Monday, February 23, 2015

جنت سے جون ایلیا کا انور مقصود کے نام خط

انو جانی، تمہارا خط ملا، پاکستان کے حالات پڑھ کر کوئی خاص پریشانی نہیں ہوئی۔ یہاں بھی  اسی قسم کے حالات چل رہے ہیں۔شاعروں اور ادیبوں نے مار مار کر یہاں کا بیڑا گرق کر دیا ہے۔مجھے یہاں بھائیوں کے ساتھ رہنے کا کہا گیا تھا، میں نے کہا کہ میں زمین پر بھی بھائیوں کے ساتھ ہی رہا کرتا تھا، مجھے ایک الگ  کوارٹر عنایت فرمائیں۔مصطفیٰ زیدی نے یہ کام کر دیا اور مجھے کواٹر مل گیا، مگر اس کا ڈیزائن نثری نظم کی طرح کا ہے جو سمجھ میں تو آجاتی ہے لیکن یاد نہیں رہتی، روزانہ بھول جاتا ہوں کہ میرا بیڈ روم کہاں ہے۔ لیکن اس کوارٹر میں رہنے کا ایک فائدہ ہے، میر تقی میر کا گھر سامنے ہے۔ ان کے 250 اشعار جن میں وزن کا  فقدان تھا، نکال چکا ہوں مگر میر سے کہنے کی ہمت  نہیں ہو رہی۔
کُوچہ شعر و سخن میں سب سے بڑا گھر غالب کا ہے۔میں نے میر سے کہا آپ غالب سے بڑے شاعر ہیں آپکا گھر ایوانِ غالب سے بڑا ہونا چاہئے، میر نے کہا ، دراصل وہ گھر غالب کے سسرال کا ہے، غالب نے اس پر قبضہ جما لیا ہے۔میر کے گھر کوئی نہیں آتا، سال بھر کے عرصے میں بس ایک بار ناصر کاظمی آئے وہ بھی میر کے کبوتروں کو دیکھنے کے لئے۔ایوانِ غالب مغرب کے بعد کھلا رہتا ہے، جس کی وجہ تم جانتے ہو
مجھے کیا بُرا تھا، گر ایک “بار” ہوتا۔
یہاں آکر یہ مصرعہ مجھے سمجھ میں آیا۔ اس میں “بار”انگریزی والا ہے۔
دو مرتبہ غالب نے مجھے بھی بلوایا لیکن منیر نیازی نے یہاں بھی میرا پتا کاٹ دیا۔سودہ کا گھر میرے گوارٹر سے سو قدم کے فاصلے پر ہے۔یہاں آنے کے بعد میں ان سے ملنے گیا، مجھے دیکھتے ہی کہنے لگے، میاں! تم میرا سودا لا دیا کرو۔مان گیا۔ سودہ کا سودا لانا میرے لئے باعث عزت ہے۔ لیکن جانی!جب سودہ حساب مانگتے تھے تو مجھ پر قیامت گزار جاتی تھی۔جنت کی مرغی اتنی مہنگی لے آئے، حلوہ کیا نیاز فتح پوری کی دکان سے لے آئے؟، تمہیں ٹینڈوں کی پہچان نہیں ہے؟ ہر چیز پہ اعتراض۔ مجھے لگا تھا کہ وہ شک کرنے لگے ہیں کہ میں سودے میں سے پیسے رکھ لیتا ہوں۔4 روز پہلے میں نے ان سے کہہ دیا کہ میں اردو ادب کی تاریخ کاواحد شاعر ہوں جو اسی لاکھ کیش چھوڑ کے یہاں آیا ہے۔آپکے ٹینڈوں سے کیا کماؤں گا۔آپکو بڑا شاعر مانتا ہوں اس لئے کام کرنے کو تیار ہوا، آپکی شاعری سے کسی قسم کا فائدہ نہیں اٹھایا، آپکی کوئی زمین استعمال نہیں کی۔آئیندہ اپنا سودا فیض احمد فیض سے منگوایا کیجیئے، تاکہ آپکا تھوڑا بہت قرض تو چکائیں۔میرے ہاتھ میں بینگن تھا، وہ ان کو تمایا اور کہا:
بینگن کو میرے ہاتھ سے لینا کہ چلا میں
ایک شہد کی نہر کے کنارے احمد فراز سے ملاقات ہوئی، میں نے کہا میرے بعد آئے ہو اس لئے خود کو بڑا شاعر مت سمجھنا، فراز نے کہا، مشاعرے میں نہیں آیا۔ پھر مجھ سے کہنے لگے، امراؤ جان کہاں رہتی ہے؟ میں نے کہا، رسوا ہونے سے بہتر ہے گھر چلے جاؤ، مجھے نہیں معلوم کہا وہ کہاں رہتی ہے۔
جانی! ایک حُور ہے جو ہر جمعرات کی شام میرے میرے گھر آلو کا بھرتا پکا کے لے آتی ہے۔شاعری کا بھی شوق ہے، خود بھی لکھتی ہے، مگر جانی! جتنی دیر وہ میرے گھر رہتی ہے صرف مشتاق احمد یوسفی کا ذکر کرتی ہے۔اس کو صرف مشتاق احمد یوسفی سے ملنے کا شوق ہے۔ میں نے کہا، خدا ان کو لمبی زندگی دے، پاکستان کو ان کی بہت ضرورت ہے، اگر ملنا چاہتی ہو تو زمین پر جاؤ، جس قسم کی شاعری کر رہی ہو کرتی رہو، وہ خود تمہیں ڈھونڈ نکالیں گے اور پکنک منانے سمندر کے کنارے  لے جائینگے۔ابنِ انشاء، سید محمد جعفری، دلاور فگار، فرید جبال پوری اور ضمیر جعفری ایک ہی کوارٹر میں رہتے ہیں۔ ان لوگوں نے 9 نومبر کو اقبال کی پیدائش کے سلسلے میں ڈنر کا اہتمام کیا تھا۔اقبال، فیض، قاسمی، صوفی تبسم، فراز اور ہم وقتِ مقررہ پر پہنچ گئے۔کوارٹر میں اندھیرا تھا اور دروازے پر پرچی لگی تھی: “ہم لوگ جہنم کی بھینس کے پائے کھانے جا رہے ہیں، ڈنر اگلے سال 9 نومبر کو رکھا ہے۔”اگلے دن اقبال نے پریس کانفرنس کی اور ان سب کی ادبی محفلوں  میں شرکت پر پابندی لگا دی۔
تم نے اپنے خط میں مشفاق خواجہ کے بارے میں پوچھا تھا۔ وہ یہاں اکیلے رہتے ہیں، کہیں نہیں جاتے ۔ مگر حیرت کی بات ہے جانی!میں نے ان کے گھر اردو اور فارسی کے بڑے بڑے شاعروں کو آتے جاتے دیکھا ہے۔یہاں آنے کی بھی جلدی نہ کرنا کیونکہ  تمہارے وہاں رہنے میں میرا بھی فائدہ ہے۔اگر تم بھی یہاں آگئے پھر وہاں مجھے کون یاد کرے گا؟؟؟
جیتے رہو اور کسی نہ کسی پر مرتے رہو،ہم بھی کسی نہ کسی پر مرتے رہے مگر جانی!جینے کا موقع نہیں ملا۔

Saturday, February 21, 2015

سَاربَانِ محمد: آغاخان سوئم سر سلطان محمد شاہ


(آغاخان سوئم سر سلطان محمد شاہ نے بر صغیر کے مسلمانوں کی گراں قدر خدمات انجام دی  اوران کا شمار تحریک پاکستان کے قائدین میں ہوتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے نئی نسل کی زیادہ تعداد اس ہستی کے نام تک سے اشنا نہیں  ہے۔

نئی نسل اس ہستی کے نام سے واقف ہوگی بھی کیسے؟ کیونکہ  course and curriculum کی کسی کتاب میں ان کا نام نظر نہیں آتا۔

