Friday, December 12, 2014

کیسے دربان؟

’’پہلے دو دن میری والدہ کی طبیعت سخت ناساز تھی۔ انھیں ہسپتال لیکر جانا تھااس لئے دفتر نہیں جاپایا۔ دسمبر کی دوسری تاریخ کو جب میں دفتر کے لئے گھر سے نکلا تو ٹریفک بری طرح جام تھا۔ یونیوسٹی روڈ کو دو جگہ کنٹینر لگا کر بند کر دیا گیا تھا۔ پہلے مجھے لگا کہ شاید شہر کے حالات ٹھیک نہیں یا پھر خدا نخواسته کوئی دھماکہ ہو گیا ہے۔ ‘‘
میرا دوست اجمل نیم تر آنکھوں کے ساتھ نوکری سے فارغ کردئے جانے کی کہانی سنا رہاتھا۔
’’جیسے تیسے میں دفتر پہنچ گیا مگر ایک گھنٹہ تاخیر سے۔۔۔میرے بوس آگ بگولا ہوگئے۔ وہ بھی حق بجانب تھے کیونکہ والدہ کی طبیعت کی خرابی کی وجہ سے دو دن دفتر کی چھٹی کی تھی اور تیسرے دن مقررہ وقت سے ایک گھنٹے بعد پہنچا تھا۔ ‘‘
اجمل چونکہ گھر کا واحد کفیل ہے اوردو شفٹوں میں کام کرتا ہے۔ صبح آٹھ بجے سے چار بجے تک ہارڈ ویئر کمپنی میں اور رات کو ایک کھلونوں کی دکان پر بطور سیل مین کام کرتا ہے۔
’’چوتھے دن دفتر جانے کے لئے متبادل راستے کا انتخاب کیا اور بجائے یونیورسٹی روڈ کے ، براستہ نیشنل سٹیڈیم رو ڑ دفتر کی جانب نکلا۔جب میں لیاقت ہسپتال کے قریب پہنچا تو معلوم ہوا کہ وہاں بھی شاہراہ کو کنٹینر لگا کر بند کردیا گیا ہے۔ پرایشانی کے عالم میں بس سے اتر کر رکشہ لیا اور وقت پر دفتر پہنچنے کی ناکام کوشش کی۔میرے بوس نے بغیر ایک سوال پوچھے تین دنوں کے پیسے پکڑا دئے۔ میں نے اپنی مجبوریاں پیش کرنے کی کوشش کی مگر بے سود۔۔۔ انھوں نے صاف کہہ دیا کہ کسی مجبوری کا ذکر مت کرنا میری بھی مجبوری ہے۔ خدا حافظ۔۔۔۔
میرے ذہن پر اپنی والدہ کی ادویات، گھر کا کرایہ ، کچن کے اخراجات، چھوٹے بھائی کی فیس اور اپنی نوکری کے بارے میں کئی سوالات مسلسل ہتھوڑے کی طرح برس رہے تھے اور ہنوز یہ سلسلہ جاری۔۔۔ آخر میرا قصور کیا ہے؟ میرا مجرم کون ہے؟ میرے نقصانات کا آزالہ کون کرے گا؟ ‘‘ (اور پھر وہ بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا)
