Monday, March 23, 2015

بھگت سنگھ: وہ تاریخ جو مٹ نہیں سکتی

23 مارچ کا دن برطانوی سامراج کے خلاف آزادی کی جدوجہد کے کئی حوالوں سے مشہور ہے۔ تاہم اس دن سے وابستہ ایک اہم تاریخی واقعے کو حکمران طبقے کے تاریخ دان دانستہ طور پر چھپاتے یا مسخ انداز میں پیش کرتے ہیں۔ اس معاملے میں ہندوستان اور پاکستان، دونوں ریاستوں کے سرکاری تاریخ دانوں کا کردار ایک دوسرے سے مختلف نہیں ہے۔ 23 مارچ ’’ہندوستان سوشلسٹ ری پبلکن ایسوسی ایشن‘‘ (HSRA) کے پرچم تلے برطانوی سامراج اور اس کے استحصالی سامراجی نظام کے خلاف جدوجہد کرنے والے 23 سالہ انقلابی نوجوان بھگت سنگھ اور اس کے جرات مند ساتھیوں سکھ دیو اور راج گرو کی شہادت کا دن ہے۔ علم بغاوت بلند کرنے والے ان تینوں انقلابیوں کو برطانوی سامراج نے 23 مارچ 1931ء کی تاریک رات میں لاہور جیل کے پھانسی گھاٹ کے تختہ دار پر لٹکا دیا تھا۔ 
آج ہندوستان سوشلسٹ ری پبلکن ایسوسی ایشن (HSRA) سے وابستہ نوجوانوں کی جدوجہد کو پاکستان اور بھارت کا کارپوریٹ میڈیا اور حکمران طبقے کے مختلف دھڑے اپنے اپنے سیاسی اور مالی مفادات کے تحت مختلف انداز میں پیش کرتے ہیں۔ پاکستان کا مذہبی دایاں بازو بھگت سنگھ کو کافر اور ’’دہشت گرد‘‘ قرار دیتا ہے۔ بھگت سنگھ کے حقیقی نظریات کو بگاڑنے کے لئے اس کے سکھ پس منظر کا حوالہ بھی دیا جاتا ہے۔ دائیں بازو کے سیاست دان تحریک آزادی میں بھگت سنگھ کے کردار کو اس لئے بھی مسترد کرتے ہیں کیونکہ اس کی جدوجہد اور نظریات آج بھی برصغیر کے محنت کش عوام کو اس غیر انسانی استحصالی نظام کے خلاف طبقاتی بنیادوں پر یکجا ہوکر لڑنے کا پیغام دیتے ہیں۔ سیاسی دایاں بازو اور مذہبی بنیاد پرست اس گلے سڑے سرمایہ دارانہ نظام کے سب سے بڑے حمایتی اور خیر خواہ ہیں۔ HSRA کے انقلابیوں نے برطانوی راج کی برصغیر پر براہ راست حکمرانی کے ساتھ ساتھ اس سامراجی نظام کے خلاف بھی جدوجہد کا پیغام دیا تھا جو ’’آزادی‘‘ کی چھ دہائیوں بعد بھی سرحد کے دونوں اطراف عوام کو معاشی غلامی اور استحصال کا نشانہ بنائے ہوئے ہے۔ یہ وہ جرم ہے جسے سامراجی آقا اور ان کے مقامی دلال کبھی معاف نہیں کرسکتے۔ 
بھارتی حکمران طبقے کی جانب سے بھگت سنگھ کی بالواسطہ کردار کشی یہاں کی نسبت زیادہ افسوسناک ہے۔ یہ تاریخ کا المیہ ہے کہ کچھ مہینے پہلے درندہ صفت ہندو بنیاد پرست اور بھارتی سرمایہ داروں کے محبوب سیاستدان نریندرامودی کو بھگت سنگھ کی آپ بیتیوں پر مبنی ایک کتاب کی تقریب رونمائی میں خصوصی مہمان کے طور پر مدعو کیا گیا تھا۔ اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ اپنی شہادت کی سات دہائیوں بعد بھی بھگت سنگھ نوجوانوں میں مقبول ہے اور دایاں بازو اسی مقبولیت کو کیش کروانے کی کوشش کررہا ہے۔ دائیں بازو کی طرح کانگریس اور اصلاح پسند بایاں بازو بھی ’’تبدیلی‘‘ کی لفاظی اور سیاسی شعبدے بازی کے لئے بھگت سنگھ کے نام کا سہارا لیتا ہے۔ لیکن حکمران طبقے کے مختلف حصوں کی یہ بیہودہ چالبازیاں بھگت کے حقیقی نظریاتی ارتقا پر پردہ نہیں ڈال سکتی ہیں۔ موت کے وقت وہ اپنی سیاسی زندگی کے اس نظریاتی نچوڑ اور نتیجے پر چٹان کی طرح قائم تھا کہ برصغیر کے عوام کی نجات کا واحد راستہ سوشلسٹ انقلاب ہے۔ 
اپنی تحریروں میں بھگت سنگھ واضح طور پر طبقاتی مصالحت اور موقع پرستی کو مسترد کرتا ہے۔ ’’انقلابی پرگرام کا بنیادی خاکہ: نوجوان سیاسی کارکنان کے نام ایک خط‘‘ میں وہ واضح طور پر لکھتا ہے کہ ’’آپ لوگ ’’انقلاب زندہ باد‘‘ کا نعرہ لگاتے ہیں۔ میں توقع کرتا ہوں کہ آپ کو اندازہ ہو گا کہ اس نعرے کا مطلب کیا ہے۔ ہماری تعریف کے مطابق انقلاب کا مطلب اس سماجی نظام کو اکھاڑ کر ایک سوشلسٹ نظام قائم کرنا ہے۔ ۔ ۔ اگر آپ کسانوں اور مزدوروں کی حمایت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو یہ جان لیجیے کہ وہ جذباتی باتوں سے بیوقوف بننے والے نہیں۔ وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ : جس انقلاب کے لئے آپ ان سے قربانی مانگ رہے ہیں وہ انہیں کیا دے سکتا ہے؟ آپ کو انہیں یقین دلانا پڑے گاکہ انقلاب ان کا ہے اور انہی کے فائدے کے لئے ہے۔ پرولتاریہ کے لئے پرولتاری انقلاب۔ ۔ ۔ اگر لارڈ ریڈنگ کی جگہ سر پرشوتم داس ٹھاکر حکومت کا نمائندہ بن جائے تو عوام کی زندگیوں میں کیا فرق پڑے گا؟ اگر لارڈ ارون کی جگہ سر تیج بہادر سپارو لے لے تو ایک کسان کی زندگی میں کیا تبدیلی آئے گی؟ قوم پرست سراسر ڈھونگ رچا رہے ہیں۔ آپ کو ان سے کوئی فائدہ نہیں ملنے والا۔‘‘ (2 فروری 1931ء) 
بھگت سنگھ اخباری مضامین اور سیاسی اشتہاروں میں مہاتما گاندھی کی عیاری اور جھوٹ کو بھی بے نقاب کرتا ہے: ’’وہ (گاندھی) اچھی طرح جانتا تھا یہ تحریک کسی نہ کسی طرح مصالحت پر ہی منتج ہوگی۔ ہمیں سیاسی ذمہ داری کے اس فقدان سے نفرت ہے۔ ‘‘کانگریس کے بارے میں وہ لکھتا ہے: ’’کانگریس کا مقصد کیا ہے؟ میں نے پہلے کہا ہے کہ موجودہ تحریک کسی مصالحت یا مکمل ناکامی پر ختم ہوگی۔ میں نے ایسا اس لئے کہا تھا کہ حقیقی انقلابی قوتوں کو تحریک میں شامل ہونے کی دعوت ہی نہیں دی گئی۔ اس تحریک کی بنیاد چند ایک مڈل کلاس دکاندار اور کچھ سرمایہ دار ہیں۔ یہ دونوں طبقات اپنی جائیداد کو خطرے میں نہیں ڈال سکتے۔ انقلاب کی حقیقی افواج دیہاتوں اور فیکٹریوں کے کسان اور مزدور ہیں۔ یہ سوتے ہوئے شیراگر جاگ گئے تو ہمارے سیاسی رہنماؤں کا فوری مقصد پورا ہونے کے بعد بھی رکیں گے نہیں۔ ‘‘بھگت سنگھ کے یہ الفاظ اس وقت سو فیصد درست ثابت ہوئے جب بمبئی میں کپڑے کی صنعت کے محنت کشوں کی جرات مندانہ تحریک کے بعد گاندھی نے انقلاب کا خطرہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ’’سیاسی مقاصد کے لئے پرولتاریہ (مزدوروں) کا استعمال بہت خطرناک ہوسکتا ہے۔ ‘‘یہ ایک بیان گاندھی جیسے مقامی حکمران طبقے کے سیاسی نمائندوں کی برصغیر کے محنت کش طبقے سے نفرت اور خوف کی خوب 
غمازی کرتا ہے۔ 
یہ درست ہے کہ ایک وقت میں بھگت سنگھ ’’غدر تحریک‘‘ سے بہت متاثر تھا اور کرتار سنگھ سرابھا کو اپنا ہیرو سمجھتا تھا۔ غدر تحریک کے اندرونی حالات پر مبنی سچندرا ناتھ سنیال کی کتاب ’’بندی جیون‘‘ کو بھگت سنگھ اور اس کے ساتھی لاہور کے نیشنل سکول میں طالب علمی کے عہد میں پڑھتے تھے۔ یہ نوجوان غدر تحریک پر 1918ء میں برطانوی حکومت کی ’’رولٹ کمیٹی‘‘ کی جانب سے شائع ہونے والی رپورٹ پر بھی تبصرے کرتے تھے۔ بھگت سنگھ غدر پارٹی کے کئی اہم رہنماؤں سے ذاتی طور پر ملا بھی تھا۔ غدر پارٹی کا سیکولر نظریہ بھگت سنگھ کی نظر میں مذہبی اورصوفیانہ طرز فکر سے بہتر تھا۔ تاہم بعد ازاں بھگت سنگھ اور اس کے ساتھیوں نے غدر تحریک کی ناکامی کے پیچھے کارفرما سیاسی اور نظریاتی کمزوریوں کا جائزہ لیتے ہوئے نیا لائحہ عمل مرتب کیا۔ ستمبر 1928ء میں ’’ہندوستان ری پبلکن ایسوسی ایشن ‘‘ کے نام میں ’’سوشلسٹ‘‘ کا اضافہ بنیادی نظریاتی تبدیلی کا اظہار تھا۔ ایسوسی ایشن کے کانپور میں ہونے والے اجلاس میں بھگت سنگھ نے اپنے ساتھیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ہمارا بنیادی فریضہ عوام سے جڑنا اور انہیں منظم کرنا ہے۔‘‘
پنجاب سٹوڈنٹ کانفرنس کے نام بھگت سنگھ اور بی کے دت کا پیغام انتہائی اہم ہے۔ اس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ’’ہم نوجوانوں کو پستول اور بم چلانے کا نہیں کہہ سکتے۔ نوجوانوں کو دیہاتوں اور صنعتی مراکز کی جھونپڑ پٹیوں میں رہنے والے لاکھوں کروڑوں انسانوں کو بیدار کرنے کا تاریخی فریضہ سرانجام دینا ہے۔‘‘ 2 فروری 1931ء کے خط میں ہی بھگت سنگھ لکھتا ہے کہ ’’میں نے اپنے سابقہ نظریات اور عقائد کا ازسر نو جائزہ لے کر کئی اہم تبدیلیاں کی ہیں۔ پرتشدد طریقوں کے رومانس کی جگہ اب سنجیدہ نظریات نے لے لی ہے۔ تصوف اور اندھے یقین کو ختم کرنا ہوگا۔ انقلابی اچھی طرح جانتے ہیں کہ سوشلسٹ سماج انسانی نجات کی واحد ضمانت ہے۔‘‘
اس نام نہاد آزادی کے 67 سال بعد برصغیر میں آباد نسل انسانی کے بیس فیصد حصے کی حالت 1947ء سے بھی بدتر ہے۔ اس ذلت اور محرومی سے رہائی کا راستہ بھگت سنگھ اور اس کے کامریڈ بہت پہلے ہی دکھا چکے ہیں!