ہماری ناکا می کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ نئی نسل کو سکولوں،کالجوں حتی کہ یونیورسٹی  سطح پر بھی مسخ شدہ تاریخ  پڑھائی جاتی ہے۔ غالبا یہی وجہ ہے کہ سر سلطان محمد شا ہ کی تاریخ  ولادت ۲نومبر کو خاموشی سے گزر گئی۔

درجہ بالا مضمون کا انتخاب سہ ماہی فکرو نظر(۶۸۹۱) سے کیا ہے جسے پروفیسر نسیم انصاری نے تحریر کیا تھا۔)

_____________________________________________________________________

اورنگ زیب کے بعدہندوستان میں  مغلیہ حکومت کو ختم ہونے میں  ڈیڑھ سو برسوں میں حالات کچھ اسے رہے کہ ہندوستان والے اس سلطنت کے بدلے دوسری سلطنت نہ بنا سکے اور اقتدار مکمل طور سے انگریزوں  کے قبضہ میں چلا گیا۔ لیکن انگریز  اِس ملک میں اجنبی رہے۔ ۷۵۸۱ئ کی بغاوت کے بعد خود انگریز  اور اُن کے ماتحت بہت سے ہندوستانی بھی آہستہ آہستہ یہ سمجھنے لگے کہ اجنبیوں کی حکومت اتنے بڑے ملک پر ہمیشہ نہیں  رہ سکتی اس کا احساس سب سے پہلے بنگال، بمبئی اور مدراس کے انگرےزی پڑھے ہوئے لوگوں کو ہوااور اِس کے ساتھ ہی انھوں نے یہ سوچنا شروع کےا کہ انگریزوں کے چلے جانے کے بعد ہندوستان میں کیا ہو گا؟  اُن کے سامنے لندن کی حکومت کا نقشہ موجود تھا۔ انہیں خیال ہوا کہ اگر اِسی طرح کی حکومت ہمارے یہاں بھی بن جائے تو کیا اچھا ہو۔انگریزوں  کے بادشاہ کی جیسی حیثیت ولایت میں ہے ویسی ہی ہندوستان میں بھی رہے لیکن ملک کا بندوبست ہندوستانی پارلیمنٹ کے ہاتھ میں ہو۔ اِس خیال کا آنا تھا کہ دِلوں میں جیسے شمعیں  جلنے لگیں، سارے ملک میں بس یہی چرچے شروع ہوگیے.

۔مسلمان ڈیڑھ سو برس سے اپنا زوال دیکھ رہے تھے اور اب ہار کر بالکل بے بس ہو گے تھے۔. حالت یہ تھی کہ انگریز اُن پر شک کرتے تھے اور اُن کے ہندو ساتھیوں میں جو بیدار ہو چکے تھے وہ ویسٹ منسٹر  جیسی حکومت بنانے کا خواب دیکھ رہے تھے۔سرسیّد اور اُن کے ساتھیوں نے اپنے ہم مذہب لوگوں کو جھنجھوڑا کہ دیکھو دنیا بدل رہی ہے، شکست کا رونا کب تک روو گے۔ اب آنے والے زمانے کا فکر کرو۔سب نے آنکھیں ملنا شروع کیں اور کچھ سرسیّدکی آواز پر لپکے بھی،آہستہ آہستہ ایک قافلہ بنتا گیا جس میں حالی،شبلی،محسن الملک علی گڑھ تحریک کے ذریعہ شامل ہوئے، دوسری طرف بمبئی سے بدرالدین طیب جی اور بنگال سے جسٹس سرسیّدامیر علی نے بھی بات کو سمجھنے کی کوشش کی، زیادہ تر لوگوں کی رائے یہ تھی کہ مسلمانوں کی بھلائی اسی میں ہے کہ انگریز ابھی ہندوستان میںرہیں کیونکہ وہ اگر ابھی چلے گئے تو ہندوستان کے تھکے ہارے،لُٹےہوئے غافل مسلمانوںکا کیا ہو گا جنھیں نہ تو انگیریزی زبان آتی ہے اور نہ وہ ویسٹ منسٹر کے طور طریق سے واقف ہیں اور نہ ہی اس لائق ہیں کہ جلدی سے اپنے برادرانِ وطن کے برابر لیاقت پیدا کر کے اس جدوجہد میں حصہ لے سکیں جو جمہوری نظام کے لئے ضروری ہے اگر جمہوریت کے لئے دوڑ شروع ہوئی تو یہ زخم خوردہ اِس میں بھی شامل نہ ہو سکیں گے۔سب چاہتے تھے کہ زخم بھر جائیں بدن میں کچھ طاقت آجائے تب ہی مقابلہ میں شرکت کا خیال کیا جائے اس لیئے یہی طے ہوا کہ ابھی میدان میں نہ اتریں۔ لیکن زمانہ اُن کا انتظار کیوں کرتا۔ کھیل شروع ہو گیا۔ انڈین نیشنل کانگریس نے اپنے مطالبات حکومت کے سامنے رکھنا شروع کر دئے۔

سر سیّد کا زمانہ ختم ہوا تھا لیکن اُن کی آنکھیں بند ہونے سے پہلے ایران کا ایک شہزادہ علی گڑھ آیا جس ے گھر والوں نے اپنا وطن چھوڑ کر ہندوستان میں رہنا شروع کر دیا تھا اور اس کی پیدائش اسی ملک کے ایک شہر کراچی میں ۲نومبر۷۷۸۱ءمیں ہوئی تھی۔ نام سلطان محمد شاہ رکھا گیا تھا۔ جب ان کے والد آغا علی شاہ آغا خان ثانی کا ۵۸۸۱ء میں انتقال ہو گیا تو ایشا، افریقہ اور یورپ کے اسماعیلیوں نے اس آٹھ برس کے خوبصورت شاہزادہ کو آغا خان کا لقب دیکر اپنا امیر بنالیا۔آغا خان ۶١۹۸۱ میں علی گڑھ آئے اُس وقت وہ اُنیس برس کے تھے۔ سر سیّد نے اسٹریچی ہال میں ان کا شاہانہ استقبال کیا اور ایک ایڈریس کیا جس میں کہا گیا تھا کہ انگریزی تسلط کے بعد جب مسلمانوں کی حالت بہت خراب ہوئی تو؛

”گروہے از مسلمانان را رگ حمیّت بجنبد دل بہ درد

آمد و خواستند کہ مدرسئہ عظمیٰ برپا کنند“

شہزادہ نے مہمان نوازی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا:

”بسیار از ملاقاتِ شما و دیدنِ ایں مدرسہ مشہور

خوش وقت و خوش حال گشتم فی الحقیقت ایں مدرسہ

از مدارسِ بسیار معروفِ ہندوستان است وبرائے

طلابِمسلمانان ازیں بہتر درہندوستان دارالعلمی نیست

بلکہ درسائر ملکہائے ملل کہ من دیدہ ام مدرسہ شد

ایں دیدہ نہ شد“۔

اس ملاقات کے بعد سے یہ سلسلہ شروع ہوتا ہے جس میں آغاخان کا تعلق علی گڑھ تحریک سے بڑھتا ہی رہا۔ سر سیّد کے انتقال کے بعد نواب محسن الملک نے قافلہ کی رہنمائی کی۔ انڈین نیشنل کانگریس اگرچہ انگریزوں کے ایما سے بنی تھی لیکن جب اس نے انگلستان کے حزب مخالف کا ایسا رویہ اختیار کرنا شروع کیا تو حکومت نے سوچا کہ انھیںقابو میں رکھنے کے لئے مسلمانوں کو اپنی ایک پارٹی بنانے پر آمادہ کیا جائے۔تاکہ بات حد سے نہ گزر نے پائے۔ یہ تحریک مسلمانوں کے مفاد میں بھی تھی کہ انھیں چلنے کے لئے بھی بیساکھیوں کی ضرورت تھی۔علی گڑھ کالج کے پرنسپل آرجی بالڑنے شملہ میں وائسرائے کے پاس ایک ڈیپوٹیشن کا انتظام کر کے وہ بیساکھی مہیا کر دی۔یہ دیپوٹیشن ۶۰۹۱ئمیں نوجوان آغاخان کی سربراہی میں وائسرائے سے ملا اور اس نے ایک عرضداشت پیش کی۔اس میں کہا گیا تھا کہ اگر ہندوستان کو جمہوریت کی طرف بڑھنا ہے تو اس جمہوریت کی وہ صورت نہیں ہو سکتی جو انگلستان میں ہے جہاں کے رہے والے ایک ہی طرح کے لوگ ہیں اور جن کی تاریخ ، زبان، مذہب اور دوسری سب روایات مشترک ہیں۔ ہندوستان میں یہ صورت نہیں ہے اس لئے یہاں کی جمہوریت کا انداز بھی مختلف ہونا چاہیے اور ایسا انتظام ہو کہ جس میں مسلمان جو آج پس ماندہ ہیں ہمیشہ پس ماندہ نہ رہیں۔ عرض داشت میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ۔