یہ ایک اجمل کی کہانی نہیں ہے ۔ روشنیوں کے شہر کے کئی اجمل پچھلے چار دنوں سے پریشانیوں کے اندیھروں میں ڈوب رہے ہیں ۔ اس کی وجہ کراچی ایکسپو سنٹر میں جاری’’ دفاعی نمائش: آئیدیاز 2014 ‘‘ ہے۔ اس کے سبب شہریوں کی معمولات زندگی بری طرح متا ثرہے کیونکہ مین شاہراہوں کو کنٹینر لگاکر بند کیا کردیا ہے اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔ لوگ وقت پر دفتر نہیں پہنچ پاتے، ایمبولنس ہسپتال نہیں پہنچ سکتے اوربچے وقت پر اسکول نہیں پہنچ پارہے۔۔۔۔یوں کہہ لیجئے کہ زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے۔
اس موقعے کی مناسبت سے میں حکومت اور خصوصاً پاک فوج سے چند سوالات پوچھنے کی جسارت کر رہا ہوں ۔
١۔ ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہی ہے اور ملک کے سالانہ بجٹ کا بہت بڑا حصہ دفاع پر خرچ کیاجاتا ہے۔جس کی وجہ سے بنیادی ضروریات مثلاً تعلیم ، خوراک کو ترجیح نہیں دی جاتی۔عام آدمی مشکل سے زندگی کی گاڑی کو کھینچ رہا ہے ، ایسے میں کراچی جیسے گنجان آباد شہر میں یہ میلہ لگاکر عوا م کو کیوں پریشان کیا جارہاہے؟
٢۔ ایک اخباری رپورٹ کراچی کاایک بڑا رقبہ فوج کے قبضے میں ہے، شہر کے قلب میں یہ تماشہ رچانے کے بجائے ملیر کینٹ جیسی ممنوعہ جگہ پر کیوں منعقد نہیں کیا گیا کیوں کہ عام آدمی کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے؟
٣۔ اس نمائش سے عام آدمی کو کیا فائدہ پہنچ رہا ہے؟
٤۔ کیا کبھی حکومت اور پاک فوج نے نئی نسل اور طالب علموں کے لئے ایسی پروقار تقریب کا انعقاد کیا یا کوئی کتابی میلہ لگایا؟
اور رہی بات دفاعی اسلحہ اور اس کے کردار کی تو مجھے رہ رہ کر وسعت اللہ خان صاحب کے وہ الفاظ یاد آرہے ہیں جو انھوں نے ایٹم بم کے بارے میں کہے تھے۔
’’یہ ایٹم بم نہیں بلکہ غریب کے د رپہ بندھا ہاتھی ہے جس کے گنے بھی پورے نہیں ہوپارہے تم سے۔۔۔۔بلکہ میں تو یوں کہوں کہ یہ ایٹم بم نہ ہوا سولہ دوشیزہ ہوگئی کہ کوئی اٹھاکر نہ کے جائے۔ اپنی حفاظت کے لئے بنایا تھا ناں ؟ اب اس کی حفاظت کے لالے پڑے ہیں ۔‘‘

