرنے والے پر حملہ کرتا ہے۔ مگر ہمارا رویہ اور ردعمل اس کے برعکس ہے۔ نظام تعلیم کے اندر موجود خرابیاں اور کوتاہیاں اپنی جگہ مگر اس نظام کے چلانے والوں کو ہم پہچاننے کے باوجود کچھ نہیں کہتے۔ ہم اس نظام میں موجود طبقات کو برا کہتے ہیں مگر طبقات بنانے والا ہماری نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ملک کے عوام ’’لکڑی اور ڈنڈا‘‘ کو مجرم قرار دیکر اسے برا بھلا کہتے ہیں اور حملہ آور‘‘ کو یکسر بھلادیتے ہیں۔


حوالہ جات
1. Daily Jang, Taleem or Bajat, Muhammad Ahmad Sabzwari
2. http://www.thenational.ae/thenationalconversation/editorial/ghost-schools-are-failing-pakistans- potential#ixzz2yZE7mdR6
3. http://unesco.org.pk/education/teachereducation/files/sa4.pdf
4. http://oec.org.pk/projects/educure/3rd-edition/
5. http://bangesahar.net/?dt=06-11-2013
6. Tariq rehman
7. http://viewpointonline.net/2014/03/sexual-violence/3386-sexual-violence
8. http://tribune.com.pk/story/173622/child-rape-three-year-old-assaulted-by-madrassa-teacher/
9. http://blogs.tribune.com.pk/story/7600/maulvi-breaks-a-leg-literally/
10. http://tribune.com.pk/story/223768/madrassa-teacher-flees-after-torturing-2-students-for-four-months/
11. http://www.awaztoday.com/singlecolumn/247/Hamid-Mir/Bright-side-of-Madaris-education-system-in-Pakistan.aspx
12. http://www.wifaqulmadaris.org/downloads/N_M05.pdf
13. http://www.wifaqulmadaris.org/downloads/N_F5&6.pdf
14. Daily Jang, Taleem or Bajat, Muhammad Ahmad Sabzwari
15. Qumiat taleem or shanakht, Dr Rubina Segal
16. http://tribune.com.pk/story/135092/educating-girls-every-third-child-in-sindh-is-out-of-school/
17. http://tribune.com.pk/story/505189/for-many-children-of-balochistan-attending-school-is-not- an-option/
18. http://tribune.com.pk/story/550993/over-27-million-children-out-of-school/
19. Annual Education Census 2010-11, education department Government of GB
20. http://oec.org.pk/projects/educure/3rd-edition/
21. http://pakistanconstitutionlaw.com/article-25-equality-of-citizens/
22. Qumiat taleem or shanakht, Dr Rubina Segal
(published in CHALLENGE & Pamir Times Oct 11, 2014)

Tuesday, September 30, 2014

یاسین میں بروشسکی شاعری کا ارتقائی دور ..(حصہ دوم)