(۱)حکومت کے اداروں میں انتخاب کی صورت میں مسلمان اپنے نمائندے خود منتخب کریں

(۲) ان اداروں میں مسلمانوں کی تعداد ملک میں ان کے مرتبہ کا لحاظ رکھکر مقرر کی جائے نہ کہ محض ان کی آبادی کے تناسب سے۔

(۳) مسلمانوں کو حکومت کی ملازمتیں بغیر کسی روک ٹوک کے دی جائیں۔

(۴) یونیورسٹیوں کے سنڈیکیٹ اور سینٹ میں مسلمانوں کو بھی رکھا جائے۔

(۵) مسلم یونیورسٹیوں کے قیام میں مدد دی جائے۔

یہ ڈیپوٹیشن ہندوستان کی تحریک آزادی میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔یہ گویا اس بات کا اعلان تھا کہ ہندوستانی جمہوریت کا انداز یوروپین وضع کا نہ ہو گا بلکہ اس کی وضع خالص ہندوستانی ہو گی۔ کانگریس والوں کو یہ بات پسند نہ آئی اور یہیں سے اختلافات کا وہ سلسلہ شروع ہوتا ہے جس کا خاتمہ ہندوستان کی تقسیم پر ہوا۔

ہندوستانی جمہوریت کے متعلق آغا خان کا ذہن بالکل صاف تھا۔ وہ جداگانہ انتخابات کے علمبردار تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ ہندوستان کے بیشتر مسائل تو ایسے ہیں جن میں ہندو اور مسلمانوں کا مفاد مشترک ہے، کچھ مسائل ایسے ہیں جن کا خاص تعلق مسلمانوں سے ہے۔یہ دونوں طرح کے مسائل صرف ہندو اور مسلمان آپس میں مل کر ہی حل کر سکتے ہیں۔ چنانچہ مسلم لیگ کے تیسرے اجلاس میں جو ۰۱۹۱ئ میںنواب صاحب ارکاٹ کی صدارت میں دہلی میں ہوا آغاخان نے ارئے دی۔

”ہمارے نمائندے جو کونسلوں میں ہیں وہ سب سے پہلے وفادار ہندوستانی ہیں اس کے بعد وہ مسلمانوں کے حقوق کے خاص محافظ ہیں۔انھیں ان کونسلوں میں تین طرح کے کام کرنے ہیں، اوّل ملک کے عام فائدے کے کام مثلاً تعلیم کا انتظام جس میں لازمی بِلا فیس کے پرائمری تعلیم بھی شامل ہے۔ تجارت وزراعت کی ترقی جس میں کوآپرٹیو سوسائٹیوں اور تقسیم کرنے والی انجمنوںکا قیام بھی شامل ہے اور ملک کے قدرتی وسائل کا استعمال یہ کام ایسے ہیں جو ہیں جو ہندو اور مسلمان نمائندوں کو ہندو اور دوسرے فرقوں کے ساتھ مل کر وہ تمام فوائد حاصل کرنا چاہیں جو ان کی اجتماعی بہبودی کے کام میں مدد دیں۔

تیسرے ہمارے نمائندوں کو اپنے مسلمان بھائیوں کی تمدنی بہتری کی تجاویز بھی ہندو ممبران کی مدد سے منظور کرانا اور ان کے خاص مسائل کی بھی فکر کرنا چاہیے کیوں کہ ہمارے خاص ضرورتیں ایسی بھی ہیں جن سے وہ نا واقف ہیں اور جنھیںہم ہی سمجھتے ہیں“۔

آغاخان کی ساتھیوں نے اُن کی اس پالیسی سے اتفاق کیا اور اُسی بنیاد پر انھیں آئندہ دو برسوں کے لئے مسلم لیگ کا صدر منتخب کر دیا۔اس کے بعد سے ہندوستانی سیاست آہستہ آہستہ ایک نئے دور میں داخل ہو گئی جس کی خصوصیت یہ تھی کہ ہندو اور مسلمان دونوں نے یہ سمجھ لیا تھا کہ انگریزوں سے آزادی ہی میں دونوں کی بھلائی ہے۔اب تحریک آزادی نے عوامی جدوجہد کا رخ اختیار کر لیا اور بین الاقوامی حالات ایسے تھے کہ مسلمان یہ سمجھنے لگے کہ انگریز ساری دنیا کے مسلمانوں کو محکوم بنانا چاہتے ہیں۔چنانچہ خلافت تحریک شروع ہوئی اور کانگریس نے اس کی موافقت کی اور سارے ہندوستان میں جیسے آگ لگ کئی تھی لیکن جب ترکوں نے خود اس ادارے کو ختم کر دیا تو تحریک بھی بے جان ہو گئی۔

خلافت تحریک کے سلسلہ میں مسلمانوں میں ایسا جوش پیدا ہوا کہ ان کے ہم وطن خا ئف ہو گئے۔ ایک طرف تو خود مسلمانوں کے ذہن میں نئے ہندوستان کا کوئی نقشہ نہیں تھا اور دوسری طرف یہاں کے ہندﺅسں ہیں قدرتی طور پر یہ خدشہ پیدا ہوس کہ کہیں یہ لوگ دوبارہ تو مغل یا پٹھان طرز کی حکومت ہندوستان پر نہیں تھوپنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ آپس کے اختلافات بڑھنے لگے اور ان کا سب سے افسوس ناک اظہارہندو مسلم فساد کی شکل میں شرہع ہوا۔آغاخان کا رجحان اس قسم کی سیاست سے بالکل مختلف تھا، ان کا یقین تھا کہ ہندو اور مسلمان کی بھلائی اسی میں ہے کہ وہ آپس ہیں میل ملاپ سے وہیں۔ اس کا اظہار انھوں نے کئی بار کیا۔ ۸۲۹۱ئ ۔ ۹۲۹۱ئمیں آل پارٹیز مسلم کانفرنس میں گائے کی قربانی کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے بابر کا قول دوہرایا کہ ہمیں نہ صرف ہندوﺅں کے مذہب کا لحاظ رکھنا چاہئے بلکہ ان کے رجحانات کا بھی احترام کرنا چاہئے۔ انھوں نے مسلمانوں کو رائے دی کہ اگر ہندﺅوں کا دل جیتنے کے لیے گائے کی قربانی بند کرنا پڑے تو اسے ضرور بند کیا جائے۔

