Tuesday, July 15, 2014

ادب اور فن کا رشتہ

فن ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ادب اپنی صورت دیکھ کر سنورتا ہے اور بناو سنگار کرتا ہے۔ فن کا ادب سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔ جس طرح ایک ادیب اور لکھاری معاشرے میں موجود کسی برائی کو الفاظ کی شکل میں منظر عام پر لاتا ہے اور قارئیں تک پہنچاتا ہے بالکل اسی طرح ایک فنکار اشکال کی مدد سے یہی کام سر انجام دیتا ہے۔ ایک آرٹسٹ اپنے اردگرد کے مسائل پر باریک بینی سے غور کرتا ہے اور اسے اشکال یعنی پینٹنگ یا مجسمہ سازی کی مدد سے کینوس پر اتارتا ہے۔ آرٹ اور فن کی کئی اقسام ہیں ۔ مثلآ خطاطی، مجسمہ سازی ، ڈرامہ، تھیٹر، موسیقی وغیرہ۔ ان تمام اقسام کا ادب سے دامن چولی جیسا رشتہ ہے۔ اس کی ایک خوبصورت مثال اردو گیت یا غزل کی ہے۔ اگر شاعری اور گیت صرف لکھ کر چھوڑ دیا جائے تو عوام میں اتنا مقبول نہیں ہوتا مگر جب فنکار کی آواز اس کو چھوتی ہے تو زیادہ لوگوں تک پہنچ جاتا ہے اور مقبول ہوجاتاہے۔ اگر ناصر کاظمی کی مشہور غزل "دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی" کو مہدی حسن خان نے نہیں گائی ہوتی تو شاید آج کتابوں میں دفن ہوچکی ہوتی۔ اردو ادب کی ترویج میں جتنا کام ادیبوں نے کیا اتنا ہی کردار فن کاروں نے بھی اردو ادب کی خدمت کے لئے ادا کیا ہے۔ یہ بات صرف اردو ادب کے لئے نہیں بلکہ دنیا کے ہر ادب کے لئے کہی جاسکتی ہے چاہے انگریزی ادب ہو یا فراسیسی۔ فن کاروں نے ادب کی ترویج و ترقی کے لئے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اردو میں صادقین کے نام سے کون واقف نہیں؟؟ انھوں نے اپنی شاندار خطاطی اور بے مثال پینٹنگز میں اردو نہ صرف ملک میں بلکہ بین الاقوامی سطح پر متعارف کرایا۔ انھوں نے اپنی رعبا ئیوں کو کینوس پر اتنی خوبصورت سے اتارا ہے کہ دیکھنے والا دھنگ رہ جاتا ہے۔ مشہور آرٹسٹ گل جی کی قرانی آیات کی خطاطی بھی اس کی ایک مثال ہے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ سنیما کی کہانی یا اسکرپٹ ادب کا ایک ٹکڑا ہوتا ہے. یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ اگر ادب نہیں توسنیما کی بنیاد ہی ختم ہوجائے اور اگر وہی اسکرپٹ فلم یا ڈرامے کی شکل میں وسیع پیمانے پر ادیب کے پیغام کو پہنچاتی ہے جو فن اداکاری کے بغیر ممکن نہیں۔ اس لئے یہ بات سو فیصد درست ہے کہ ادب اور فن میں چولی دامن کا رشتہ ہے۔