حالیؔ کہتے ہیں
’’ہر زبان میں نیچرل شاعری قدما کے حصے میں رہی ہے مگر قدما کے اول طبقے میں اس شاعری کو مقبولیت کا درجہ حاصل نہیں ہوتا ہے۔ انہی کا دوسرا طبقہ انہیں سڈول بناتا ہے مگر اس کی نیچرل حالت کو وہ اس خوشنمائی میں بھی بدستور رکھتا ہے۔ اس کے بعد متاخرین کا دور شروع ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ لوگ قدما کی تقلید سے باہر قدم نہیں رکھتے ہیں اور خیالات کے اسی دائرے میں محدود رہتے ہیں جو قدما نے ظاہر کیا تھا اور نیچر کے اس منظر سے جو قدما کے پیشِ نظر تھا آنکھ اٹھا کر دوسری طرف نہیں دیکھتے ہیں تو بھی ان کی شاعری رفتہ رفتہ نیچرل حالت سے تنزل کرتی ہے یہاں تک کہ وہ نیچر کے راہِ راست سے دور جا پڑتے ہیں۔ ‘‘
یاسین میں بولی جانے والی بروشسکی شاعری پرحالیؔ کا یہ تجزیہ مکمل صادق نہیں آتا کیونکہ جس قدر نیچرل شاعری قدما نے لکھی ہے بالکل اسی پائے کی نیچرل شاعری اس دور کے نوجوان شعراء کرنے لگے ہیں۔ چند سال قبل پروشسکی شاعری میں مرحوم مچھی کی شاعری جیسی شاعری ڈھونڈنے سے نہیں ملتی تھی کوئی توانّا مصرعہ سننے کو کان ترستے تھے سچ کہوں تو لوگ مایوس ہوگئے تھے۔ یہاں میں یہ بھی بتاتا چلوں کہ یہ سراسر زیادتی ہوگی کہ بروشسکی شاعری پہ بات کی جائے اور مرحوم مچھی کا ذکر نہ ہو۔ انھیں پروشسکی شاعری کا غالب ؔ کہا جاتا ہے۔ جس طرح غالبؔ کے تذکرے کے بغیر اردو ادب نامکمل سمجھی جاتی ہے اسی طرح یہ کہنا درست ہے کہ مچھی کے نام کے بغیر پروشسکی شاعری ادھوری ہے۔ ان کا تخیل کمال کا ہے وہ کبھی ورڑس ورتھ کی طرح خوبصورت نیچرل شاعری کرتے نظر آتے ہیں تو کبھی ناصر کاظمی کی طرح رومانیت کے پھول کھلاتے نظر آتے ہیں۔ جذبات کو نہایت خوبصورتی کے ساتھ شاعری کے دھاگے میں پروتے ہیں جس کی مثال کسی اور کے ہاں نہیں ملتی ۔ جیسا کہ ان کی یہ شاعری آج بھی نوجوانوں اور بچوں میں بھی یکساں مقبول ہے ۔
تھاوسا چھیران جی باتین سرحد چے لم بالیش
مولا غا حوالہ کُھو فکر کا مکُر ایتاس نے شُم قام چے کا بالیش
جوانی تے غیرت کھی گلی جہ ہرچمبا
گو خسمت اولے با تے سیتھا ر نِیا بلبل گو سپھتینگ ایچامبا
بَلیس جہ تالے چے، جا دینا جانیا خوروسی، یا خوروسی باکا سِن اُت گلاہ جہ بیچامبا
سیاست اکومن خوش اُن با نانی مو واخشی 
گوگُونگوم غانا کاچے بوری قوبامو جوا امِن زرگرِ واشلی
گو گندی چی گدیرو قالب گوچوم جدا جا روح بی گو بندی
چنانچہ میری طرح اور بھی کئی لوگ چند ساک قبل بروشسکی شاعری کے مستقبل سے مایوس ہو چلے تھے۔ چند لوگ ایسے بھی تھے جو ہماری طرح صرف ماتم کناں نہیں تھے بلکہ عملی طور پر بروشسکی شاعری کے اندیھرے دور میں اپنی شاعری کا دِیا جلائے پہنچ گئے اور’ اپنے حصے کے شمع جلاتے جاؤ‘ کے مصداق روشنی پھیلاتے گئے ان میں ایک نام محبوب یاسینی کا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ شاعری کو روحِ شعر سے ہم آہنگ کرنے کے لئے اسے کچھ ہم آواز ساز بھی درکا ہوتا ہے اوراگر خوبصورت آواز اسے چھُو لے تو وہ شاعری امر ہوجاتی ہے۔ محبوب یاسینی کی شاعری اور درد بھری آواز پچھلے چند سالوں سے یاسین میں بولی جانے والی بروشسکی سمجھنے والوں کے کانوں میں رس گھول رہی ہے۔ نوجوان نسل ان کی شاعری اور گلوکاری کا دلدادہ ہے ۔ وہ کہتے ہیں 