Wednesday, December 3, 2014

بے مقصد۔۔۔"دفاعی نمائش آئیڈیاز "2014





جگہ جگہ مین شاہراہیں کنٹینر لگاکر بند کردی گئی ہیں،  ٹریفک جام ہونے کی وجہ سے معمولات زندگی بری طرح متاثرہے، ایمبولنس وقت پرہسپتال نہیں پہنچ پارہے، لوگوں کو دفتر پہنچے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، بچے وقت پر اسکول نہیں پہنچ پاتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان تمام مسائل کا سبب " دفاعی نمائش آئیڈیاز 2014" ہے۔ جس کے باعث شہر قائد کے عوام کی زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے۔ 
میں حکومت خصوصا افواج پاکستان چند سوالات پوچھنا چاہتا ہوں
۱۔ اس نمائش سے ملک کے عوام کو کیا فائدہ ہے، سوائے خواری کے ؟
۲۔ کیا کروڑوں ڈالر کے عوض یہ اسلحہ تمائش کے لئے خریدا گیا ہے؟
کیونکہ ہر معرکے میں ثابت ہوچکا ہے ان ہتھیار کا استعمال دشمن کے خلاف نہیں ہوتا اور نہ ہی سرحدوں کی حفاظت کر پائے ہیں۔  سقوط ڈھاکہ سے لے کر کرگل محاز تک کے قصے مثالی نمونے ہیں ان سے صرف اپنے شہریوں گولیاں چلائی جاتی ہیں۔
۳، اس نمائش کا مقصد کیا ہے؟
۴۔ کیا کبھی افواج پاکستان یا حکومتی طور پر اتنے بڑے کتب میلے کا انعقاد ہوا ہے؟
۵۔ شہر کے فلب میں یہ تماشا رچانے کے بجائے ان مقامت پر یہ  نمائش کیوں نہیں لگائی جو پہلے سے فوج کے قبضے میں ہے۔ یاد رہے کہ ایک رپورٹ کے مطابق کراچی کا ایک بڑا رقبہ افواج کے قبضے میں ہے۔