Monday, June 30, 2014

Sir, You are great

پہلا منظر شدید گرمی ہے، درجہء حرارت 42 ڈگری سنٹی گریڈ ۔۔ ۔کراچی کے ایک مصروف شاہراہ کو چند پولیس اہلکاروں نے بند کیا ہوا ہے اور چوکس کھڑے ہیں ۔اس روڈ پرپھنسے لو گ شدید گرمی کی تمازت سے پسینے سے شرابور ہیں ۔موٹر سائیکل اور سائیکل سوار افراد سر تا پا پسینے میں نہار ہے ہیں ۔بسوں اور کو چز کے مسافر وں کی حالت بُری ہے ۔گرمی اور ضرورت سے زیادہ سواری کے سبب دم گٹھ رہا ہے ٹریفک کی لمبی لائن میں گدھا گاڑی کے گدھے کے منہ سے رال ٹپک رہا ہے اور مالک اپنی آنکھوں کو سورج کی تپش سے بچانے کی ناکام کوشش کررہا ہے۔لاچاری ،بے بسی اور غصہ گدھے سمیت اس منظر میں شامل تمام لوگوں میں آسانی سے دیکھی جا سکتی ہے۔ دوسرا منظر گاڑیوں کی لمبی قطار ہے، آگے اور پیچھے پولیس اور رینجرز اہلکار وں کی گاڑیاں۔ ان کے درمیان میں چند چمکتی گاڑیاں ،جن کی پچھلی نشستوں پر بندوق بردا ر افراد ۔۔۔ اے سی کی ٹھنڈی ہوا میں لوگ آرام سے بیٹھے ہیں کچھ لوگ خوش گپیوں میں مصروف ہیں اور چند جدید موبائل فونزپر گانے سننے کے ساتھ ساتھ فیس بک اورٹویٹر کو اب ڈیڈ کررہے ہیں ۔گاڑیوں کا یہ قافلہ سائرن بجاتا ہوا جس سڑک سے گزرتا،وہاں کا منظر بالکل پہلے منظر کے جیسا ہو جا تاہے۔ باہر کھڑے لوگ حسرت بھری نگاہوں سے اس قافلے کو دیکھتے ہیں اورکچھ غصے اور نفرت سے۔۔۔ تیسرا منظر ہسپتال کے بیڈ پر ایک10,12سالہ لڑکی لیٹی ہے اس کے ہاتھ میں پانچ ہزار کا کڑک نوٹ چمک رہا ہیں ۔ بیڈ شیٹ اتنے گندے کہ شایدمہینوں سے نہ دھلے ہوں ۔جگہ جگہ داغ دھبےَ َََََََََََ……..سفید چادر پر دو چار سفید دھبے بھی نظر آرہے تھے باقی کالے رنگ کا معلوم ہوتا ہے۔ کمرے کی کھڑی پان اور گٹکا تھوکنے کی وجہ سے لال ہوئی ہے، دیواریں اور الماری گردوغبار سے اٹے ہوئے ہیں ۔لڑکی کے ساتھ بیٹھی ادھیڑ عمر کی خاتون کبھی پانچ ہزار کے نوٹ کو دیکھتی اور کبھی لڑکی کے زرد چہرے کو…..اور کبھی سفید کپڑوں میں ملبوس صاحب کو جس نے پانچ ہزار کے نوٹ سے’ نوازا‘ تھااور کبھی تصویریں اتارتے لوگوں کو………. چوتھا منظر سفید کپڑوں میں ملبوس شخص نے جھاڑو پکڑ کر کھڑکی پر پڑے گھوٹکے کو صاف کیا ۔نیکون کا کیمرا تھامے شخص اور اسمارٹ فون سے لوگوں نے تصویرے اُتار ی پھر ان صاحب نے باتھ رو م کی بالٹی میں ادھا پانی بھر کر گندے ٹائلوں پر گرایا۔ 8,10نئے بیڈ شیٹ انتظامیہ سے منگوائے ۔پلاسٹک کی تھیلیوں میں لایا گیا کھانا ’’صاحب‘‘مریضوں کو اپنے ہاتھوں سے دے دیا۔اپنی جیب سے اور اپنے ہمراہیوں سے لیکر کچھ مریضوں کو نقد تھمایا۔ایک ایک لمحے کی تصویریں اُتاری گئی ۔ نیکون کیمرے والا شخص نہایت پُھرتیلا تھا۔ وہ کبھی بیڈ پر (جن کے بیڈ شیڈ چند لمحے قبل تبدیل کئے گئے تھے )کبھی کرسی پر چڑھ کر صاحب کی تصور اُتارتا۔۔ ایک شخص اسمارٹ فون سے تصویریں لیکر فوراً ٰفیس بک کو اب ڈیٹ کر رہاتھا ۔ یہ تمام مناظر چیف سکٹر یری سند ھ سجاد سلیم ہو تیانہ کے لیاری ہسپتال کے دورے کے ہیں ۔ سفید کپڑوں میں ملبوس صاحب ’’ہر دلعزیز‘‘ چیف سکٹریری صاحب ہیں فیس بک پر اِب کے مداحوں کی تعداد 32000 سے تجاوز کر گئی ہے ۔ اس دن ان کی گاڑیوں کے قافلے میں میں بھی اے سی میں آرام سے بیٹھ کر باہر کے مناظر کو دیکھ رہا تھا ۔ دوسرے منظر میں تپتی دھوپ میں کھڑے لوگوں کی بے بسی دیکھ کر مجھے خود سے نفرت ہو رہی تھی کیونکہ بالکل اسی طرح میں خود بھی کئی بارٹریفک میں پھنس چکا ہوں۔ میں لوگوں کی آنکھوں میں موجود غصہ اور نفرت دیکھ سکتا تھا۔ ان کی لاچاری ، بے بسی کو بھی محسوس کر سکتا تھا، مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ لوگوں نے گاڑیوں کے اس قافلے کو اور ان میں سوار لوگوں کو (جن میں میں بھی شامل تھا) کن کن ’القابات‘ سے نوازا ہوگا اور کیسی ننگی ننگی گالیاں دی ہونگی۔ مگر یہ ’’بے وقوف لوگ‘ ‘ کیا جانیں کہ ہم انہی کی ’’خدمت‘‘ کی خاطر اتوار کو وقت نکال کر چیف سکڑیری صاحب کے ساتھ سرکاری اسپتال کے دورے پر گئے تھے۔ ٹھیک ایک گھنٹہ بعد گھر پہنچ کر میں نے جب فیس بک کھولا تو اسی بچی کی تصویر میرے کمپیوٹر اسکرین پر آگئی جس کے ہاتھ میں پانچ ہزار کا کڑک نوٹ تھااس کے نیچے چار سو لوگوں نے تبصرہ (comments) اور ہزار لوگوں نے پسندیدگی (Likes) کا اظہا ر کیا تھا۔ چند تبصرے کچھ یوں تھے۔ God bless you Sir, you are great