بہشتِ کٹر یسن پھت نوکوت جہ انہ چھیرام
گووے صپھا تنگ ایتوما اہوٹس اُوسنَ چھیرام
دنیا دورونگے گندی پھت نوکوت رہی ایتامبا
آؤو گوچھر نوت یسن گوگُوچوم متھنَ چھیرام
انے پھلالنگ دوخر، انے قلاہورے چھاغا
انے شفتلے ملِنگ، انے گِناہورے چھاغا
وِیری ٹونگ ٹنگ مایوم چِک گُیاٹوم بتھنِ ہوا
سرمہ گو تِیکے ایچام ، دُولا گو ہُن دَنا چھیرام 
بہشتِ کٹر یسن پھت نوکوت جہ انہ چھیرام
(اے بہشت نظیر وادی ، میرا وطن یسن! میں تجھ سے دور کیسے رہ پاؤں گا؟ تیرے سر سبزو شاداب کھیت، پھولو ں کی خوشبو، درختوں کا رقص لمحہ بہ لمحہ میرے ساتھ میرے خیالوں میں ہوتے ہیں۔ مگر مجبوریاں میری آنکھوں میں انسوؤں کو خاطر میں لائے بغیر مجھے تجھ سے دور لے جارہی ہیں ۔ میں تیری تعریف کرنے والے ہر شخص کا احترام کرتا ہوں اور سلام پیش کرتا ہوں )
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پچھلے چند سالوں میں اس خطے سے محبت اور خلوص دریائے سیاست میں ڈوب گئے ہیں۔ ایک ایسی آگ لگائی ہے کہ جس میں پورا خطہ جل رہا ہے اور نفرتوں کے شعلوں کی زد میں نوجوان نسل بے بال و پر پرندوں کی طرح بے بس دیکھائی دیتی ہے۔ ’خود کو تباہ کر لیا لیکن ملال بھی نہیں‘ کے مصداق آگ لگانے والے دور بیٹھے تماشہ دیکھ رہے ہیں اور جلنے والے خو د آج بھی اس آگ کو ایندھن فراہم کر رہے ہیں ۔ ایسے حالات میں محبوب یاسینی کی شاعری ایک گنگناتے ہوئے آئینے کی طرح دمک رہی ہے اور ان تمام مناظر کے علاوہ لوگوں کو تصویر کا دوسرا رخ ، علاقے کا تہذیب و تمدن اور یہاں کے باشندوں کا خلوص و محبت بھی دیکھاتی نظر آتی ہے۔ وہ کہتے ہیں
خدایا عُضُردُوا جا بتھن اُم سیس ہن اوتیس
اُس اولے ذنگ دُولوما ننگ یاکالا گَنن اوتیس
رسولے چھور سینومام مِن کا مِن چوم تھانوم اپائے
قوم، مذہب دیساس سیس می ہرنگ زر چھن اوتیس 
خدایا عُضُردُوا جا بتھن اُم سیس ہن اوتیس
(رب کائنات سے میری دعا ہے کہ میرے علاقے سے لسانی و مذہبی نفرتوں کو دفع کرے اور تفرقہ پھیلانے والوں کو سیدھی راہ دیکھادے۔ رسول خدا نے فرمایا تھا کہ کسی عربی کو عجمی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں ہے۔ )
بروشسکی کے نوجوان شاعر بشارت شفیع نے بھی ان حالات کی بہت خوبصورتی سے عکاسی کی ہے۔ وہ نفرتوں کو مٹانے کے لئے محبت، الفت اور خلوص جیسے الفاظ شاعری کی لڑی میں ایسی خوبصورتی سے پیروتے ہیں کہ اگر چنگیز خان سنے تو شاید اپنے کئے پر پشیماں ہوجائے۔
اجو متھن نُوہُوروٹ شُم میمانِن
دوہون میرن چے می دُوچھرا چھیران
میسے مُلتن یاٹے نُکر مِن تِس نیت
اکھونگ چُوم میہانے خبر میمایان
چُولینی ہن مانیس می ہن ماکوچی
سیس ہرنگ می ہنَ نُوقر میمایان 
اکھونگ چُوم میہانے خبر میمایان
(ہمارے درمیان کتنی دوریاں پیدا ہوگئی ہیں اور کتنی برائیاں جنم لے رہی ہیں؟ آئیے آج ان تمام نفرتوں کو بھلا کر ایک دوسرے کو گلے لگاتے ہیں۔ آئیے آج اپنے جگر کے خون سے لکھ کر یہ عہد کرتے ہیں کہ آئندہ ایک دوسرے کا خیال رکھیں گے۔ )
(جاری ہے)
published in Pamir Times Aug 10, 2014 
http://pamirtimes.net/urdu/archives/14089