وہ صحیح معنوں میں لبرل تھے اور اسی لیے ملک کے شرفاءمیں ان کی بڑی عزت تھی۔۰۳۹۱ئمیں جب راوئنڈٹیبل کانفرنس لندن میں ہوئی تو وہ برٹش انڈین ڈیلیگیشن کے لیڈر تھے۔ اس کانفرنس میں اُن کی کوشش یہ رہی کہ ہندوستان کے اقلیتی مسئلہ کو ہندو مسلم سوال کے بجائے ایک مخصوس سیاسی سوال سمجھا جائے۔چنانچہ ان کی تحریک پر ہندوستان کی سب اقلیتوں کے نمائندوں نے ایک مشترکہ تحریر ہندوستان کے دستور کے لیے پیش کی بد قسمتی سے یہ تجویز کانگریس کے لیے قابل قبول نہ تھی۔ بہر حال ہزہائی نس کی ان کوششوں کاسب نے اعتراف کیا۔ کانفرنس کے بعد لندن میں ریاستی اور برٹش انڈیا کے نمائندوں کا ایک جلسہ ہوا جس میں سرتیج بہادر سپرو اور سر اکبر حیدری وغیرہ شامل تھے۔اس جلسہ میں آغا خان کے طرز عمل کی بہت تعریف کی گئی۔ہندو مسلم مسئلہ حل کرنے میں آغاخان کی ناکامی در اصل ہندوستان کی آزادی کی تحریک کی ناکامی تھی۔کانگریس کے لیڈر سمجھتے تھے کہ ہندوستان میں صرف دو فریق ہیںایک کانگریس اور دوسرے انگریزی حکومت، غیر کانگریسی خصوصاً مسلم لیگ کے نمائندوں کو وہ انگریزوں کے خفیہ ایجینٹ سمجھتے تھے اسکا جوان آخر میں مسلم لیگ کی طرف سے یہ دیا جانے لگا کہ کانگریس ہندوﺅں کی جماعت ہے جسے مسلمانوں کے حقوق کے معاملے میں بولنے کا کوئی حق نہیں ہے اور مسلمانون کے صحیح نمائندے تو صرف مسلم لیگ والے ہیں۔ظاہر ہے کہ جب دلوں میں اس طرح کی باتیں بیٹھ جائیں تو اتحاد ناممکن ہو جاتا ہے۔چنانچہ آپس کی اس لڑائی میں ملک کے ٹکڑے ہو گئے۔اگرچہ آغاخان اپنے اتحاد کے مشن میں ناکام رہے لیکن اپنی زندگی میں انھوں نے جس دوسرے کام کا بیڑا اٹھایا تھا اس میں وہ کامیاب ہو گئے۔ یہ کام تھا علی گڑھ میں مسلم یونیورسٹی کا قیام۔

۸۹۸۱ئمیں سر سیّد کے انتقال لے بعد بواب محسن الملک آغاخان کے پان بمبئی گئے اور ان سے تمام ہمدردان محمڈن اینگلو اورینٹل کالج کی اُس تمنّا کا اظہار کیا کہ اس کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دیا جائے ہزہائی نس نے اس سے پورا اتفاق کیا اور اپنے پان سے ایک کثیر رقم پیش کی کہ اس کے سہارے ملک میںدورے کر کے یونیورسٹی کی ضرورت کا احساس لوگوں کو دلایا جائے اور اس کے علاوہ بھی ہر قسم کی مدد کا وعدہ کیا۔

چنانچہ نواب محسن الملک اور ان کے ساتھیوں نے مسلمانوںکے دِلوں میں یہ تمنّا جگا دی کہ ان کی اعلیٰ تعلیم کے لئے علی گڑھ میں ایک یونیورسٹی بنائی جائے۔اس کے لئے ۲۰۹۱ئمیں جب ایدورتھ ہفتم کی تاج پوشی پر دلّی میں دربار کا انتظام ہو رہا تھا تو نواب محسن الملک اور ان کے ساتھیوں نے اس موقع پر ایک تعلیمی کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا اور سر آغا خان کو اس کی صدارت کے لیے آمادہ کیا۔

یہ جلسہ دہلی میں بڑی شان سے ہوا۔ ڈپٹی نذیر احمد جب صدارت کی تحریک پیش کرنے کھڑے ہوئے توجواں سال آغاخان کی طرف دیکھکر پہلے تو یہ کہا۔

آفاقہا گردیدہ ام، مہر بتان ورزیدہ ام

بسیار خوباںدیدہ ام، امّا تو چیزے دیگری

اس کے بعد اُن سے صدارت کی درخواست کی۔ جناب امین زبیری صاحب(جو اس جلسہ میں شریک تھے اور جن کی کتاب ”پرنس آغاخان“پر اس مضمون کی بنیاد ہے) کا بیان ہے کہ مجمع پر ایک کیفیت سی طاری ہو گئی تھی۔ نو عمر آغاخان نے اپنی تقریرمیں کہا؛

”جو گریہ و زاری ہم قوم کی تباہی پر کرتے ہیں اگر وہ صدقِ دل سے ہے تو ہم کو چاہیے کہ سن کو اس حالت سے نکالنے کے واسطے متفق ہو کے کوشش کریں اور اس سلسلہ میں پہلا اور سب سے مقدم کام یہ ہے کہ اب ایک یونیورسٹی قائم کی جائے۔یہ یونیورسٹی ایسی ہو کہ علاوہ علوم جدیدئہ کے نوجوانوں کو یہ بھی بتایا جائے کہ ان کا گزشتہ زمانہ کیسا باعظمت تھا اور ان کا مذہب کیسا ہے اور وہ یونیورسٹی ایسی جگہ ہو کہ جہاں طلبہ رہیںاورجہاں مثل آکسفورڈ کے کیرکٹر پر بہ نسبت امتحانات کے زیادہ توجہ دی جائے۔ علاوہ ازیں یہ بھی خیال رہے کہ مسلمانانِ ہند کو اس بات کا جوازاً حق حاصل ہے کہ ان کے ہم مذہب جو ترکی ،پرشیا، افغانستان اور دیگر ممالک میں ہیں وہ ان کی ذہنی نشونما کی طرف متوجہ ہوں اور ان کو مدد دینے کا بہترین طریقہ ہے کہ علی گڑھ کو ہی مسلمانوں کاآکسفورڈ بنا دیا جائے کہ جہاں لائق ترین مسلمان طلبا بھیجے جائیںاور نہ صرف اس غرض سے کہ علوم جدیدہ حاصل کریں بلکہ دیانت اور ایثار بھی سیکھیں جو پہلی صدی کے مسلمانوں سے ان کو ورثہ میں ملا ہے۔

اپنے خطبہ میں آغاخان نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ ایک کروڑ روپیہ یونیورسٹی فنڈ میں جمع کریں۔ یہ تحریک منظور ہوئی اور سارے ملک میںیونیورسٹی بنانے کے کوششیں شروع ہوگیں۔ ۶۰۹۱ئمیں انگلستان کے ولی عہد کے ہندوستان آنے کا پروگرام بنا۔ اس زمانہ میں وہ پرنس آف ویلز کہلاتے تھے اور بعد میں جارج پنجم کے نام سے انگلستان کے بادشاہ ہوئے۔نواب محسن الملک نے گورنمنٹ سے یہ خواہش ظاہر کی کہ پرنس آف ویلز علی گڑھ بھی آئیں لیکن حکومت نے یہ کہ کر ان کی درخوست مسترد کر دی کہ پروگرام پہلے سے بن چکا ہے اور بادشاہ نے اس کی منظوری بھی دے دی ہے اس لئے اس میں تبدیلی کی گنجائش نہیں ہے محسن الملک نے آغاخان سے درخواست کی کہ وہ کچھ مدد کریں آغاخان راضی ہو گئے اور اپنے ذاتی رسوخ اور شاہی خاندان سے تعلقات کو کام میں لا کر پرنس آف ویلز کے علی گڑھ آنے کا انتظام کر وا دیا۔

۸مارچ۶۰۹۱ئکو پرنس آف ویلز علی گڑھ کالج دیکھنے آئے۔ اس تقریب سے سارے ملک میں کالج کا وقار بہت بڑھ گیاسر آغاخان نے سائنس کے تمام شعبوں کو ملا کر ایک سائنس اسکول کھولنے کی اسکیم بنائی اور پرنس آف ویلز کو بمبئی کے ایک مشہور تاجر سیٹھ آدم جی کا ایک تار دکھایا کہ جس میں سیٹھ صاحب نے سائنس کالج کے لیے ایک لاکھ دس ہزار روپیہ دینے کا وعدہ کیا تھا۔ پرنس نے اسکول کو اپنے نام سے بنانے کی اجازت دے دی۔ جب پچیس تیس برس کے بعد سر راس مسعود کی وائس چانسلری کے زمانہ میں کیمسٹری، زولوجی اور سائنس کی تعلیم کے لیے نئی عمارتیں تیار ہوئیں تو ان عمارتوں کے نام پرنس آف ویلزلیبارٹیزرکھا گیا اور ان کے کتبوں پر آج بھی یہ نام لکھا ہوا ہے۔