Saturday, June 21, 2014

افسوس کہ اندھے بھی ہیں اور سو بھی رہے ہیں

گلگت بلتستان اسمبلی کے ارکان جن کی نظر میں مخلوط نظام تعلیم علاقائی تہذیب و تمدن اور روایات کا متصادم ہے سے چند سوالات پوچھنا چاہتا ہوں۔ یہ سوالات مُلّا برادری ، اور ان کے ہم خیال لکھاری اور مذہب اور کے ٹھیکیداداروں کے لئے بھی ہیں جو مخلوط نظام تعلیم کو معاشرتی مسائل کا اہم پہلو قرار دیتے ہیں۔ کیا کرپشن علاقائی رسم و رواج کا متصادم نہیں؟کیا ہمارا رسم و رواج اقربا پروری کا درس دیتا ہے؟کیا ہمارا تہذیب غریبوں کا حق چھیننے کا حکم دیتا ہے؟کیا میرٹ کا قتل عام تہذیب کا کوئی پہلو ہے؟کیا علاقے میں مسلکی منافرت مخلوط نظام تعلیم پھیلاتا ہے؟کیا ایک دوسرے کے خلاف کفر کے فتوے مخلوط نظام تعلیم دیتا ہے؟کیا تاریخ کا جنازہ مخلوط نظام تعلیم نکالتا ہے؟کیا جنّت کے سر ٹیفیکٹ مخلوط نظام تعلیم بانٹتا ہے؟کیا 1988ء کا قتلِ عام اور انسانیت کی بے حرمتی مخلوط نظام تعلیم کے سبب ہوئی تھی؟کیا علاقے میں ہتھیار اور چرس مخلوط نظام تعلیم لے کر آیا؟ ان تمام سوالات کا جواب ’’نہیں‘‘ہے۔ حکمران ہر دور میں نظام تعلیم اور نصاب کے زریعے اپنے نطریات عوام پر مسلط کرتا ہے اس میں ملّا برادری اہم کردار ادا کرتا ہے۔ مجوزہ فیصلہ بھی ایک ایسی کڑی ہے اور ملّا حسبِ معمول حکمرانوں کا ہاتھ بٹا رہا ہے۔ مذہب کو ٹشو پیپر کی طرح اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنا کوئی نئی بات نہیں یہ شیخ و ملا کا پرانا وطیرہ ہے۔ وہ شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ (روایات کے مطابق) مسلمان حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے پاس احادیث پوچھنے آیا کرتے تھے۔ غزوات اور جنگوں میں مسلمان خواتین پانی پلایا کرتی تھیں۔رسول اللہ نے غزوہ بدر کے پڑھے لکھے قیدیوں کو مسلمانوں کو تعلیم دینے کا حکم دیا تھا مگر اس میں مردوں اور خواتین کو الگ الگ تعلیم دینے کا ذکر کہیں نظر نہیں آتا۔ پیغمبرِ اسلام نے فرمایا تھا’’علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے‘‘ اس حدیث میں صرف مسلمان مرد نہیں کہا ہے بلکہ’’ مسلمان ‘‘ جس میں مرد اور عورت دونوں شامل ہوتے ہیں ۔ ہمارے ایک محترم کالم نویس نے مخلوط نظام تعلیم کو منشیات کا استعمال، خودکشی، شادی سے قبل حمل، جنسی بے راہ روی، طالبات کی حق تلفی، خاندانی نظام کی تباہی، والدین کا اولاد پر عدم کنٹرول، طلاق کی بڑھتی شرع، معاشرتی و سماجی انتشار، اکیلی ماؤں کا کلچر، عدم برداشت، شوہر کو غلام سمجھنے کی روش، نفسیاتی مسائل اور زنا بالجبر جیسے مسائل کا زمہ دارقرار دیا ہے اوراسے فطری قوانین کا خلاف کہتے ہیں۔ ایسے افراد کا عورت کو برابری کے حقوق دینا کجا وہ عورت کو انسان ہی نہیں سمجھتے ہیں ان کے لئے عورت بچے پیدا کرنے والی مشین کے سوا کچھ نہیں ۔ ان تمام مسائل کی ذمہ داری مخلوط نظام تعلیم پر عاید کرنا سمجھ سے بالاتر اور بد دیانتی ہے۔ انہی کے مطابق صدیوں پہلے یورپ بھی مخلوط نظام تعلیم کا مخالف تھا ۔ مگر آج یورپ ایسی بے وقوفی نہیں کرتا۔ اگر وہ مسلمانوں کی طرح غیر اہم مسائل میں الجھا رہتا توسیارے تسخیر نہیں کر پاتا۔ ہمارے انحطاط کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ آگے سفر کرنے کے بجائے اپنے’’ شاندار‘‘ ماضی کا گرفتار ہیں. بے علم بھی ہم لوگ ہیں، غفلت بھی ہے طاری افسوس کہ اندھے بھی ہیں اور سو بھی رہے ہیں