Sunday, September 28, 2014

بحث و تکرار (سرسید احمد خان)

جب کتے آپس میں مل کر بیٹھتے ہیں تو پہلے تیوری چڑھا کر ایک دوسرے کو بری نگاہ سے آنکھیں بدل بدل کر دیکھنا شروع کرتے ہیں۔ پھر تھوڑی تھوڑی گونجیلی آواز ان کے نتھنوں سے نکلنے لگتی ہے۔ پھر تھوڑا سا جبڑا کھلتا ہے اور دانت دکھلائی دینے لگتے ہیں اور حلق سے آواز نکلنی شروع ہوتی ہے۔ پھر باچھیں چر کر کانوں سے جا لگتی ہیں اور ناک سمٹ کر ماتھے پر چڑھ جاتی ہے۔ ڈاڑھوں تک دانت باہر نکل آتے ہیں۔ منہ سے جھاگ نکل پڑتے ہیں اور عنیف آواز کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور ایک دوسرے سے چمٹ جاتے ہیں۔ اس کا ہاتھ اس کے گلے میں اور اس کی ٹانگ اس کی کمر میں۔ اس کا کان اس کے منہ میں اور اس کا ٹینٹوا اس کے جبڑے میں۔ اس نے اس کو کاٹا اور اس نے اس کو پچھاڑ کر بھنبھوڑا۔ جو کمزور ہوا دم دبا کر بھاگ نکلا۔ نامہذب آدمیوں کی مجلس میں بھی آپس میں اسی طرح تکرار ہوتی ہے۔ پہلے صاحب سلامت کر کر آپس میں مل بیٹھتے ہیں۔ پھر دھیمی دھیمی بات چیت شروع ہوتی ہے۔ ایک کوئی بات کہتا ہے۔ دوسرا بولتا ہے واہ یوں نہیں یوں ہے۔ وہ کہتا ہے واہ تم کیا جانو۔ وہ بولتا ہے تم کیا جانو۔ دونوں کی نگاہ بدل جاتی ہے۔ تیوری چڑھ جاتی ہے۔ رخ بدل جاتا ہے۔ آنکھیں ڈراؤنی ہو جاتی ہیں۔ باچھیں چر جاتی ہیں۔ دانت نکل پڑتے ہیں۔ تھوک اڑنے لگتا ہے۔ باچھوں تک کف بھر آتے ہیں۔ سانس جلدی چلتا ہے۔ رگیں تن جاتی ہیں۔ آنکھ، ناک، بھوں، ہاتھ عجیب عجیب حرکتیں کرنے لگتے ہیں۔ عنیف عنیف آوازیں نکلنے لگتی ہیں۔ آستین چڑھا، ہاتھ پھیلا، اس کی گردن اس کے ہاتھ میں اور اس کی ڈاڑھی اس کی مٹھی میں لپّا دکّی ہونے لگتی ہے۔ کسی نے بیچ بچاؤ کر کر چھڑا دیا تو غراتے ہوئے ایک اِدھر چلا گیا اور ایک اُدھر اور اگر کوئی بیچ بچاؤ کرنے والا نہ ہوا تو کمزور نے لپٹ کر کپڑے جھارتے سر سہلاتے اپنی راہ لی۔ جس قدر تہذیب میں ترقی ہوتی ہے اسی قدر اس تکرار میں کمی ہوتی ہے۔ کہیں غرفش ہو کر رہ جاتی ہے تو کہیں تو تکار تک نوبت آ جاتی ہے۔ کہیں آنکھیں بدلنے اور ناک چڑھانے اور جلدی جلدی سانس چلنے ہی پر خیر گذر جاتی ہے۔ مگر ان سب میں کسی نہ کسی قدر کتوں کی مجلس کا اثر پایا جاتا ہے۔ پس انسان کو لازم ہے کہ اپنے دوستوں سے کتوں کی طرح بحث و تکرار کرنے سے پرہیز کرے۔ انسانوں میں اختلافِ رائے ضرور ہوتا ہے اور اس کو پرکھنے کے لیے بحث و مباحثہ ہی کسوٹی ہے اور اگر سچ پوچھو تو بے مباحثہ اور دل لگی کے آپس میں دوستوں کی مجلس بھی پھیکی ہے۔ مگر ہمیشہ مباحثہ اور تکرار میں تہذیب اور شائستگی، محبت اور دوستی کو ہاتھ سے دینا نہ چاہیے۔ پس اے میرے عزیز ہم وطنو۔ جب تم کسی کے برخلاف کوئی بات کہنی چاہو یا کسی کی بات کی تردید کا ارادہ کرو تو خوش اخلاقی اور تہذیب کو ہاتھ سے مت دو۔ اگر ایک ہی مجلس میں دو بدو بات چیت کرتے ہو تو اور بھی زیادہ نرمی اختیار کرو۔ چہرہ، لہجہ، آواز، وضع، لفظ اس طرح رکھو جس سے تہذیب اور شرافت ظاہر ہو مگر بناوٹ بھی نہ پائی جاوے۔ تردیدی گفتگو کے ساتھ ہمیشہ سادگی سے معذرت کے لفظ استعمال کرو مثلاً یہ کہ میری سمجھ میں نہیں آیا یا شاید مجھے دھوکا ہوا یا شاید میں غلط سمجھا گو بات تو عجیب ہے مگر آپ کے فرمانے سے باور کرتا ہوں۔ جب دو تین دفعہ بات کا الٹ پھیر ہو اور کوئی اپنی رائے کو نہ بدلے تو زیادہ تکرار مت بڑھاؤ۔ یہ کہہ کر کہ میں اس بات کو پھر سوچوں گا یا اس پر پھر خیال کروں گا، جھگڑے کو کچھ ہنسی خوشی دوستی کی باتیں کہہ کر ختم کرو۔ دوستی کی باتوں میں اپنے دوست کو یقین دلاؤ کہ اس دو تین دفعہ کی الٹ پھیر سے تمہارے دل میں کچھ کدورت نہیں آئی ہے اور نہ تمہارا مطلب باتوں کی اس الٹ پھیر سے اپنے دوست کو کچھ تکلیف دینے کا تھا کیونکہ جھگڑا یا شبہ زیادہ دنوں تک رہنے سے دونوں کی محبت میں کمی ہو جاتی ہے اور رفتہ رفتہ دوستی ٹوٹ جاتی ہے اور ایسی عزیز چیز (جیسے کہ دوستی) ہاتھ سے جاتی رہتی ہے۔ جب کہ تم مجلس میں ہو جہاں مختلف رائے کے آدمی ملے ہوئے ہیں تو جہاں تک ممکن ہو جھگڑے اور تکرار اور مباحثے کو آنے مت دو۔ کیونکہ جب تقریر بڑھ جاتی ہے تو دونوں کو ناراض کر دیتی ہے۔ جب دیکھو کہ تقریر لمبی ہوتی جاتی ہے اور تیزی اور زور سے تقریر ہونے لگی ہے تو جس قدر جلد ممکن ہو، اس کو ختم کرو۔ اور آپس میں ہنسی خوشی مذاق کی باتوں سے دل کو ٹھنڈا کر لو۔ میں چاہتا ہوں کہ میرے ہم وطن اس بات پر غور کریں کہ ان کی مجلسوں میں آپس کے مباحثے اور تکرار کا انجام کیا ہوتا ہے۔