یونیورسٹی کے لیے رقم مہیا کرنے کی مہم برابر تیز ہوتی گئی ۱۱۹۱ئ میں جب مسلم یونیورسٹی کے لیے چندہ جمع کرنے اور یونیورسٹی کے قوائد مرتب کرنے کے لیے علی گڑھ میں ایک سنٹرل فاﺅنڈیشن کمیٹی بنائی گئی تو آغاخان سے اس کی صدارت کی درخواست کی گئی۔جو انھوں نے قبول فرمائی۔اس کمیٹی نے سارے ملک میں اپنی نمائندے بھج کر روپیہ اکھٹا کرنا شروع کیا ایک وفد کی قیادت خود سر آغاخان نے کی اور وہ سلطان جہان بیگم والیہ بھوپال کے پاس تشریف لے کئے ، بیگم نے ایک لاکھ روپیہ دینے کا اعلان کیا اس پر آغاخان نے بڑے جوش وخروش سے فرمایا۔

”دل بندہ را ذندہ کر دی، دلِ اسلام را ذندہ کر دی

دل قوم را ذندہ کر دی، خدائے تعلی بطفیل رسول اجرش دہد“۔

اسی سال یعنی فروری ۱۱۹۱ئ میں آغاخان ایک وفد کو لے کر اسی غرض سے لاہور پہنچے، وہاں ایک شاہانہ استقبال ہوا۔ جوش وخروش کا یہ حال تھا کہ ایک اخبار نے سعدی کی گلستان کا ایک نعتیہ شعر آغاخان کے لئے لکھ دیا۔

”چہ غم دیوارِامت را کہ باشد چوں توپشتی باں

چہ باک از موج بحراں را کہ باشد نوح کشتی باں“

مولانا شبلیبھی اس وفد میں شریک تھے۔ انھوں نے جلسہ میں ایک نظم پڑھی جس کے چند اشعار یہ تھے۔

”ولے آساں نباشد درس گاہے را بنا کردن

کہ خود ہر گو نہ گوں رنجوری مار اشفا باشد

دریں بو دیم ما کز پردہ گاہ غیب برسر زد

ہمایوں طلعتی کیں عقدہ را مشکل کشا باشد

سر آغاخان کہ خود خوابست ایں تعبیر نوشیں را

چہ خوش باشد کہ خواب از ما وتعبیر ازخدا با شد

بکیش شیعہ و سنّی سر آغاخان خداانبود

ولیکن کشتی اسلامیاں را ناخدا باشد

کنوں بینی کہ زود آں گلشن رنگیں بپا گر دد

کہ شبلی ہم درو یک بلبل رنگیں نوا باشد“

ادھر چندہ کی مہم جاری تھی اُدھر جب مسلم یونیورسٹی کا مجوزہ قانوں گورنمنٹ کے سامنے پیش کیا گیا تو گورنمنٹ نے یونیورسٹی کو ملک کے دوسرے تعلیمی اداروں کے الحاق کا حق منظور نہیں کیا۔اُس زمانے میں عام مسلمان اسے بہت اہمیت دیتے تھے۔ لیکن باوجود ہر کوشش کے حکومت اس معاملہ میں ٹس سے مس نہ ہوئی۔ یہاں یہ بات غور کرنے کی ہے کہ دہلی کی کوئی بھی حکومت کبھی اس کو گوارہ نہیں کر سکتی کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی مسلمانوں کا سیاسی مرکز بنے۔ الحاق کی تجویز سے حکومت کو یہ اندیشہ تھا کہ اس طرح یہ یونیورسٹی سارے ہندوستان کے مسلمانوں کا سیاسی مرکز بن جائے گی۔ ظاہر ہے کہ وہ یہ بات کبھی گوارہ نہیں کر سکتی تھی۔ آئندہ بھی کوئی حکومت کسی یونیورسٹی کو اس قسم کا سیاسی مرکز بننے کی اجازت نہیں دے سکتی۔

ظاہر ہے کہ اس سے بہت سے لوگوں کو مایوسی ہوئی جن میں آغاخان بھی تھے۔ لیکن وہ معاملہ کی نوعیت کو جلد سمجھ گئے۔ اس عرصہ میں یورپ میں جنگ عظیم چھڑ گئی اور یونیورسٹی کا معاملہ نگاہوں سے اوجھل ہو گیا۔ جنگ بلقان اور ترکی کی حمایت میں خود مسلمان اتنا مشتعل ہو گئے تھے کہ وہ یونیورسٹی کی اہمیت کو بھول سے گئے۔ لیکن آغاخان کبھی اسے نہ بھولے، پہلی جنگ عظیم کے خاتمہ پر انھوں نے پھر تحریک شروع کی۔ پہلے تو مسلمان ان شرائط پر یونیورسٹی قبول کرنے کو تیار نہ تھے جو حکومت کی طرف سے پیش کی جا رہی تھیں لیکن بعد میں سر آغا ©خان اور مہاراجا محمود آباد کی کوششوں سے با لآخر مسلمانوں نے یونیورسٹی کی تجویز منظور کر لی اور ۰۲۹۱ئمیں یونیورسٹی قائم ہو گئی، بیگم بھوپال چانسلر، سر آغاخان پرو چانسلر اور مہا راجا محمود آباد وائس چانسلر منتخب کیے گئے۔

آغاخان یونیورسٹی کے قیام کے بعد سے علی گڑھ کے معاملات میں اور زیادہ دلچسپی لینے لگے۔ ۶۳۹۱ئمیں جب ڈاکٹر ضیاءالدیں پہلی مرتبہ وائس چانسلر بنے تو سر آغاخان نے انھیں انجنیرنگ کالج کے قیام کا مشورہ دیا وہ علی گڑہ آئے اور اگریکلچر کالج کے قیام کی تجویز پیش کی۔اس کے بعد انھوں نے پرو چانسلر کے عہدے سے استعفیٰ دیکر نواب صاحب رامپور کو اپنا جانشیں تجویز کیا جس کو کورٹ نے منظور کر لیا اور آغاخان کو یونیورسٹی کا ریکٹر بنا دیا۔

۸۳۹۱ئمیں وہ ایک بار پھر نواب صاحب رام پور کے ساتھ علی گڑھ تشریف لائے اور انجینرنگ کالج کے لئے اپنی طرف سے ایک لاکھ روپیہ دینے کا اعلان کیا اسی قدر رقم کا وعدہ نئے چانسلر نظام آف حیدر آباد نے بھی کیا اور نواب صاحب رام پور نے ایک لاکھ دو ہزار روپے دیے۔

جب ۱۴۹۱ئمیں ڈاکٹر ضیاءالدین دوسری دفعہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر مقرر ہوئے تو آغاخان نے انھیں میڈیکل کالج کے قیام کا مشورہ دیا اور اس کالج کے لیے ایک لاکھ روپیہ چندہ دیا۔

غرض ہزہائی نس سر آغاخان نے سر سیّد کے زمانہ سے دوسری جنگ عظیم تک کے طویل عرصہ میں علی گڑھ سے اپنا تعلق قائم رکھا اور جو محبت انھیں اس اِدارے سے رہی اس کا حق برابر ادا کرتے رہے۔