یوں گماں ہوتا ہے کہ یہ تمام ہتھیار صرف نمائش کے لئے ہی خریدا گیا ہے

Friday, November 14, 2014

“ہوچکا ہے حادثہ یا حادثہ ہونے کو ہے”

“دل چاہ رہا ہے کہ معصوم حسنین کے قاتلوں کی آنکھیں نوچ لوں اور ان کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے کتوں کو کھلادوں۔ “
کیا میں درندہ ہوگیا ہوں؟ اگر نہیں تو کسی انسان کے بارے میں ایسا کیسے سوچ سکتا ہوں۔؟
ا
گر ہاں تو اس کی وجہ کیا ہے؟ مجھ میں یہ درندگی کیوں اور کیسے جاگ اٹھی؟؟



ہر عمل کا رد عمل ہوتا ہے اور ہر واقعے سے پہلے ایک واقعہ رونما ہوچکا ہوتا ہے جو دوسرے واقعے کا سبب بنتا ہے۔ پہلا واقعہ دوسرے واقعے سے زیادہ اہم ہوتا ہے۔
یں تشدد پسند نہیں ہوں۔ مجھ میں درندگی اس معصوم بچے کی خون سے تر چہرے کی تصویر دیکھ کر جاگ اٹھی۔ اس افسوس ناک واقعے کے بعد ہمارے اہل قلم مجرموں کو کڑی سے کڑی سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ فرض کیجئے انہیں سزا مل جاتی ہے تو کیا اس کے بعد گلگت میں اس قسم کے واقعات رونما نہیں ہونگے؟؟ اگر ہم نے پہلے واقعے کے بارے میں سنجیدگی سے نہیں سوچا تو آیندہ بھی اس طرح کے واقعات یقینآ رونما ہونگے کیونکہ جس معاشرے میں بے زبان جانوروں کو ہوس کا نشانہ بنایا جاتا ہو وہاں کسی بڑی تبدیلی کی توقع رکھنا بلی کے خواب میں چھیچھڑے کے مترادف ہے۔
آج سول سوسائٹی اور حکومت “پہلے واقعے” کے بجائے “دوسرے واقعے” کو اہمیت دے رہی ہیں اور اس پر غور کر رہی ہیں۔ ہمیں پہلے واقعے کا بارے میں بھی سوچنا پڑیگا  کہ یہ نوعمر لڑکے اس جرم کے مرتکب کیوں ہوئے؟؟۔  ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے ہمیں مندرجہ زیل سوالوں کے متعلق بھی سوچنا ہوگا کہ کیا والدین گھر میں انٹرنیٹ لگانے سے پہلے اس کے مثبت استعمال کے بارے میں بتا تے ہیں؟ کیا بچوں کو “سمارٹ فون” دلانے قبل اس کے استعمال کے بارے میں آگہی دی جاتی ہے؟؟ کیا اسکول میں بچوں کے اساتذہ تربیت یافتہ ہیں جو بچوں کی رہنمائی کر سکیں؟
کیا معاشرے میں چائلڈ رائٹس اور ان کی تحفظ کے متعلق کسی قسم کا پروگرام منعقد ہوتا ہے؟ کیا والدین اپنے بچوں کے دوستوں کے بارے میں جانتے ہیں؟؟

بقول شاعر
آو مل کر سمیٹ لیں خود کو
اس سے پہلے کہ دیر ہوجائے
ورنہ خدانخواستہ گلگت بلتستان کے حالات بھی پاکستان کے دیگر شہروں  جیسے نہ ہوجائیں کہ بقول جون ایلیا “اب کسی آدمی کے قتل ہونے کی خبر کوئی خبر نہیں رہی۔ ہوسکتا ہے قتل کی خبریں اپنا اثر کھو دینے کے باعث آیندہ اخباروں میں چھپنی بند ہوجائیں۔ “
ہمارے محترم دوست عمیر علی انجم کا یہ شعر اس صورت حال کی بھرپور عکاسی کرتا ہے
شہر کیوں سنسان ہے ویران کیوں ہیں راستے”
“ہوچکا ہے حادثہ یا حادثہ ہونے کو ہے