Tuesday, July 15, 2014

ادب اور فن کا رشتہ

فن ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ادب اپنی صورت دیکھ کر سنورتا ہے اور بناو سنگار کرتا ہے۔ فن کا ادب سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔ جس طرح ایک ادیب اور لکھاری معاشرے میں موجود کسی برائی کو الفاظ کی شکل میں منظر عام پر لاتا ہے اور قارئیں تک پہنچاتا ہے بالکل اسی طرح ایک فنکار اشکال کی مدد سے یہی کام سر انجام دیتا ہے۔ ایک آرٹسٹ اپنے اردگرد کے مسائل پر باریک بینی سے غور کرتا ہے اور اسے اشکال یعنی پینٹنگ یا مجسمہ سازی کی مدد سے کینوس پر اتارتا ہے۔ آرٹ اور فن کی کئی اقسام ہیں ۔ مثلآ خطاطی، مجسمہ سازی ، ڈرامہ، تھیٹر، موسیقی وغیرہ۔ ان تمام اقسام کا ادب سے دامن چولی جیسا رشتہ ہے۔ اس کی ایک خوبصورت مثال اردو گیت یا غزل کی ہے۔ اگر شاعری اور گیت صرف لکھ کر چھوڑ دیا جائے تو عوام میں اتنا مقبول نہیں ہوتا مگر جب فنکار کی آواز اس کو چھوتی ہے تو زیادہ لوگوں تک پہنچ جاتا ہے اور مقبول ہوجاتاہے۔ اگر ناصر کاظمی کی مشہور غزل "دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی" کو مہدی حسن خان نے نہیں گائی ہوتی تو شاید آج کتابوں میں دفن ہوچکی ہوتی۔ اردو ادب کی ترویج میں جتنا کام ادیبوں نے کیا اتنا ہی کردار فن کاروں نے بھی اردو ادب کی خدمت کے لئے ادا کیا ہے۔ یہ بات صرف اردو ادب کے لئے نہیں بلکہ دنیا کے ہر ادب کے لئے کہی جاسکتی ہے چاہے انگریزی ادب ہو یا فراسیسی۔ فن کاروں نے ادب کی ترویج و ترقی کے لئے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اردو میں صادقین کے نام سے کون واقف نہیں؟؟ انھوں نے اپنی شاندار خطاطی اور بے مثال پینٹنگز میں اردو نہ صرف ملک میں بلکہ بین الاقوامی سطح پر متعارف کرایا۔ انھوں نے اپنی رعبا ئیوں کو کینوس پر اتنی خوبصورت سے اتارا ہے کہ دیکھنے والا دھنگ رہ جاتا ہے۔ مشہور آرٹسٹ گل جی کی قرانی آیات کی خطاطی بھی اس کی ایک مثال ہے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ سنیما کی کہانی یا اسکرپٹ ادب کا ایک ٹکڑا ہوتا ہے. یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ اگر ادب نہیں توسنیما کی بنیاد ہی ختم ہوجائے اور اگر وہی اسکرپٹ فلم یا ڈرامے کی شکل میں وسیع پیمانے پر ادیب کے پیغام کو پہنچاتی ہے جو فن اداکاری کے بغیر ممکن نہیں۔ اس لئے یہ بات سو فیصد درست ہے کہ ادب اور فن میں چولی دامن کا رشتہ ہے۔