یاسین میں بروشسکی شاعری کا ارتقائی دور

بروشسکی کا شمار عرض شمال میں بولی جانے والی قدیم ترین زبانوں میں ہوتاہے ۔ یہ زبان ہنزہ،نگر اور یاسین میں مختلف لب و لہجے کے ساتھ بولی جاتی ہے ۔ روایات کے مطابق سب سے پہلے اس زبان پر کام 1870کی دہائی میں کپتان بڈلف نے کیاپھر وقت کے گزرنے کے ساتھ ساتھ مختلف ادوار میں مختلف لوگوں نے اس زبان پر کام کیا ۔ ان میں لفٹنٹ کرنل لاریمر، جرمن پروفیسر جارج برگر(1962) ، علامہ نصیر الدین قابل ذکر ہیں۔ یہاں میرا مقصدبروشسکی کی تاریخ بیان کرنا نہیں بلکہ یاسین میں بولی جانے والی برشسکی شاعری کا ارتقاء ہے۔ مشہو ر محقق اور نقاد ڈاکٹر رام بابو سکیسنہ کے مطابق ’’دنیا کے تمام ادبوں کی ابتدا شاعری سے ہوئی ۔شعر ایک زندہ قوت ہے جس کا وجود نثر سے بہت پیشتر معلوم ہوتا ہے۔ قافیہ بندی اور تک بندی انسان میں ایک فطری چیزہے۔ انسان کو پہلے جذبات کا حس ہوتا ہے۔‘‘ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ شاعری ہر زبان کی وسعت ، جدت،تازگی اور نئے پن سے اس زبان کو نکھارتی ہے ۔ یاسین میں بولی جانے والی بروشکی غزل کی عمر چھوٹی اور معیار بالکل سطحی تھی ۔شاعر حضرات لب و رخسار کے شکنجے میں بری طرح پھنسے ہوئے تھے اور بیشتر اب تک جکڑے ہوئے ہیں۔ برسوں پہلے برصغیر کے ادیبوں اور شعراء کے بارے میں لکھا جانے والا شعر ان کے لئے دہرایا جا سکتا ہے۔ ہند کے شاعر و صورت گر و افسانہ نویسآہ بیچاروں کے اعصاب پر عورت ہے سوار علی احمد جان اقبال کا یہ شعر اس پورے منظر نامے کی بھرپور عکاسی کرتا ہے ۔ یہ حال دیگر بہت ساری زبانوں کا بھی ہے اور اس کے کئی وجوہات ہیں ۔اول یہ کہ خصوصاً یاسین میں غز ل گو یا شاعری کو لفنگا،لوفراورناکام شخص تصورکیاجاتا ہے او ر لوگ اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتے ۔ دوم کچھ زندگی سے بیزار لوگ جو عملی زندگی میں نا کام ہیں، آوارہ گردی کرتے ہیں ،ردیف قافیہ ملا کر البم تیار کرتے ہیں اور شاعر بن جاتے ہیں ۔ یہاں یہ بھی بتا تا چلوں کہ زیادہ تر لوگ گلو کار کو ہی شاعر سمجھتے ہیں ۔ سوم پڑھے لکھے حضرات اس میدان میں آنے سے کتراتے ہیں کہ لو گ انھیں بھی لفنگا ،لوفر سمجھیں گے ۔دوسری الفاظ میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ایک مافیانے قبضہ جمایا ہواہے ۔ مگر پچھلے چند برسوں سے خوش قسمتی سے پڑھے لکھے نوجوانوں نے شاعری کے میدان میں قدم رکھنا شروع کیا ہے ۔ انھوں نے اپنی شاعری میں میں سماجی ،سیاسی اور معاشرتی پہلووں اور مسائل کو اتنی خوبصورتی سے بیان کیا ہے کہ اسکی مثال بروشکی غزل کے ماضی میں کہیں نظرنہیں آتی ۔ ادب کے ناقدین اور محققین کے مطابق غزل کے اشعار مضامین کو اختصار سے بیان کرنے میں مثالِ آپ ہیں اختصار پسندی تیزی سے فروغ پاتاہوا عالمی رویہ ہے۔ یہ بھی واضع ہے کہ ہر تخلیق اپنے سماج کی حدود میں رہ کر اظہارِ خیال کرتی ہے ۔مگر اس سماج کی وسعت کا تعین تخلیق کار کے فہم و ادراک کی وسعت کے بلند و پست اور وسیع و محدود ہونے پر ہے ۔ ایک شخص کھڑکی کی جالی کی ڈیزائن پر غور کرتا ہے جبکہ دوسرے شخص اسی کھڑکی سے باہر تاحد نظر پھیلے منظر اور رواں زندگی میں امکانات کے نئے زاویے تلاش کررہا ہوتا ہے گویا تخلیقی اڑان ہر تخلیق کار کی مختلف ہوتی ہے ۔کسی معاشرے میں سماجی اور تہذیبی تبدیلی تخلیقِ اظہار میں تبدیلی سے عبارت ہے۔ فرد کا انفرادی شعور ،سماج کے اجتماعی شعور پر اثر اندا ز ہوتا ہے ۔مگر اس تبدیلی کی بنیاد فراہم کرنے کے لیے تخلیق کار کا طاقت ور علمی اور دانش ورانہ پسِ منظر سے ہونے کے ساتھ ساتھ تبدیلی کے عوامل کے ادراک اور اس کے مابعد اثر پزیری کو سمجھنے والی بالغ نظری کا حامل ہونا ضروری ہے۔ خوش قسمتی سے بروشکی شاعری کا منظرنامہ آہستہ آہستہ تبدیل ہوتا جارہا ہے توقع ہے کہ ہے کہ یہ چنگاری بروشکی غزل کے مستقبل کو روشن کرنے میں اہم کردار اداکریگی ۔ اس کی ایک مثال نوجوان شاعر ریاض ساقی ؔ کی یہ غزل ہے ۔ یاد رہے کہ یہ جامعہ کراچی سے فارغ التحصیل ہیں۔ محبت نانی مو دُعا غا سِمان محبت تاتی تے وفا غا سیمان محبت چھاس نیموق پونر یعووشوم محبت دن ایچوم سُرما محبت اُلچی چِیپ آ اُن نوکوئچ محبت عمرِ سوداغا سیمان محبت اِت نیلے گادیرو ریاضؔ محبت علمے محرکا غا سیمان (محبت کیاہے؟ محبت ماں کی دعا کو کہتے ہیں محبت باپ کے شفقت کو کہتے ہیں۔ بنجر زمین اور جھاڑیوں میں پھو ل اگانے کع محبت کہتے ہیں ۔ اپنے محبوبی کوایک جھلک دیکھ کر عمر بھرکے لئے خود کو اس کے سپرد کرنا محبت ہے۔ محبت!چل ہٹ پاگل ریاض ، محبت علم کے اجتماع کو کہتے ہیں۔ ) اُردو ادب کے محقیق کے مطابق غزل میں تفکر ، حقیقت پسندی اور اظہار کی ہونا لازمی ہے یہ چیزیں بروشکی غزل میں بھی اب نظر آنے لگی ہیں ۔ جیسا کہ بشارت شِفع اپنی شاعری میں انسان کی فطرت کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا ہے وہ کہتے ہیں غونڈلے جی نِیانے چھیونی میما گِری دُو تھاریس نیتے چھیو نی میما سے گا می گیچامان بے اِسقایامان چھینے فالو نوکووا دا دِیا کا ( فاختے کو مار گرا کر ہم خوش ہوتے ہیں، ہرن کو اس کے چھوٹے بچوں سے جدا کر کے خوشیاں مناتے ہیں۔ حتیٰ کہ چڑیا کی ننھی جان کو بھی نہیں بخشتے۔ ) اسے وجاہت شاہ نے اپنی گائیگی سے مذید خوبصورت بنایا ہے ۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ روایتی اور حسنِ جاناں کی تعریفوں سے ہٹ کر سماجی اور معاشرتی مسائل کو غزل میں جگہ دی جانے لگی ہے جسے بروشکی شاعری کا ارتقاء کہا جاتا ہے ۔ (جاری ہے)