آغاخان دنیا کے ریئس ترین لوگوں میں سے تھے اور انھیں دنیا برتنے کا سلیقہ بھی تھا۔ شاید دیکھنے والوں کی نگاہیں ان کی دولت سے ایسی چکناچوند ہوئیں کہ ان کے قومی کارنامے نظروں سے اوجھل ہوگئے۔ وہ ہندوستان کے ایک بہت روشن خیال اور دانشمند رہنما تھے جنھوں نے جمہوریت کو ہندوستانی پس منظر میں سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی۔ساری عمر وہ کوشاں رہے کہ ہندوستان کے لوگوں اور خصوصاً مسلمانوں کو بیسویں صدی میں باعزت زندگی بسر کرنے کا سلیقہ آ جائے۔

۷۵۹۱ئمیں یہ شمع فروزاں گل ہو گئی۔ان کے بعد ان کے پوتے پرنس کریم الحسینی آغاخان چہارم ان کے جانشین ہوے۔

Friday, December 12, 2014

کیسے دربان؟

’’پہلے دو دن میری والدہ کی طبیعت سخت ناساز تھی۔ انھیں ہسپتال لیکر جانا تھااس لئے دفتر نہیں جاپایا۔ دسمبر کی دوسری تاریخ کو جب میں دفتر کے لئے گھر سے نکلا تو ٹریفک بری طرح جام تھا۔ یونیوسٹی روڈ کو دو جگہ کنٹینر لگا کر بند کر دیا گیا تھا۔ پہلے مجھے لگا کہ شاید شہر کے حالات ٹھیک نہیں یا پھر خدا نخواسته کوئی دھماکہ ہو گیا ہے۔ ‘‘
میرا دوست اجمل نیم تر آنکھوں کے ساتھ نوکری سے فارغ کردئے جانے کی کہانی سنا رہاتھا۔
’’جیسے تیسے میں دفتر پہنچ گیا مگر ایک گھنٹہ تاخیر سے۔۔۔میرے بوس آگ بگولا ہوگئے۔ وہ بھی حق بجانب تھے کیونکہ والدہ کی طبیعت کی خرابی کی وجہ سے دو دن دفتر کی چھٹی کی تھی اور تیسرے دن مقررہ وقت سے ایک گھنٹے بعد پہنچا تھا۔ ‘‘
اجمل چونکہ گھر کا واحد کفیل ہے اوردو شفٹوں میں کام کرتا ہے۔ صبح آٹھ بجے سے چار بجے تک ہارڈ ویئر کمپنی میں اور رات کو ایک کھلونوں کی دکان پر بطور سیل مین کام کرتا ہے۔
’’چوتھے دن دفتر جانے کے لئے متبادل راستے کا انتخاب کیا اور بجائے یونیورسٹی روڈ کے ، براستہ نیشنل سٹیڈیم رو ڑ دفتر کی جانب نکلا۔جب میں لیاقت ہسپتال کے قریب پہنچا تو معلوم ہوا کہ وہاں بھی شاہراہ کو کنٹینر لگا کر بند کردیا گیا ہے۔ پرایشانی کے عالم میں بس سے اتر کر رکشہ لیا اور وقت پر دفتر پہنچنے کی ناکام کوشش کی۔میرے بوس نے بغیر ایک سوال پوچھے تین دنوں کے پیسے پکڑا دئے۔ میں نے اپنی مجبوریاں پیش کرنے کی کوشش کی مگر بے سود۔۔۔ انھوں نے صاف کہہ دیا کہ کسی مجبوری کا ذکر مت کرنا میری بھی مجبوری ہے۔ خدا حافظ۔۔۔۔
میرے ذہن پر اپنی والدہ کی ادویات، گھر کا کرایہ ، کچن کے اخراجات، چھوٹے بھائی کی فیس اور اپنی نوکری کے بارے میں کئی سوالات مسلسل ہتھوڑے کی طرح برس رہے تھے اور ہنوز یہ سلسلہ جاری۔۔۔ آخر میرا قصور کیا ہے؟ میرا مجرم کون ہے؟ میرے نقصانات کا آزالہ کون کرے گا؟ ‘‘ (اور پھر وہ بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا)
یہ ایک اجمل کی کہانی نہیں ہے ۔ روشنیوں کے شہر کے کئی اجمل پچھلے چار دنوں سے پریشانیوں کے اندیھروں میں ڈوب رہے ہیں ۔ اس کی وجہ کراچی ایکسپو سنٹر میں جاری’’ دفاعی نمائش: آئیدیاز 2014 ‘‘ ہے۔ اس کے سبب شہریوں کی معمولات زندگی بری طرح متا ثرہے کیونکہ مین شاہراہوں کو کنٹینر لگاکر بند کیا کردیا ہے اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔ لوگ وقت پر دفتر نہیں پہنچ پاتے، ایمبولنس ہسپتال نہیں پہنچ سکتے اوربچے وقت پر اسکول نہیں پہنچ پارہے۔۔۔۔یوں کہہ لیجئے کہ زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے۔
اس موقعے کی مناسبت سے میں حکومت اور خصوصاً پاک فوج سے چند سوالات پوچھنے کی جسارت کر رہا ہوں ۔
١۔ ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہی ہے اور ملک کے سالانہ بجٹ کا بہت بڑا حصہ دفاع پر خرچ کیاجاتا ہے۔جس کی وجہ سے بنیادی ضروریات مثلاً تعلیم ، خوراک کو ترجیح نہیں دی جاتی۔عام آدمی مشکل سے زندگی کی گاڑی کو کھینچ رہا ہے ، ایسے میں کراچی جیسے گنجان آباد شہر میں یہ میلہ لگاکر عوا م کو کیوں پریشان کیا جارہاہے؟
٢۔ ایک اخباری رپورٹ کراچی کاایک بڑا رقبہ فوج کے قبضے میں ہے، شہر کے قلب میں یہ تماشہ رچانے کے بجائے ملیر کینٹ جیسی ممنوعہ جگہ پر کیوں منعقد نہیں کیا گیا کیوں کہ عام آدمی کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے؟
٣۔ اس نمائش سے عام آدمی کو کیا فائدہ پہنچ رہا ہے؟
٤۔ کیا کبھی حکومت اور پاک فوج نے نئی نسل اور طالب علموں کے لئے ایسی پروقار تقریب کا انعقاد کیا یا کوئی کتابی میلہ لگایا؟
اور رہی بات دفاعی اسلحہ اور اس کے کردار کی تو مجھے رہ رہ کر وسعت اللہ خان صاحب کے وہ الفاظ یاد آرہے ہیں جو انھوں نے ایٹم بم کے بارے میں کہے تھے۔
’’یہ ایٹم بم نہیں بلکہ غریب کے د رپہ بندھا ہاتھی ہے جس کے گنے بھی پورے نہیں ہوپارہے تم سے۔۔۔۔بلکہ میں تو یوں کہوں کہ یہ ایٹم بم نہ ہوا سولہ دوشیزہ ہوگئی کہ کوئی اٹھاکر نہ کے جائے۔ اپنی حفاظت کے لئے بنایا تھا ناں ؟ اب اس کی حفاظت کے لالے پڑے ہیں ۔‘‘

Wednesday, December 3, 2014

بے مقصد۔۔۔"دفاعی نمائش آئیڈیاز "2014





جگہ جگہ مین شاہراہیں کنٹینر لگاکر بند کردی گئی ہیں،  ٹریفک جام ہونے کی وجہ سے معمولات زندگی بری طرح متاثرہے، ایمبولنس وقت پرہسپتال نہیں پہنچ پارہے، لوگوں کو دفتر پہنچے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، بچے وقت پر اسکول نہیں پہنچ پاتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان تمام مسائل کا سبب " دفاعی نمائش آئیڈیاز 2014" ہے۔ جس کے باعث شہر قائد کے عوام کی زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے۔ 
میں حکومت خصوصا افواج پاکستان چند سوالات پوچھنا چاہتا ہوں
۱۔ اس نمائش سے ملک کے عوام کو کیا فائدہ ہے، سوائے خواری کے ؟
۲۔ کیا کروڑوں ڈالر کے عوض یہ اسلحہ تمائش کے لئے خریدا گیا ہے؟
کیونکہ ہر معرکے میں ثابت ہوچکا ہے ان ہتھیار کا استعمال دشمن کے خلاف نہیں ہوتا اور نہ ہی سرحدوں کی حفاظت کر پائے ہیں۔  سقوط ڈھاکہ سے لے کر کرگل محاز تک کے قصے مثالی نمونے ہیں ان سے صرف اپنے شہریوں گولیاں چلائی جاتی ہیں۔
۳، اس نمائش کا مقصد کیا ہے؟
۴۔ کیا کبھی افواج پاکستان یا حکومتی طور پر اتنے بڑے کتب میلے کا انعقاد ہوا ہے؟
۵۔ شہر کے فلب میں یہ تماشا رچانے کے بجائے ان مقامت پر یہ  نمائش کیوں نہیں لگائی جو پہلے سے فوج کے قبضے میں ہے۔ یاد رہے کہ ایک رپورٹ کے مطابق کراچی کا ایک بڑا رقبہ افواج کے قبضے میں ہے۔