Monday, June 30, 2014

Sir, You are great

پہلا منظر شدید گرمی ہے، درجہء حرارت 42 ڈگری سنٹی گریڈ ۔۔ ۔کراچی کے ایک مصروف شاہراہ کو چند پولیس اہلکاروں نے بند کیا ہوا ہے اور چوکس کھڑے ہیں ۔اس روڈ پرپھنسے لو گ شدید گرمی کی تمازت سے پسینے سے شرابور ہیں ۔موٹر سائیکل اور سائیکل سوار افراد سر تا پا پسینے میں نہار ہے ہیں ۔بسوں اور کو چز کے مسافر وں کی حالت بُری ہے ۔گرمی اور ضرورت سے زیادہ سواری کے سبب دم گٹھ رہا ہے ٹریفک کی لمبی لائن میں گدھا گاڑی کے گدھے کے منہ سے رال ٹپک رہا ہے اور مالک اپنی آنکھوں کو سورج کی تپش سے بچانے کی ناکام کوشش کررہا ہے۔لاچاری ،بے بسی اور غصہ گدھے سمیت اس منظر میں شامل تمام لوگوں میں آسانی سے دیکھی جا سکتی ہے۔ دوسرا منظر گاڑیوں کی لمبی قطار ہے، آگے اور پیچھے پولیس اور رینجرز اہلکار وں کی گاڑیاں۔ ان کے درمیان میں چند چمکتی گاڑیاں ،جن کی پچھلی نشستوں پر بندوق بردا ر افراد ۔۔۔ اے سی کی ٹھنڈی ہوا میں لوگ آرام سے بیٹھے ہیں کچھ لوگ خوش گپیوں میں مصروف ہیں اور چند جدید موبائل فونزپر گانے سننے کے ساتھ ساتھ فیس بک اورٹویٹر کو اب ڈیڈ کررہے ہیں ۔گاڑیوں کا یہ قافلہ سائرن بجاتا ہوا جس سڑک سے گزرتا،وہاں کا منظر بالکل پہلے منظر کے جیسا ہو جا تاہے۔ باہر کھڑے لوگ حسرت بھری نگاہوں سے اس قافلے کو دیکھتے ہیں اورکچھ غصے اور نفرت سے۔۔۔ تیسرا منظر ہسپتال کے بیڈ پر ایک10,12سالہ لڑکی لیٹی ہے اس کے ہاتھ میں پانچ ہزار کا کڑک نوٹ چمک رہا ہیں ۔ بیڈ شیٹ اتنے گندے کہ شایدمہینوں سے نہ دھلے ہوں ۔جگہ جگہ داغ دھبےَ َََََََََََ……..سفید چادر پر دو چار سفید دھبے بھی نظر آرہے تھے باقی کالے رنگ کا معلوم ہوتا ہے۔ کمرے کی کھڑی پان اور گٹکا تھوکنے کی وجہ سے لال ہوئی ہے، دیواریں اور الماری گردوغبار سے اٹے ہوئے ہیں ۔لڑکی کے ساتھ بیٹھی ادھیڑ عمر کی خاتون کبھی پانچ ہزار کے نوٹ کو دیکھتی اور کبھی لڑکی کے زرد چہرے کو…..اور کبھی سفید کپڑوں میں ملبوس صاحب کو جس نے پانچ ہزار کے نوٹ سے’ نوازا‘ تھااور کبھی تصویریں اتارتے لوگوں کو………. چوتھا منظر سفید کپڑوں میں ملبوس شخص نے جھاڑو پکڑ کر کھڑکی پر پڑے گھوٹکے کو صاف کیا ۔نیکون کا کیمرا تھامے شخص اور اسمارٹ فون سے لوگوں نے تصویرے اُتار ی پھر ان صاحب نے باتھ رو م کی بالٹی میں ادھا پانی بھر کر گندے ٹائلوں پر گرایا۔ 8,10نئے بیڈ شیٹ انتظامیہ سے منگوائے ۔پلاسٹک کی تھیلیوں میں لایا گیا کھانا ’’صاحب‘‘مریضوں کو اپنے ہاتھوں سے دے دیا۔اپنی جیب سے اور اپنے ہمراہیوں سے لیکر کچھ مریضوں کو نقد تھمایا۔ایک ایک لمحے کی تصویریں اُتاری گئی ۔ نیکون کیمرے والا شخص نہایت پُھرتیلا تھا۔ وہ کبھی بیڈ پر (جن کے بیڈ شیڈ چند لمحے قبل تبدیل کئے گئے تھے )کبھی کرسی پر چڑھ کر صاحب کی تصور اُتارتا۔۔ ایک شخص اسمارٹ فون سے تصویریں لیکر فوراً ٰفیس بک کو اب ڈیٹ کر رہاتھا ۔ یہ تمام مناظر چیف سکٹر یری سند ھ سجاد سلیم ہو تیانہ کے لیاری ہسپتال کے دورے کے ہیں ۔ سفید کپڑوں میں ملبوس صاحب ’’ہر دلعزیز‘‘ چیف سکٹریری صاحب ہیں فیس بک پر اِب کے مداحوں کی تعداد 32000 سے تجاوز کر گئی ہے ۔ اس دن ان کی گاڑیوں کے قافلے میں میں بھی اے سی میں آرام سے بیٹھ کر باہر کے مناظر کو دیکھ رہا تھا ۔ دوسرے منظر میں تپتی دھوپ میں کھڑے لوگوں کی بے بسی دیکھ کر مجھے خود سے نفرت ہو رہی تھی کیونکہ بالکل اسی طرح میں خود بھی کئی بارٹریفک میں پھنس چکا ہوں۔ میں لوگوں کی آنکھوں میں موجود غصہ اور نفرت دیکھ سکتا تھا۔ ان کی لاچاری ، بے بسی کو بھی محسوس کر سکتا تھا، مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ لوگوں نے گاڑیوں کے اس قافلے کو اور ان میں سوار لوگوں کو (جن میں میں بھی شامل تھا) کن کن ’القابات‘ سے نوازا ہوگا اور کیسی ننگی ننگی گالیاں دی ہونگی۔ مگر یہ ’’بے وقوف لوگ‘ ‘ کیا جانیں کہ ہم انہی کی ’’خدمت‘‘ کی خاطر اتوار کو وقت نکال کر چیف سکڑیری صاحب کے ساتھ سرکاری اسپتال کے دورے پر گئے تھے۔ ٹھیک ایک گھنٹہ بعد گھر پہنچ کر میں نے جب فیس بک کھولا تو اسی بچی کی تصویر میرے کمپیوٹر اسکرین پر آگئی جس کے ہاتھ میں پانچ ہزار کا کڑک نوٹ تھااس کے نیچے چار سو لوگوں نے تبصرہ (comments) اور ہزار لوگوں نے پسندیدگی (Likes) کا اظہا ر کیا تھا۔ چند تبصرے کچھ یوں تھے۔ God bless you Sir, you are great