Tuesday, May 20, 2014

میں ۔۔۔۔۔ عام آدمی

جب میں پانچویں جماعت میں تھا تو پہلی بار اپنے’’ دشمن‘‘ کے بارے میں پڑھا کہ وہ کس بے دردی سے مجھے تکلیف دیتاہے،میرے حقوق کو غضب کرتا ہے اور میرا خون بہاتا ہے۔ یہ سب جان کر میں غصے میں پسینے سے شرابور ہوجا تا تھا اور اپنے ’’دشمن‘‘کا منہ نوچنے اور اس کا کلیجہ چبانے کا دل کرتا۔ سوچتا تھا کہ کیسے اس کے مظالم کابدلہ ایک ایک کر کے لے لوں۔۔۔ و قت گزرتا گیا، میں چھٹی جماعت میں آگیااور نصابی کتب سے اپنے ’’دشمن‘‘ کے بارے میں مذید’’ آگاہی ‘‘حاصل کی۔اس بار میرا غصہ پہلے سے زیادہ شدید تھاکیونکہ مجھ پر میرے ’’دشمن‘‘ کے مظالم کے نئے در واں ہوگئے تھے اور یہ داستان پہلے نہیں سنے تھے۔ جوں جوں سال گزرتے گئے میرے غصے کی شدت بڑھی گئی ، نفرت کا ایک پہاڑسینے میں کھڑا ہوگیا اور میں انتقام کی آگ میں جلتا گیا۔ کبھی کھبار اس آگ کی لہریں اور تپش اتنی تیز اور بھیانک ہوتی کہ پوری دنیا کو جلا کر راکھ کرنے کا دل کرتا۔ مگر مجبور، لاچار اوار تنہا۔۔۔۔۔کیسے ممکن ہوتا؟؟ میں اس آگ میں فقط خود ہی جل کر بھسم ہوجاتا تھا،کوئی اور حتیٰ کہ برابر میں بیٹھا شخص بھی اس کی تپش محسوس نہیں کرتا۔ اس آگ سے کسی کو کوئی نقصان کا خدشہ نہیں ہوتا بشرطیکہ وہ اس کے اپنے سینے اندر نہ لگی ہو۔ میٹرک تک پہنچتے پہنچتے میں کبھی ٹیپو سلطان کے گھوڑے کی پشت پر بیٹھے دشمنوں کو زیر کرتا رہا، کبھی محمود و ایاز کے ساتھ نمازیں ادا کرتا رہا۔ پھر سترویں صدی کے وسط میں شاہ ولی اللہ کے ساتھ اسلام کی ’’تبلیغ‘‘ کی اور احمد شاہ ابدالی کو ہندوستان آنے کی دعوت دی۔ انھوں نے ہندوستان کے ساتھ جو سلوک کیا۔۔۔۔۔۔۔ اٹھارویں صدی میں نے احمد شاہ شہید سے جہاد کا مطلب اورمفہوم سمجھا اسی صدی میں احمد رضاخان اور ان کے پیروکاروں کے ساتھ مل کرزمین کو گول کہنے والے جاہلوں کے خلاف ’’جہاد ‘‘ کیا۔ ابتدا میں سرسید بھی ہمارے حامیوں میں تھے مگر جلد ’’مکر‘‘ گئے۔ میں مغل شہنشاہوں کو کنیزوں کے پہلووں میں بیٹھے تکتاتھا اور گوروں کی آمدبھی دیکھ لی ۔ ظلم کا بازار ہر دور میں گرم رہا۔ میرا دشمن ہر دور میں خون کی ہولی کھیلتا رہا۔ 1947 میں آزاد ملک میں سانس لینے لگا مگر میری سانس گھٹتی رہی ، لاشیں گرتی رہی۔ میرادشمن ظلم کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا تھا۔ اب چند برسوں سے مجھے محسوس ہونے لگا ہے کہ میں شاید پاگل ہو گیا ہوں۔مجھے ایک اور دشمن نظر آنے لگا ہے۔ اس کے ظلم کا انداز’’ مہذبانہ‘‘ ہے مگر میرے پہلے دشمن سے زیادہ خطرناک ہے۔ اس کا چہرہ بھیانک نہیں(جیسا کہ اپنے پہلے دشمن کے بارے میں پڑھایا گیا تھا) مگر ارادے مکروہ ہیں۔ظلم کا داستاں طویل نہیں مگر مظلوموں کی تعداد کئی گنا زیادہ ہے۔
۔یہ مجھ پر بم نہیں گراتامگر بھوکا رکھتا ہے۔

۔یہ مجھ سے لگان نہیں لیتا مگر ٹیکس لیتا ہے۔

۔ قرض وہ لیتا ہے ، بوجھ مجھ پہ آتا ہے اور چکاتا میں ہوں۔

۔ گاڑی وہ چلاتا ہے تیل کا انتظام میں کرتا ہوں۔

۔ منا فع وہ کماتا ہے فیکٹریوں میں کام میں کرتا ہوں۔

۔ خون پسینہ میں ایک کرتا ہوں مگر بینک بیلنس اس کا بڑھتا ہے۔

۔ بڑے شاندار گھر میں تعمیر کرتا ہوں مگراس میں رہائش اختیار وہ کرتا ہے۔

۔ سخت موسم میں گرمی ،سردی برداشت کر کے ، گھنٹوں لائنوں میں کھڑے ہوکر ووٹ میں دیتا ہوں مگر ایوانوں میں مزے وہ لوٹتا ہے۔
اتنا سب کرنے کے باوجود وہ خود کو میرا خیرخواہ کہتا ہے، اپنا دوست کہتا ہے اور خود کو میری خوشحالی کا خواہش مند کہتا ہے۔ میں کیسے
مان جاؤں؟؟ میں کیونکر یقین کروں؟؟ اب میں پہچان گیا ہوں اپنے دشمن کو۔۔۔ بھلے مجھے نصابی کتب میں جو بھی پڑھایا جائے۔۔۔
اک شخص کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر

کاش اس زبان دراز کا منہ نوچ لے کوئی

(جونؔ )