(یہ مضمون آن لائن پامیر ٹائمز پہ شائع ہوا ہے) Nov 14, 2014 pamir times

Thursday, November 13, 2014

"صرف" تین اموات





فرض کیجئے ایک ہی دن بلاوال زرداری اور مریم نواز(خدانخواستہ) کسی حادثے کا شکار ہوجائیں تو ملک کی صورت حال کیا ہوگی؟ بہت ہی اسان جواب ہے۔ ملک کا نظام درہم برہم ہوجائیگا۔ کئی مہینوں تک کاروبار زندگی مفلوج ہوجائیگی اور دونوں پارٹیاں، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کئی دنوں تک سوگ منائیں گی۔ ملک بھر میں گاڑیاں جلادی جائینگی، سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا جائیگا ، بینک لوٹ لئے جائنگے اور فاتحہ خوانی کی “پارٹیاں” منائی جائنگی۔ 2007 میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ملک کی صورت حال اس کی واضع مثال ہے۔
دوسرا منظر دیکھئے۔ صوبہ سندھ کے علاقے تھر میں چند ماہ قبل خشک سالی اور خوراک کی عدم دستیابی کے سبب سینکڑوں بچے جان بحق ہوگئےاور ہزاروں مویشی مر گئے۔ کچھ دنوں تک اخبارات اور ٹی وی چینلوں پر خبریں آتی رہی اور پھرہم سب بھول گئے۔ اب دوبارہ وہی صورت حال درپیش ہے۔ بھوک کی وجہ سے بچے بلک بلک کر مر رہے ہیں اور سندھ کے وزیر اعلی یہ کہتے ہوئے بھی نہیں شرمائے کہ “تھر میں بچے بھوک سے نہیں بلکہ غربت کی وجہ سے مر رہے ہیں۔” کل پھر دو بچے جان بحق ہوگئے جس کے بارے وزیراطلاعات سندھ شرجیل میمن نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ملک بھر میں 600 بچوں کی روزانہ اموات ہوتی ہے لیکن تھر میں 2 بچوں کی ہلاکتوں پر شور شرابہ کیا جارہا ہے۔” انھوں نے مزید کہا کہ تھرپارکر سندھ کا سب سے زیادہ پسماندہ ضلع ہے جہاں حکومت ریلیف کا کام بخوبی انجام دے رہی ہے اور پہلے مرحلے میں ضلع میں میٹھے پانی کے لئے آر او ز پلانٹ لگائے گئے ہیں، اگر تھرپارکر میں بارش نہیں ہوئی تو اس میں حکومت کچھ نہیں کرسکتی۔
بے حسی اور بے شرمی کی انتہا دیکھئے کہ عوام کا منتخب بندہ عوام کے بارے میں کہتا ہے کہ  “بارش نہیں ہوئی تو اس میں حکومت کچھ نہیں کرسکتی”۔ ملک کے عوام آخر شرجیل میمن سے یہ سوال کیوں نہیں پوچھتے کہ “برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر” کے مصداق غریب ہی اس کا شکار کیوں ہوتے ہیں؟ اگران بچوں میں شرجیل میمن کا بیٹایابیٹی بھی شامل ہوتی تو کیا وہ اس قسم کی باتیں کرتے یا سننے کی سکت رکھتے؟؟  کاش شرجیل میمن صاحب سے کوئی یہ سوال پوچھے کہ ان کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے قائد ذوالفقار علی بھٹوکے خاندان کے بھی “صرف” چار افراد مختلف ادوار میں جان بحق ہوگئے تھے ان چار اموات کا تذکرہ اب تلک کیوں کیا جارہا ہےِ ؟ وہ بھی تو “صرف” چار تھے۔
ان کا بیان یہ واضح کرتا ہے کہ ملک میں “جس کی لاٹھی اس کی بھینس” کے مصداق جنگل کا قانون ہے۔ مجھے ان لوگوں پر بہت زیادہ ترس آرہاہے کہ ان تمام مناظر کو دیکھنے کے باوجود ان پارٹیوں کے حق میں نعرے لگاتے ہیں۔ انھیں ان انکھوں سے محروم کردیا جاتا ہے جو اپنے جیسے عام آدمی کے مسائل دیکھ سکیں۔ ان کے پاس وہ کان بھی نہیں ہوتے جو مظلوم کی چیخیں سن سکیں اور نہ ہی وہ زبان ہوتی ہے جو ظلم کے خلاف بول سکے۔ وہی “رہنما” ان کارکنوں کی نظروں پر پٹیاں باندھکران کے ہاتھوں میں ایک مخصوص جھنڈا تھمادیتے ہیں اور بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکتے ہیں۔
 اس موقعے کے مناسبت سے دو سال پہلی لکھی نظم “کارکن” شدت سے یاد آرہی ہے۔
کارکن
چند افراد مر گئے تھے
واویلا کیوںکر مچاتے ہو
!ارے اخبار والو
تم پہ لاکھوں بار لعنت ہو
 کہ تم یہ کیوں نہیں لکھتے
ہمارے “رہنما” بالکل سلامت ہیں
خبر یہ بھی لگادو
مرنے والوں کو جلد پیسہ ملے گا