Saturday, June 21, 2014

افسوس کہ اندھے بھی ہیں اور سو بھی رہے ہیں

گلگت بلتستان اسمبلی کے ارکان جن کی نظر میں مخلوط نظام تعلیم علاقائی تہذیب و تمدن اور روایات کا متصادم ہے سے چند سوالات پوچھنا چاہتا ہوں۔ یہ سوالات مُلّا برادری ، اور ان کے ہم خیال لکھاری اور مذہب اور کے ٹھیکیداداروں کے لئے بھی ہیں جو مخلوط نظام تعلیم کو معاشرتی مسائل کا اہم پہلو قرار دیتے ہیں۔ کیا کرپشن علاقائی رسم و رواج کا متصادم نہیں؟کیا ہمارا رسم و رواج اقربا پروری کا درس دیتا ہے؟کیا ہمارا تہذیب غریبوں کا حق چھیننے کا حکم دیتا ہے؟کیا میرٹ کا قتل عام تہذیب کا کوئی پہلو ہے؟کیا علاقے میں مسلکی منافرت مخلوط نظام تعلیم پھیلاتا ہے؟کیا ایک دوسرے کے خلاف کفر کے فتوے مخلوط نظام تعلیم دیتا ہے؟کیا تاریخ کا جنازہ مخلوط نظام تعلیم نکالتا ہے؟کیا جنّت کے سر ٹیفیکٹ مخلوط نظام تعلیم بانٹتا ہے؟کیا 1988ء کا قتلِ عام اور انسانیت کی بے حرمتی مخلوط نظام تعلیم کے سبب ہوئی تھی؟کیا علاقے میں ہتھیار اور چرس مخلوط نظام تعلیم لے کر آیا؟ ان تمام سوالات کا جواب ’’نہیں‘‘ہے۔ حکمران ہر دور میں نظام تعلیم اور نصاب کے زریعے اپنے نطریات عوام پر مسلط کرتا ہے اس میں ملّا برادری اہم کردار ادا کرتا ہے۔ مجوزہ فیصلہ بھی ایک ایسی کڑی ہے اور ملّا حسبِ معمول حکمرانوں کا ہاتھ بٹا رہا ہے۔ مذہب کو ٹشو پیپر کی طرح اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنا کوئی نئی بات نہیں یہ شیخ و ملا کا پرانا وطیرہ ہے۔ وہ شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ (روایات کے مطابق) مسلمان حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے پاس احادیث پوچھنے آیا کرتے تھے۔ غزوات اور جنگوں میں مسلمان خواتین پانی پلایا کرتی تھیں۔رسول اللہ نے غزوہ بدر کے پڑھے لکھے قیدیوں کو مسلمانوں کو تعلیم دینے کا حکم دیا تھا مگر اس میں مردوں اور خواتین کو الگ الگ تعلیم دینے کا ذکر کہیں نظر نہیں آتا۔ پیغمبرِ اسلام نے فرمایا تھا’’علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے‘‘ اس حدیث میں صرف مسلمان مرد نہیں کہا ہے بلکہ’’ مسلمان ‘‘ جس میں مرد اور عورت دونوں شامل ہوتے ہیں ۔ ہمارے ایک محترم کالم نویس نے مخلوط نظام تعلیم کو منشیات کا استعمال، خودکشی، شادی سے قبل حمل، جنسی بے راہ روی، طالبات کی حق تلفی، خاندانی نظام کی تباہی، والدین کا اولاد پر عدم کنٹرول، طلاق کی بڑھتی شرع، معاشرتی و سماجی انتشار، اکیلی ماؤں کا کلچر، عدم برداشت، شوہر کو غلام سمجھنے کی روش، نفسیاتی مسائل اور زنا بالجبر جیسے مسائل کا زمہ دارقرار دیا ہے اوراسے فطری قوانین کا خلاف کہتے ہیں۔ ایسے افراد کا عورت کو برابری کے حقوق دینا کجا وہ عورت کو انسان ہی نہیں سمجھتے ہیں ان کے لئے عورت بچے پیدا کرنے والی مشین کے سوا کچھ نہیں ۔ ان تمام مسائل کی ذمہ داری مخلوط نظام تعلیم پر عاید کرنا سمجھ سے بالاتر اور بد دیانتی ہے۔ انہی کے مطابق صدیوں پہلے یورپ بھی مخلوط نظام تعلیم کا مخالف تھا ۔ مگر آج یورپ ایسی بے وقوفی نہیں کرتا۔ اگر وہ مسلمانوں کی طرح غیر اہم مسائل میں الجھا رہتا توسیارے تسخیر نہیں کر پاتا۔ ہمارے انحطاط کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ آگے سفر کرنے کے بجائے اپنے’’ شاندار‘‘ ماضی کا گرفتار ہیں. بے علم بھی ہم لوگ ہیں، غفلت بھی ہے طاری افسوس کہ اندھے بھی ہیں اور سو بھی رہے ہیں