وفا ہی جفا؟

کہا جاتا ہے کہ مجھ سے ایک نیا رشتہ7 194ء کو جوڑا گیا اور میرے ساتھ ویسا ہی سلوک کیا گیا جو مشرقی عورتوں کے ساتھ ان کے نا خدا مرد
کرتے ہیں۔ یہ بھی بارہا سن چکی ہوں کہ میری تاریخ اور میراماضی بہت شاندار رہا ہے۔ اپنی خوبصورتی بیان کر کے اپنے منہ میں مٹھو نہیں بننا چاہتی۔ میرے حُسن کوحسنِ یوسف سے تشبہ دی جاتی ہے۔ میری خوبصورتی دیکھ کر دیکھنے والوں کی آنکھیں ماند پڑجاتی ہیں۔ میرے برف پوش پہاڑوں کو دیکھ کر گورے ،کالے سب پروانوں کی طرح میرے ارد گرد منڈلاتے ہیں، طواف کرتے ہیں اور کچھ قربان بھی ہوجاتے ہیں۔ میری سر سبز وادیوں اور لہلہاتے کھیتوں کی دلکشی ہر شخص پہلی نظر میں دل دینے پر مجبور کرتی ہے۔ میرے شفاف پانی کے چشمے لوگوں کو اپنی طرف ایسے کھینچتے ہیں جیسے مے خوار کو مے، عاشق کو معشوق، لوہے کو مقناطیس، بھوکے کو روٹی ، اور عابد کو معبود ۔۔۔۔ صاف و شفاف پانی کے آبشاروں کو دیکھ کر لوگوں کو بہشت کے دودھ کی نہروں کا گماں ہوتا ہے۔ میرے پاس سب کچھ ہوکر بھی کچھ نہیں ہے۔ میں اب اس دوشیزہ کی مانندجی رہی ہوں جس کی خوبصورتی اس کے لئے بھیانک خواب بن جاتی ہے اور چاروں سمت سے ننگی نظریں اس کا جینا دو بھر کر دیتی ہیں۔ میرے ساتھ بھی عجیب سلوک روا رکھا جاتا رہا ہے۔ مجھے ہر وفا کا صلہ جفا کی صورت ملا اور مل رہا ہے۔ کبھی مجھے جنرل کے جوتوں تلے روندا گیا اور کھی میرے بچوں کو شعیہ ، سنی کی ’’ہڈّی‘‘ پر لڑوایا گیا۔ میرے بچے، میرے سپوت ہر
میدان میں کارنامے انجام دیتے ہے مگر افسوس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کبھی لالک جان بن کراپنی جان کی پرواہ کئے بغیر مخالف فوج کے پرخچے اڑاتے ہیں تو کبھی نظیر صابر، حسن سدپارہ ، ثمینہ بیگ اور مرزہ علی
بن کر دنیا کی بلند ترین چوٹیوں پر فتح کے جھنڈے گاڑتے ہیں۔ کھیلوں کے میدانوں میں ڈیانہ بیگ، محمد کریم، عباس، آمنہ اورارفہ ولی بن کرشاہین کی طرح اونچی اُڑان بھرتے ہیں۔ امن اور علم کا عَلم تو میرے بچوں کی خاص نشانی ہے اور پہچان ہے جسے وہ نہ صرف ملک میں بلکہ پوری دنیا میں بلند کئے ہوئے ہیں۔ مگر صلے میں کیا ملتا ہے؟؟؟؟ پہلے جہاں میرے کانوں میں مینا و بلبل اور خوبصورت پرندوں کی چہچہاہٹ رس گھولتی تھی اب بم دھماکے اور بندوقوں کی آواز سنائی دیتی ہے۔ لال گلاب ، چنبیلی اور دیگر رنگ برنگ پھولوں کی خوشبو میرے بدن میں بسی رہتی تھی ، اس کی جگہ بارود کی بُو نے لے لی ہے۔ رنگینیوں میں ڈوبے میرے
پیراہن اب میرے اپنے بچوں کے خون سے رنگین ہیں۔ وفاوؤں کا یہ صلہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آخر میرا قصور کیا ہے؟ میری خطا کیا ہے؟ کونسا جرم میں کرچکا ہوں؟؟ مجھ سے اور میرے بچوں سے ایسا کونسا گناہ سرزد ہوگیا تھا کہ اب ان کے منہ سے نوالہ بھی چھین لیا جاتا ہے؟ شاید ان کا لالک جان، نظیر صابر، ثمینہ بیگ، میرزہ بیگ، حسن سدپارہ، ڈیانہ بیگ، محمد کریم، عباس، آمنہ اور عارفہ ولی بننا غلطی ہے۔ میں آج یہ سوال پوچھنا چاہتی ہیں کہ کیا میری وفا ہی میری خطا ہے؟؟ اگر ہاں، تو پھر سزا دو مجھے۔۔۔ چھین لو میرے بچوں سے روٹی ۔۔۔ لڑادو انھیں۔۔۔ مٹادو مجھے۔۔۔ لُوٹ لو۔۔۔۔۔