یوں گماں ہوتا ہے کہ یہ تمام ہتھیار صرف نمائش کے لئے ہی خریدا گیا ہے

Friday, November 14, 2014

“ہوچکا ہے حادثہ یا حادثہ ہونے کو ہے”

دل چاہ رہا ہے کہ معصوم حسنین کے قاتلوں کی آنکھیں نوچ لوں اور ان کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے کتوں کو کھلادوں۔ “
کیا میں درندہ ہوگیا ہوں؟ اگر نہیں تو کسی انسان کے بارے میں ایسا کیسے سوچ سکتا ہوں۔؟
ا
گر ہاں تو اس کی وجہ کیا ہے؟ مجھ میں یہ درندگی کیوں اور کیسے جاگ اٹھی؟؟



ہر عمل کا رد عمل ہوتا ہے اور ہر واقعے سے پہلے ایک واقعہ رونما ہوچکا ہوتا ہے جو دوسرے واقعے کا سبب بنتا ہے۔ پہلا واقعہ دوسرے واقعے سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔
یں تشدد پسند نہیں ہوں۔ مجھ میں درندگی اس معصوم بچے کی خون سے تر چہرے کی تصویر دیکھ کر جاگ اٹھی۔ اس افسوس ناک واقعے کے بعد ہمارے اہل قلم مجرموں کو کڑی سے کڑی سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ فرض کیجئے انہیں سزا مل جاتی ہے تو کیا اس کے بعد گلگت میں اس قسم کے واقعات رونما نہیں ہونگے؟؟ اگر ہم نے پہلے واقعے کے بارے میں سنجیدگی سے نہیں سوچا تو آیندہ بھی اس طرح کے واقعات یقینآ رونما ہونگے کیونکہ جس معاشرے میں بے زبان جانوروں کو ہوس کا نشانہ بنایا جاتا ہو وہاں کسی بڑی تبدیلی کی توقع رکھنا بلی کے خواب میں چھیچھڑے کے مترادف ہے۔
آج سول سوسائٹی اور حکومت “پہلے واقعے” کے بجائے “دوسرے واقعے” کو اہمیت دے رہی ہیں اور اس پر غور کر رہی ہیں۔ ہمیں پہلے واقعے کا بارے میں بھی سوچنا پڑیگا  کہ یہ نوعمر لڑکے اس جرم کے مرتکب کیوں ہوئے؟؟۔  ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے ہمیں مندرجہ زیل سوالوں کے متعلق بھی سوچنا ہوگا کہ کیا والدین گھر میں انٹرنیٹ لگانے سے پہلے اس کے مثبت استعمال کے بارے میں بتا تے ہیں؟ کیا بچوں کو “سمارٹ فون” دلانے قبل اس کے استعمال کے بارے میں آگہی دی جاتی ہے؟؟ کیا اسکول میں بچوں کے اساتذہ تربیت یافتہ ہیں جو بچوں کی رہنمائی کر سکیں؟
کیا معاشرے میں چائلڈ رائٹس اور ان کی تحفظ کے متعلق کسی قسم کا پروگرام منعقد ہوتا ہے؟ کیا والدین اپنے بچوں کے دوستوں کے بارے میں جانتے ہیں؟؟

بقول شاعر
آو مل کر سمیٹ لیں خود کو
اس سے پہلے کہ دیر ہوجائے
ورنہ خدانخواستہ گلگت بلتستان کے حالات بھی پاکستان کے دیگر شہروں  جیسے نہ ہوجائیں کہ بقول جون ایلیا “اب کسی آدمی کے قتل ہونے کی خبر کوئی خبر نہیں رہی۔ ہوسکتا ہے قتل کی خبریں اپنا اثر کھو دینے کے باعث آیندہ اخباروں میں چھپنی بند ہوجائیں۔ “
ہمارے محترم دوست عمیر علی انجم کا یہ شعر اس صورت حال کی بھرپور عکاسی کرتا ہے
شہر کیوں سنسان ہے ویران کیوں ہیں راستے”
“ہوچکا ہے حادثہ یا حادثہ ہونے کو ہے

(یہ مضمون آن لائن پامیر ٹائمز پہ شائع ہوا ہے) Nov 14, 2014 pamir times

Thursday, November 13, 2014

"صرف" تین اموات





فرض کیجئے ایک ہی دن بلاوال زرداری اور مریم نواز(خدانخواستہ) کسی حادثے کا شکار ہوجائیں تو ملک کی صورت حال کیا ہوگی؟ بہت ہی اسان جواب ہے۔ ملک کا نظام درہم برہم ہوجائیگا۔ کئی مہینوں تک کاروبار زندگی مفلوج ہوجائیگی اور دونوں پارٹیاں، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کئی دنوں تک سوگ منائیں گی۔ ملک بھر میں گاڑیاں جلادی جائینگی، سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا جائیگا ، بینک لوٹ لئے جائنگے اور فاتحہ خوانی کی “پارٹیاں” منائی جائنگی۔ 2007 میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ملک کی صورت حال اس کی واضع مثال ہے۔
دوسرا منظر دیکھئے۔ صوبہ سندھ کے علاقے تھر میں چند ماہ قبل خشک سالی اور خوراک کی عدم دستیابی کے سبب سینکڑوں بچے جان بحق ہوگئےاور ہزاروں مویشی مر گئے۔ کچھ دنوں تک اخبارات اور ٹی وی چینلوں پر خبریں آتی رہی اور پھرہم سب بھول گئے۔ اب دوبارہ وہی صورت حال درپیش ہے۔ بھوک کی وجہ سے بچے بلک بلک کر مر رہے ہیں اور سندھ کے وزیر اعلی یہ کہتے ہوئے بھی نہیں شرمائے کہ “تھر میں بچے بھوک سے نہیں بلکہ غربت کی وجہ سے مر رہے ہیں۔” کل پھر دو بچے جان بحق ہوگئے جس کے بارے وزیراطلاعات سندھ شرجیل میمن نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ملک بھر میں 600 بچوں کی روزانہ اموات ہوتی ہے لیکن تھر میں 2 بچوں کی ہلاکتوں پر شور شرابہ کیا جارہا ہے۔” انھوں نے مزید کہا کہ تھرپارکر سندھ کا سب سے زیادہ پسماندہ ضلع ہے جہاں حکومت ریلیف کا کام بخوبی انجام دے رہی ہے اور پہلے مرحلے میں ضلع میں میٹھے پانی کے لئے آر او ز پلانٹ لگائے گئے ہیں، اگر تھرپارکر میں بارش نہیں ہوئی تو اس میں حکومت کچھ نہیں کرسکتی۔
بے حسی اور بے شرمی کی انتہا دیکھئے کہ عوام کا منتخب بندہ عوام کے بارے میں کہتا ہے کہ  “بارش نہیں ہوئی تو اس میں حکومت کچھ نہیں کرسکتی”۔ ملک کے عوام آخر شرجیل میمن سے یہ سوال کیوں نہیں پوچھتے کہ “برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر” کے مصداق غریب ہی اس کا شکار کیوں ہوتے ہیں؟ اگران بچوں میں شرجیل میمن کا بیٹایابیٹی بھی شامل ہوتی تو کیا وہ اس قسم کی باتیں کرتے یا سننے کی سکت رکھتے؟؟  کاش شرجیل میمن صاحب سے کوئی یہ سوال پوچھے کہ ان کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے قائد ذوالفقار علی بھٹوکے خاندان کے بھی “صرف” چار افراد مختلف ادوار میں جان بحق ہوگئے تھے ان چار اموات کا تذکرہ اب تلک کیوں کیا جارہا ہےِ ؟ وہ بھی تو “صرف” چار تھے۔
ان کا بیان یہ واضح کرتا ہے کہ ملک میں “جس کی لاٹھی اس کی بھینس” کے مصداق جنگل کا قانون ہے۔ مجھے ان لوگوں پر بہت زیادہ ترس آرہاہے کہ ان تمام مناظر کو دیکھنے کے باوجود ان پارٹیوں کے حق میں نعرے لگاتے ہیں۔ انھیں ان انکھوں سے محروم کردیا جاتا ہے جو اپنے جیسے عام آدمی کے مسائل دیکھ سکیں۔ ان کے پاس وہ کان بھی نہیں ہوتے جو مظلوم کی چیخیں سن سکیں اور نہ ہی وہ زبان ہوتی ہے جو ظلم کے خلاف بول سکے۔ وہی “رہنما” ان کارکنوں کی نظروں پر پٹیاں باندھکران کے ہاتھوں میں ایک مخصوص جھنڈا تھمادیتے ہیں اور بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکتے ہیں۔
 اس موقعے کے مناسبت سے دو سال پہلی لکھی نظم “کارکن” شدت سے یاد آرہی ہے۔
کارکن
چند افراد مر گئے تھے
واویلا کیوںکر مچاتے ہو
!ارے اخبار والو
تم پہ لاکھوں بار لعنت ہو
 کہ تم یہ کیوں نہیں لکھتے
ہمارے “رہنما” بالکل سلامت ہیں
خبر یہ بھی لگادو
مرنے والوں کو جلد پیسہ ملے گا