pamir times Nov11, 2014

Friday, October 31, 2014

جنات سے خصوصی انٹرویو



(صحافی دفتری کام میں مصروف۔۔۔ فون بجتا ہے۔۔۔صحافی فون اٹھاتا ہے)
غیبی آواز: رپورٹر صاحبب کہاں ہو؟
رپورٹر: میں دفتر میں ہوں۔ آپ کا اسم گرامی
غیبی آواز: ہم بہت دور سے آپ کے علاقے میں آئے ہیں۔۔۔ یعنی ویت نام سے۔ ہمیں آپ کے اخبار کے لئے ایک "ایکسکلوسیو" انٹرویو دینا ہے۔
رپورٹر: میرے پاس وقت نہیں ہے۔ میں مصروف ہوں۔
غیبی آواز: پھر ہمیں کسی اور اخبار کے نامہ نگار سے رابطہ کریں گے۔ بعد میں ہم سے کوئی گلہ نہ ہو۔
رپورٹر: جناب میں ابھی آتا ہوں۔ انتظار کیجئے۔
(رپورٹر صاحب کیمرہ اور دیگر ضروری سامان لے کرجگلوٹ اڈہ پہنچ جاتے ہیں )
25000 جنات نے ان کا والہانہ استقبال کیا اور اپنے سردار کے پہلو میں رپورٹر کے لئے ایک آرام دہ کرسی لگادی۔
(سلام دعا کے بعد تمام جنات نے فردآ فردآ اپنا مختصرتعارف کرایا اور انٹرویو شروع ہوتا گیا۔)
رپورٹر: آپ کہاں سے اور کیوں آئے ہیں۔
جن:ہم بہت طویل سفر طے کر کے آئے ہیں۔ ہم براستہ برما تھائی لینڈ سے ہوتے ہوئے ہزاروں کلومیٹر کا سفر طے کر کے خلیج بنگال پہنچ گئے۔ ہمارا اگلا پڑاو ہندوستان تھا۔ یہ سفر بحری جہاز میں طے کیا اور وہاں سے پی آئی اے کی پہلی پرواز میں پاکستان پہنچ گئے۔ (جس کے لئے ہمیں 24 گھنٹے انتظار کرنا پڑا۔کیونکہ پائلٹ ناشتہ نہ ملنے پر ہڑتال پہ تھا۔) 
رپورٹر: پاکستان سے گلگت بلتستان کا سفر کیسا ہر؟
دوسرا جن: مت پوچھئے جناب۔ ہم غلطی سے مشہ بروم کی بسوں میں سوار ہوگئے۔ راستے میں ایک مقام پر تمام مسافروں کو اتارا گیا۔ شناختی کارڈ پر نام پڑھ کر لوگوں کو الگ کیا اورانھیں قتل کیا گیا۔ شکر ہے ہم مسلمان نہیں ہیں۔ پم ہندومت کے ماننے والے ہیں۔ اس لئے بچ گئے۔
رپورٹر: گلگت کو ہی منتخب کرنے کی وجہ؟؟ یہاں کن کن علاقوں کا دورہ کریں گے؟
جن: ان دنون ویت نام کی درجہ ء حرارت 25 سے 38 ڈگری سنٹی گریٹ کے درمیان ہے۔ جبکہ سیاسی درجہء حرارت بھی جمود کا شکار ہے۔  کہیں بھی "انقلاب" اور "آزادی مارچ" کا نام ونشان تک نہیں ہے اور نہ ہی وہاں گلو بٹ ، پومی بٹ وغیرہ موجود ہیں۔ اس لئے ہم نے پاکستان آنے کا فیصلہ کیا۔ اسلام آباد پہنچ کر ہمیں معلوم ہوا کہ اس سے بھی عجیب اور انوکھا خطہ شمال میں پایا جاتا ہے۔ جہاںسال میں دو مرتبہ یوم آزادی منایا جاتا ہے۔ گورنر اور وزیر اعلیٰ چیف سکٹری کے ماتحت کام کرتے ہیں، ملک کے صرد کو اس خطے کا پورا نام معلوم نہیں ہے ، وہاں کے لوگ مہمانوں کو خلوص کے ساتھ ٹوپیاں پہناتے ہیں مگر وہ سیاست دان اس علاقے کے معصوم باسیوں کو "بڑی بڑی ٹوپیاں" پہناتے ہیں ، حقوق کے لئے احتجاج کرنے والوں پر گولیاں برسائی جاتی ہیں  اور قاتلوں کو سراہا جاتا ہے۔ یہ تمام باتیں سن کر ہم بلا تاخیر یہاں پہنچ گئے۔
تیسرا جن: ہمیں سیرکا بھی شوق ہے۔
رپورٹر: ان دنوں آب کی کیا مصروفیات ہیں؟
جن: رات کوان دنوں کشروٹ میں میوزیکل کنسرٹ کرتے ہیں اور باآواز بلند گانا گاتے ہیں۔
رپورٹر: سنا ہےرونے کی آوازین بھی آتی ہیں۔
چھوٹا جن: ہمیں گانے کا موقع نہیں ملتا ہے اس کئے روتے ہیں۔
جنات کا سردار: خاموش! ہم گلگت بلتستان کے لوگوں کی قسمت پر روتے ہیں۔
رپورٹر: اگر میں آپ سے دوبارہ ملنا چاہوں تو؟؟؟
جن: ہم کے- ٹوکے دامن میں، راکاپوشی کے مقام پر نانگاپربت کے قریبی علاقوں میں قیام کر سکتے ہیں۔ آپ "اپنا صحافتی اثروسوخ" استعمال کر کے یا بھر پریس کارڈ دیکھا کر ہم سے ملنے آسکتے ہیں۔        
(یہ پیکیج صرف آپ کے لئے اوار آپ کے اخبار کے لئے ہے۔)

published on Pamir Times, Oct 31, 2014

Wednesday, October 29, 2014

ذاتی مقاصد کے لئے اسلام کا استعمال



“شاتم رسول، منکر اسلام خورشید شاہ”