Sunday, March 16, 2014

زخمی ہیں بہت پاؤں ، مسافت بھی بہت ہے

پرانے وقتوں میں جاگیر دار تعلیم کے خلاف تھا اور اپنے علاقے میں اسکول بنائے جانے کی بھر پور اور موثر اور موثر مخالفت کرتا تھا اب وقت کے ساتھ ان کا طریقہ مخالفت بھی تبدل ہوگیا ہے ۔ اب کچھ مجبوریاں لاحق ہیں اور اس پیمانہ کی مخالفت ممکن نہیں، تو سرمایہ دار اور جاگیر دار کی ملی بھگت سے ان کی مفادات کی ضامن بہترین حکمت عملی حاوی نظر آتی ہے کہ یہ طبقات تعلیم کے ساتھ ساتھ اب علم کی مخالفت پر بھی کمر باندھ چکے ہیں اور بڑی حد تک اپنے مقاصد میں کامیاب ہیں ۔انھیں کامیابی کا عطیہ دینے میں ملک کے سیاستدانوں کا بھی بڑاہاتھ ہے۔ ایک دلچسپ امر یہ ہے کہ ملک میں آج کل برساتی مینڈکوں کی طرح ہرسڑک ،گلی، محلے میں نام نہاد تعلیمی ادارے نظرآتے ہیں ۔ بے شمار تعلیمی ادارے زیر تعمیرہیں ۔ پرائمری اسکول، ثانوں تعلیم ، قانون، طب، زراعت ، نجینئرنگ، فاصلاتی تعلیم، دینی تعلیم وغیرہ جیسے بے شمار ادارے ہمیں ہر شاہراہ پر سال بھر’’داخلے جاری ہے‘‘ کے بینرکے ساتھ استقبال کرتے ہیں ۔ اس کے باوجود ملک میں شرح خواندگی اور معیاری تعلیم کی پستی پہلے سے بہتر نہیں ۔اس کی ایک تازہ مثال 2013میں CSSکے نتائج کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے ۔ جو پچھلے سال کی نسبت نہایت خراب ہے، پچھلے سال 14,335طلباء میں سے 10,006ان امتحانات میں شریک ہوگئے تھے اور 778کامیاب ٹھہرے(588میل،200فی میل )۔ اس سال 15,998نے اپلائی کیا اور 11,406امتحانات میں شریک ہوگئے ان میں صرف 238(66فی میل 172میل) نے کامیابی حاصل کی۔ یہی صورت حال اسکول سطح کی تعلیم کی ہے، ایک تازہ تحقیق کے مطابق اسکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد کے حوالے سے دنیا بھر میں پاکستان دوسرے نمبر پر ہے جہاں 5.1ملین کم عمر بچے اسکول میں داخل نہیں، تعلیمی شعبہ پر ہمارے اخراجات میں کمی واقع ہورہی ہے۔ ہر سال شرح پیدائش میں اضافہ کے باوجود پرائمری اسکول میں داخلہ کی شرح زوال پزیر ہے ایک رپورٹ کے مطابق 190-91میں پرائمری اسکولوں میں داخلے کی شرح 46فیصد تھی جو دس برس بعد 2000میں 42فیصد پر آگئی اب صورت حال مذید تشویش ناک ہے ۔ بظاہر تو ہر فرد ،ہر ادارہ ، اور ملک کا ہرسیاست دان اور ہر طبقہ اس مسلئے میں دلچسپی رکھتا ہے مگر عملی اقدامات سے ہر کوئی گریزاں ہے ۔ سب سے بڑاالمیہ یہ ہے کہ یہ تمام فراد صرف آئین میں اس چیز کو شامل کرتے اور دور اقتدار میں مختلف ’’بڑے بڑے‘‘ اور’’ اہم ترین‘‘ مسائل میں الجھے چلے جاتے ہیں ۔مگر بنیادی اور اہم ترین مسئلہ ان کی توجہ مبذول کروانے میں آج تک کامیاب نہیں ہوسکا۔ہمارے یہاں مختلف اوقات میں کوئی نہ کوئی تعلیمی پالیسی برائے نام ہی سہی سامنے آتی رہتی ہے ۔کمیشن بنتے ہیں جو اپنی سفارشات طے کرتے ہیں، آئین سازی ہوتی ہے ، قوانین بنتے ہیں ،تحریکیں چلتی ہیں لیکن آج تک ترقی اور بہتری کے لیے تو عملی کام نہیں کیا جا سکا۔ طبقاتی نظام تعلیم اور ٹیوشن سینٹر کلچر ملک میں اس شعبے کو مزید تباہی کے دھانے کی طرف لے جارہاہے ۔ امریکہ اور برطانیہ کے نصاب پڑھانے والے تعلیمی ادارے ہر گلی محلے میں پہنچ چکے ہیں اور اکیڈمی اور ٹیوشن سینٹر کی بہتات نے علاقے کی ٹریفک اور گھروں کے کرایوں میں بے ہنگم اضافہ کردیا ہے ۔ شہروں میں اسکول کے بعد ٹیوشن سینٹر ایک فیشن اور کینسر کی شکل اختیار کر چکا ہے ۔ یہ بات بالکل سمجھ سے بالاتر ہے کہ بڑے بڑے نجی اسکولوں کے طلباء جو موٹی موٹی فیسیں ادا کرتے ہیں، بھی اسکول کے بعد ٹیوشن کی طرف مائل ہیں ۔ ہمارے ملک میں اس شعبے کی مثال ایک ایسے ہیرونچی کی سی ہو گئی جو ہمیشہ نشے میں دھٹ لڑکھڑاتا ہے ہر دور میں حکمران سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کی ملی بھگت سے ایک نیا انجکشن اس شعبے کو لگا دیتاہے ۔تاکہ یہ شعبہ سنبھل نہ پائے یوں ہی لڑکھڑاتا رہے ۔کیونکہ اسی طرح عام عوام ،مزدور،کسان اور غریب طبقہ تعلیم اور شعور سے دور رہے اور ان کی خدمت کرتارہے