pamir times Nov11, 2014

Friday, October 31, 2014

جنات سے خصوصی انٹرویو



(صحافی دفتری کام میں مصروف۔۔۔ فون بجتا ہے۔۔۔صحافی فون اٹھاتا ہے)
غیبی آواز: رپورٹر صاحبب کہاں ہو؟
رپورٹر: میں دفتر میں ہوں۔ آپ کا اسم گرامی
غیبی آواز: ہم بہت دور سے آپ کے علاقے میں آئے ہیں۔۔۔ یعنی ویت نام سے۔ ہمیں آپ کے اخبار کے لئے ایک "ایکسکلوسیو" انٹرویو دینا ہے۔
رپورٹر: میرے پاس وقت نہیں ہے۔ میں مصروف ہوں۔
غیبی آواز: پھر ہمیں کسی اور اخبار کے نامہ نگار سے رابطہ کریں گے۔ بعد میں ہم سے کوئی گلہ نہ ہو۔
رپورٹر: جناب میں ابھی آتا ہوں۔ انتظار کیجئے۔
(رپورٹر صاحب کیمرہ اور دیگر ضروری سامان لے کرجگلوٹ اڈہ پہنچ جاتے ہیں )
25000 جنات نے ان کا والہانہ استقبال کیا اور اپنے سردار کے پہلو میں رپورٹر کے لئے ایک آرام دہ کرسی لگادی۔
(سلام دعا کے بعد تمام جنات نے فردآ فردآ اپنا مختصرتعارف کرایا اور انٹرویو شروع ہوتا گیا۔)
رپورٹر: آپ کہاں سے اور کیوں آئے ہیں۔
جن:ہم بہت طویل سفر طے کر کے آئے ہیں۔ ہم براستہ برما تھائی لینڈ سے ہوتے ہوئے ہزاروں کلومیٹر کا سفر طے کر کے خلیج بنگال پہنچ گئے۔ ہمارا اگلا پڑاو ہندوستان تھا۔ یہ سفر بحری جہاز میں طے کیا اور وہاں سے پی آئی اے کی پہلی پرواز میں پاکستان پہنچ گئے۔ (جس کے لئے ہمیں 24 گھنٹے انتظار کرنا پڑا۔کیونکہ پائلٹ ناشتہ نہ ملنے پر ہڑتال پہ تھا۔) 
رپورٹر: پاکستان سے گلگت بلتستان کا سفر کیسا ہر؟
دوسرا جن: مت پوچھئے جناب۔ ہم غلطی سے مشہ بروم کی بسوں میں سوار ہوگئے۔ راستے میں ایک مقام پر تمام مسافروں کو اتارا گیا۔ شناختی کارڈ پر نام پڑھ کر لوگوں کو الگ کیا اورانھیں قتل کیا گیا۔ شکر ہے ہم مسلمان نہیں ہیں۔ پم ہندومت کے ماننے والے ہیں۔ اس لئے بچ گئے۔
رپورٹر: گلگت کو ہی منتخب کرنے کی وجہ؟؟ یہاں کن کن علاقوں کا دورہ کریں گے؟
جن: ان دنون ویت نام کی درجہ ء حرارت 25 سے 38 ڈگری سنٹی گریٹ کے درمیان ہے۔ جبکہ سیاسی درجہء حرارت بھی جمود کا شکار ہے۔  کہیں بھی "انقلاب" اور "آزادی مارچ" کا نام ونشان تک نہیں ہے اور نہ ہی وہاں گلو بٹ ، پومی بٹ وغیرہ موجود ہیں۔ اس لئے ہم نے پاکستان آنے کا فیصلہ کیا۔ اسلام آباد پہنچ کر ہمیں معلوم ہوا کہ اس سے بھی عجیب اور انوکھا خطہ شمال میں پایا جاتا ہے۔ جہاںسال میں دو مرتبہ یوم آزادی منایا جاتا ہے۔ گورنر اور وزیر اعلیٰ چیف سکٹری کے ماتحت کام کرتے ہیں، ملک کے صرد کو اس خطے کا پورا نام معلوم نہیں ہے ، وہاں کے لوگ مہمانوں کو خلوص کے ساتھ ٹوپیاں پہناتے ہیں مگر وہ سیاست دان اس علاقے کے معصوم باسیوں کو "بڑی بڑی ٹوپیاں" پہناتے ہیں ، حقوق کے لئے احتجاج کرنے والوں پر گولیاں برسائی جاتی ہیں  اور قاتلوں کو سراہا جاتا ہے۔ یہ تمام باتیں سن کر ہم بلا تاخیر یہاں پہنچ گئے۔
تیسرا جن: ہمیں سیرکا بھی شوق ہے۔
رپورٹر: ان دنوں آب کی کیا مصروفیات ہیں؟
جن: رات کوان دنوں کشروٹ میں میوزیکل کنسرٹ کرتے ہیں اور باآواز بلند گانا گاتے ہیں۔
رپورٹر: سنا ہےرونے کی آوازین بھی آتی ہیں۔
چھوٹا جن: ہمیں گانے کا موقع نہیں ملتا ہے اس کئے روتے ہیں۔
جنات کا سردار: خاموش! ہم گلگت بلتستان کے لوگوں کی قسمت پر روتے ہیں۔
رپورٹر: اگر میں آپ سے دوبارہ ملنا چاہوں تو؟؟؟
جن: ہم کے- ٹوکے دامن میں، راکاپوشی کے مقام پر نانگاپربت کے قریبی علاقوں میں قیام کر سکتے ہیں۔ آپ "اپنا صحافتی اثروسوخ" استعمال کر کے یا بھر پریس کارڈ دیکھا کر ہم سے ملنے آسکتے ہیں۔        
(یہ پیکیج صرف آپ کے لئے اوار آپ کے اخبار کے لئے ہے۔)

published on Pamir Times, Oct 31, 2014