آج کل کراچی کی دیواروں پر اس نوعیت کے نعرے دیکھائی دیتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ “مہاجر صوبے” کا مطالبہ بھی ان بے جان دیواروں سے کیا جارہا ہے۔ پاکستان میں اسلام کو اپنے مقاصد کی خاطراستعمال کرنے کا فارمولا نیا نہیں ہے۔ کبھی ذاتی دشمنی نکالنے، کہیں سیاسی “اسکور” کرنے، کہیں چینل کی ریٹنگ بڑھانے ، “ثواب” کمانے اور کہیں جائداد پر قبضہ کرنے کے لئے نہایت عیاری سے اسلام کا استعمال کیا جاتا ہے۔
ان دنوں ایم کیو ایم کا خورشید شاہ کے بیان کے بعد رد عمل بھی اس کی ایک مثال ہے۔ اسی واقعے کے بعد ایک سینئر بیرسٹر نے بھی “بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے” کی کوشش میں حزب اختلاف کے رہنما کے خلاف مقدمہ دائرکیا ہے۔ اخباری رپورٹس کے مطابق اس سے قبل رواں سال بہاوالدین ذکریا یونیورسٹی کے ایک لیکچرار پر بھی اسی نوعیت کا مقدمہ چلایا گیا اور اس کے وکیل کو بے دردی سے قتل کیا گیاتھا۔ اب ایک سیاسی جماعت اپنی ذاتی مفادات کے لئے اسی عمل کو دہرا رہی ہے۔ ان کا صوبے کا مطالبہ حق بجانب ہے مگر مذہب کا استعمال اور لسانی منافرت نہایت غیر دانشمندانہ قدم ہے۔
حکو مت اور عدلیہ کو چاہئے کہ اس حساس مسئلے کا کوئی قانونی حل تلاش کریں۔ تاکہ لوگ اپنے ذاتی مفادات کے لئے اس کا استعمال نہ کریں۔
آئو مل کر سمیٹ لیں خود کو
اس سے پہلے کہ دیر ہوجائے

Pamir Times Oct 29, 2014

Tuesday, October 21, 2014

"ہر گھر سے بھٹو نکلے گا"

پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقارعلی بھٹوکا 4اپریل 1979ء کو 51 سال کی عمر سیاسی قتل ہوا۔ چند سالوں کے بعد ان کے چھوٹے صاحبزادے شاہنواز15 جولائی 1985 کو فرانس کے شہر، نائس میں پراسرار طور پر قتل کر دئے گئے۔ ان کی عمر 26 سال تھی۔ بھٹو کے بڑے بیٹے میر مرتضیٰ بھٹو کو 20 ستمبر 1996 کراچی میں چھے ساتھیوں سمیت "پولیس مقابلے" میں ماردیا۔ اس وقت ان کی عمر 42 سال تھی۔
اس خاندان کے ان تین افراد کے قتل کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو کے نے سیاست آگئیں تو کئی سیاسی نعرے مشہور ہوئے مثلآ چاروں صوبوں کی زنجیر ۔۔۔ بے نظیر بے نظیر وغیرہ۔ ان میں یہ نعرہ بھی شامل تھا۔ "تم کتنے بھٹو ماروگے۔۔۔ ہر گھر سے بھٹو نکلے گا۔"
پھر 27 دسمبر 2007  افسوسناک سانحہ رونما ہوا جس میں پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم اور بھٹو خاندان کے چوتھے چراغ کو گُل کردیا گیا۔ ان کے قتل کے فورآ بعد آصف علی زرداری نے ایک پریس کانفریس بلوائی اور اس میں دو اہم اعلانات کئے گئے۔
پہلا بی بی کا وصیت نامہ
دوسرا، آصف زرداری کی اولاد کا اپنے نام کے ساتھ "بھٹو" کے صیغے کا اضافہ کرنا۔
اب پاکستان پیپلز پارٹی کے روح رواں بلاول "بھٹو" زرداری ہیں اور ڈرائونگ سیٹ کے برابر میں آصف علی زرداری۔  ستر کی دہائی سے اب تک یعنی تقریبآ 45 سال کے طویل مدت کا سفر طے کرنے کے بعد  اب "دوسرے گھر" یعنی زرداری خاندان سے "بھٹو" نکل آیا۔ خدا جانے "ہرگھر"  سے بھٹو نکلنے کے لئے مزید کتنے سال درکار ہونگے۔