[تحریر: لال خان]


(بشکریہ طبقاتی جدوجہد)

Saturday, March 7, 2015

اوور کوٹ۔۔۔۔غلام عباس

جنوری کی ایک شام کو ایک خوش پوش نوجوان ڈیوس روڈ سے گزر کر مال روڈ پر پہنچا اور چیئرنگ کراس کا رُخ کر کے
خراماں خراماں پٹڑی پر چلنے لگا۔ یہ نوجوان اپنی تراش خراش سے خاصا فیشن ایبل معلوم ہوتا تھا۔ لمبی لمبی قلمیں، چمکتے ہوئے بال، باریک باریک مونچھیں، گویا سرمے کی سلائی سے بنائی گئی ہوں، بادامی رنگ کا گرم اوور کوٹ پہنے ہوئے جس کے کاج میں شربتی رنگ کے گلاب کا ایک ادھ کھلا پھول اٹکا ہوا، سر پر سبز فلیٹ ہیٹ ایک خاص انداز سے ٹیڑھی رکھی ہوئی، سفید سلک کا گلوبند گلے کے گرد لپٹا ہوا، ایک ہاتھ کوٹ کی جیب میں دوسرے میں بید کی ایک چھوٹی چھڑی پکڑے ہوئے جسے کبھی کبھی وہ مزے میں آ کے گھمانے لگتا تھا۔
یہ ہفتے کی شام تھی۔ بھرپور جاڑے کا زمانہ۔ سرد اور تند ہوا کسی تیز دھات کی طرح جسم پر آ کے لگتی تھی۔ مگر اس نوجوان پر اس کا کچھ اثر نہیں معلوم ہوتا تھا اور لوگ خود کو گرم کرنے کے لیے تیز تیز قدم اٹھا رہے تھے، اسے اس کی ضرورت نہ تھی جیسے اس کڑکڑاتے جاڑے میں اسے ٹہلنے میں بڑا مزا آ رہا ہو۔ اس کی چال ڈھال سے ایسا بانکپن ٹپکتا تھا کہ تانگے والے دور ہی سے دیکھ کر سرپٹ گھوڑا دوڑاتے ہوئے اس کی طرف لپکتے، مگر وہ چھڑی کے اشارے سے نہیں کر دیتا۔ ایک خالی ٹیکسی بھی اسے دیکھ کر رکی، مگر اس نے ”نو تھینک یو“ کہہ کر اسے بھی ٹال دیا۔ جیسے جیسے وہ مال کے زیادہ بارونق حصے کی طرف پہنچتا جاتا تھا، اس کی چونچالی بڑھتی ہی جاتی تھی۔ وہ منہ سے سیٹی بجا کے رقص کی ایک انگریزی دھن نکالنے لگا۔ اس کے ساتھ ہی اس کے پاؤں بھی تھرکتے ہوئے اٹھنے لگے۔ ایک دفعہ جب آس پاس کوئی نہیں تھا تو یکبارگی کچھ ایسا جوش آیا کہ اس نے دوڑ کر جھوٹ موٹ بال دینے کی کوشش کی۔ گویا کرکٹ کا میچ ہو رہا ہے۔ راستے میں وہ سڑک آئی جو لارنس گارڈن کی طرف جاتی تھی، مگر اس وقت شام کے دھندلکے اور سخت کہرے میں اس باغ پر کچھ ایسی اداسی برس رہی تھی کہ اس نے ادھر کا رُخ نہ کیا اور سیدھا چیئرنگ کراس کی طرف چلتا رہا۔ ملکہ کے بت کے قریب پہنچ کر اس کی حرکات و سکنات میں کسی قدر متانت پیدا ہو گئی۔ اس نے اپنا رومال نکالا جسے جیب میں رکھنے کے بجائے اس نے کوٹ کی بائیں آستین میں اڑس رکھا تھا اور ہلکے ہلکے چہرے پر پھیرتا تاکہ کچھ گرد جم گئی ہو تو اتر جائے۔ پاس گھاس کے ایک ٹکڑے پر کچھ انگریز بچے ایک بڑی سی گیند سے کھیل رہے تھے۔ وہ بڑی دلچسپی سے ان کا کھیل دیکھنے لگا۔ بچے کچھ دیر تک اس کی پرواہ کیے بغیر کھیل میں مصروف رہے، مگر جب وہ برابر تکے ہی چلا گیا تو وہ رفتہ رفتہ شرمانے سے لگے اور پھر اچانک گیند سنبھال کر ہنستے ہوئے اور ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے ہوئے وہ گھاس کے اس ٹکڑے ہی سے چلے گئے۔ نوجوان کی نظر سیمنٹ کی ایک خالی بینچ پر پڑی اور وہ اس پر آ کے بیٹھ گیا۔ اس وقت شام کے اندھیرے کے ساتھ ساتھ سردی اور بھی بڑھتی جا رہی تھی، اس کی یہ شدت ناخوشگوار نہ تھی، بلکہ لذت پرستی کی ترغیب دیتی تھی۔ شہر کے عیش پسند طبقے کا تو کہنا ہی کیا، وہ تو اس سردی میں زیادہ ہی کھل کھیلتا ہے، تنہائی میں بسر کرنے والے بھی اس سردی سے ورغلائے جاتے ہیں اور وہ اپنے اپنے کونوں کھدروں سے نکل کر محفلوں اور مجمعوں میں جانے کی سوچنے لگتے ہیں۔ حصول لذت کی یہی جستجو لوگوں کو مال پر کھینچ لائی تھی اور وہ حسب توفیق ریسٹورانوں، کافی ہاؤسوں، رقص گاہوں، سینماؤں اور تفریح کے دوسرے مقاموں پر محفوظ ہو رہے تھے۔ مال روڈ پر موٹروں، تانگوں اور بائیسکلوں کا تانتا بندھا ہوا تو تھا ہی پٹڑی پر چلنے والوں کی بھی کثرت تھی۔ علاوہ ازیں سڑک کی دو رویہ دکانوں میں خرید و فروخت کا بازار بھی گرم تھا۔ جن کم نصیبوں کو نہ تفریح طبع کی استطاعت تھی نہ خرید و فروخت کی وہ دور ہی سے کھڑے کھڑے ان تفریح گاہوں اور دکانوں کی رنگا رنگ روشنیوں سے جی بہلا رہے تھے۔ نوجوان سیمنٹ کی بینچ پر بیٹھا اپنے سامنے سے گزرتے ہوئے زن و مرد کو غور سے دیکھ رہا تھا۔ اس کی نظر ان کے چہروں سے کہیں زیادہ ان کے لباس پر پڑتی تھی۔ ان میں ہر وضع اور ہر قماش کے لوگ تھے۔ بڑے بڑے تاجر، سرکاری افسر، لیڈر، فنکار، کالجوں کے طلبہ اور طالبات، نرسیں، اخباروں کے نمائندے، دفتروں کے بابو، زیادہ تر لوگ اوور کوٹ پہنے ہوئے تھے، ہر قسم کے اوور کوٹ قراقلی کے بیش قیمت اوور کوٹ سے لے کر خاکی پٹی کے پرانے فوجی اوور کوٹ تک جنہیں نیلام میں خریدا گیا تھا۔ نوجوان کا اپنا اوور کوٹ تھا تو خاصا پرانا، مگر اس کا کپڑا خوب بڑھیا تھا، پھر وہ سلا ہوا بھی کسی ماہر درزی کا تھا۔ اس کو دیکھنے سے معلوم ہوتا تھا کہ اس کی بہت دیکھ بھال کی جاتی ہے۔ کالر خوب جما ہوا تھا۔ بانہوں کی کریزیں بڑی نمایاں، سلوٹ کہیں نام کو نہیں، بٹن سینگ کے بڑے بڑے چمکتے ہوئے۔ نوجوان اس میں بہت مگن معلوم ہوتا تھا۔ ایک لڑکا پان بیڑی سگرٹ کا صندوقچہ گلے میں ڈالے سامنے سے گزرا تو نوجوان نے آواز دی۔ ”پان والا“ ”جناب“ ”دس کا چینج ہے؟“ ”ہے تو نہیں۔ لا دوں گا۔ کیا لیں گے آپ؟“ ”نوٹ لے کے بھاگ گیا تو؟“ ”اجی واہ۔ کوئی چور اچکا ہوں جو بھاگ جاؤں گا۔ اعتبار نہ ہو تو میرے ساتھ چلیے۔ لیں گے کیا آپ؟“ ”نہیں نہیں ہم خود چینج لائیں گے۔ لو یہ اکنی نکل آئی۔ ایک سگریٹ دے دو اور چلے جاؤ“۔ لڑکے کے جانے کے بعد مزے مزے سے سگریٹ کے کش لگانے لگا۔ وہ ویسے ہی بہت خوش نظر آتا تھا۔ سگریٹ کے مصفا دھوئیں نے اس پر سرور کی کیفیت طاری کر دی۔ ایک چھوٹی سی سفید رنگ کی بلی سردی میں ٹھٹھری ہوئی بینچ کے نیچے اس کے قدموں کے پاس آ کر میاؤں میاؤں کرنے لگی۔ اس نے پچکارا تو اچھل کر بینچ پر آ چڑھی۔ اس نے پیار سے اس کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا اور کہا ”پیور لِٹل سول!“ اس کے بعد وہ بینچ سے اٹھ کھڑا ہوا اور سڑک کو پار کر کے اس طرف چلا جدھر سینما کی رنگ برنگی روشنیاں جھلملا رہی تھیں۔ تماشا شروع ہو چکا تھا۔ سینما کے برآمدے میں بھیڑنہ تھی، صرف چند لوگ تھے جو آنے والی فلموں کی تصویروں کا جائزہ لے رہے تھے۔ یہ تصویریں چھوٹے بڑے کئی بورڈوں پر چسپاں تھیں۔ ان میں کہانی کے چیدہ چیدہ مناظر دکھائے گئے تھے۔ تین نوجوان اینگلو انڈین لڑکیاں ان تصویروں کو ذوق و شوق سے دیکھ رہی تھیں، ایک خاص شان استغنا کے ساتھ، مگر صنف نازک کا پورا پورا احترام ملحوظ رکھتے ہوئے۔ وہ بھی ان کے ساتھ ساتھ مگر مناسب فاصلے سے ان تصویروں کو دیکھتا رہا۔ لڑکیاں آپس میں ہنسی مذاق کی باتیں بھی کرتی جاتی تھیں اور فلم پر رائے زنی بھی۔ اچانک ایک لڑکی نے، جو اپنی ساتھ والیوں سے زیادہ حسین بھی تھی اور شوخ بھی، ایک قہقہہ لگایا اور پھر وہ تینوں ہنستی ہوئی باہر نکل گئیں۔ نوجوان نے اس کا کچھ اثر قبول نہ کیا اور تھوڑی دیر کے بعد وہ خود بھی سینما کی عمارت سے باہرنکل آیا۔ اب7 بج چکے تھے اور وہ مال کی پٹڑی پر پھر پہلے کی طرح مٹر گشت کرتا ہوا چلا جا رہا تھا۔ ایک ریسٹوران میں آرکسٹرا بج رہا تھا۔ اندر سے کہیں زیادہ باہر لوگوں کا ہجوم تھا۔ ان میں زیادہ تر موٹروں کے ڈرائیور، کوچوان، پھل بیچنے والے جو اپنا مال بیچ کے خالی ٹوکرے لیے کھڑے تھے، کچھ راہ گیر جو چلتے چلتے ٹھہر گئے تھے، کچھ مزدوری پیشہ لوگ تھے اور کچھ گداگر۔ یہ اندر والوں سے کہیں زیادہ گانے کے رسیا معلوم ہوتے تھے، کیونکہ وہ غل غپاڑا نہیں مچا رہے تھے، بلکہ خاموشی سے نغمہ سن رہے تھے۔ حالانکہ دھن اور ساز اجنبی تھے۔ نوجوان پل بھر کے لیے رکا اور پھر آگے بڑھ گیا۔ تھوڑی دور چل کے اسے انگریزی موسیقی کی ایک بڑی سی دکان نظر آئی اور وہ بلاتکلف اندر چلا گیا۔ ہر طرف شیشے کی الماریوں میں طرح طرح کے انگریزی ساز رکھے تھے۔ ایک لمبی میز پر مغربی موسیقی کی دو ورقی کتابیں چنی تھیں۔ یہ نئے چلنتر گانے تھے۔ سرورق خوبصورت رنگ دار مگر دھنیں گھٹیا۔ ایک چھچلتی ہوئی نظر ان پر ڈالی، پھر وہاں سے ہٹ آیا اور سازوں کی طرف متوجہ ہوگیا۔ ایک ہسپانوی گٹار، جو ایک کھونٹی سے ٹنگی ہوئی تھی، پر ناقدانہ نظر ڈالی، اور اس کے ساتھ قیمت کا جوٹکٹ لٹک رہا تھا اسے پڑھا۔ اس سے ذرا ہٹ کر ایک بڑا جرمن پیانو رکھا تھا۔ اس کا کور اٹھا کے انگلیوں سے بعض پرزوں کو ٹٹولا اور پھر کوربند کردیا۔ دکان کا ایک کارندہ اس کی طرف بڑھا۔ ”گڈا یوننگ سر۔ کوئی خدمت؟“ ” نہیں شکریہ۔ ہاں اس مہینے کی گرامو فون ریکارڈوں کی فہرست دے دیجئے“۔ فہرست لے کے اوور کوٹ کی جیب میں ڈالی۔ دکان سے باہر نکل آیا اور پھر چلنا شروع کردیا۔ راستے میں ایک چھوٹا سا بک سٹال پڑا۔ نوجوان یہاں بھی رکا۔ کئی تازہ رسالوں کے ورق الٹے۔ رسالہ جہاں سے اٹھاتا بڑی احتیاط سے وہیں رکھ دیتا اور آگے بڑھا تو قالینوں کی ایک دکان نے اس کی توجہ کو جذب کیا۔ مالک دکان نے، جو ایک لمبا سا چغہ پہنے اور سر پر کلاہ رکھے تھا، نے گرم جوشی سے اس کی آؤ بھگت کی۔ ”ذرا یہ ایرانی قالین دیکھنا چاہتا ہوں۔ اتاریئے نہیں یہیں دیکھ لوں گا۔ کیا قیمت ہے اس کی؟“ ”چودہ سو بتیس روپے“۔ نوجوان نے اپنی بھنوؤں کو سکیٹرا، جس کا مطلب تھا ”اوہو اتنی“۔ دکاندار نے کہا ”آپ پسند کر لیجئے۔ ہم جتنی بھی رعایت کرسکتے ہیں کردیں گے“۔ ”شکریہ لیکن اس وقت تو میں صرف ایک نظر دیکھنے آیا ہوں“۔ ”شوق سے دیکھیے۔ آپ ہی کی دکان ہے“۔ وہ تین منٹ کے بعد اس دکان سے بھی نکل آیا۔ اس کے اوور کوٹ کے کاج میں شربتی رنگ کے گلاب کا جو ادھ کھلا پھول اٹکا ہوا تھا وہ اس وقت کاج سے کچھ زیادہ باہر نکل آیا تھا۔ جب وہ اس کو ٹھیک کر رہا تھا تو اس کے ہونٹوں پر ایک خفیف اور پراسرار مسکراہٹ نمودار ہوئی اور اس نے پھر اپنی مٹرگشت شروع کردی۔ اب وہ ہائیکورٹ کی عمارتوں کے سامنے سے گزررہاتھا۔ اتنا کچھ چل لینے کے بعد اس کی طبیعت کی چونچالی میں کچھ فرق نہیں آیا تھا۔ نہ تکان محسوس ہوئی تھی نہ اکتاہٹ۔ یہاں پٹڑی پر چلنے والوں کی ٹولیاں کچھ چھٹ سی گئی تھیں اور ان میں کافی فاصلہ رہنے لگا تھا۔ اس نے اپنی بید کی چھڑی کو ایک انگلی پر گھمانے کی کوشش کی۔ مگر کامیابی نہ ہوئی اور چھڑی زمین پر گر پڑی ”او سوری“ کہہ کر زمین پر جھکا اور چھڑی کو اٹھا لیا۔ نوجوان نے شام سے اب تک اپنی مٹرگشت کے دوران میں جتنی انسانی شکلیں دیکھی تھیں ان میں سے کسی نے بھی اس کی توجہ کو اپنی طرف منعطف نہیں کیا تھا۔ فی الحقیقت ان میں کوئی جاذبیت تھی ہی نہیں۔ یا پھر وہ اپنے حال میں ایسامست تھا کہ کسی دوسرے سے اسے سروکاری ہی نہ تھا۔ مگر اس دلچسپ جوڑے نے، جس میں کسی افسانے کے کرداروں کی سی ادا تھی، جیسے یکبارگی اس کے دل کو موہ لیا تھا اور اسے حددرجہ مشتاق بنادیا کہ وہ ان کی اور بھی باتیں سنے اور ہوسکے تو قریب سے ان کی شکلیں بھی دیکھ لے۔ اس وقت وہ تینوں بڑے ڈاک خانے کے چوراہے کے پاس پہنچ گئے تھے۔ لڑکا اور لڑکی پل بھرکورکے اور پھر سڑک پار کر کے میکلوڈ روڈ پر چل پڑے۔ نوجوان مال روڈ پر ہی ٹھہرا رہا۔ شاید وہ سمجھتا تھا کہ فی الفور ان کے پیچھے گیا تو ممکن ہے انہیں شبہ ہوجائے کہ ان کا تعاقب کیا جارہا ہے۔ اس لیے اسے کچھ لمحے رک جانا چاہیے۔ جب وہ لوگ کوئی سو گز آگے نکل گئے تو اس نے لپک کر ان کا پیچھا کرنا چاہا۔ مگر ابھی اس نے آدھی ہی سڑک پار کی ہوگی کہ اینٹوں سے بھری ہوئی ایک لاری پیچھے سے بگولے کی طرح آئی اور اسے روندتی ہوئی میکلوڈ روڈ کی طرف نکل گئی۔لاری کے ڈرائیور نے نوجوان کی چیخ سن کر پل بھر کے لیے گاڑی کی رفتار کم کی۔ وہ سمجھ گیا کہ کوئی لاری کی لپیٹ میں آگیا اور وہ رات کے اندھیرے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے لاری کو لے بھاگا۔ وہ تین راہ گیر جو اس حادثے کو دیکھ رہے تھے شور مچانے لگے نمبر دیکھو۔ مگر لاری ہوا ہوچکی تھی۔ اتنے میں کئی اور لوگ جمع ہوگئے۔ ٹریفک کا ایک انسپکٹر جو موٹرسائیکل پر جارہا تھا رک گیا۔ نوجوان کی دونوں ٹانگیں بالکل کچل گئی تھیں۔ بہت سا خون نکل چکا تھا اور وہ سسک رہا تھا۔ فوراً ایک کار کو روکا گیا اور اسے جیسے تیسے اس میں ڈال کے بڑے ہسپتال روانہ کردیا گیا۔ جس وقت وہ ہسپتال پہنچا تو اس میں ابھی رمق بھر جان باقی تھی۔ اس ہسپتال کے شعبہ حادثات میں اسسٹنٹ سرجن مسٹر خان اور دونو عمر نرسیں مس شہناز اور مس گل ڈیوٹی پر تھیں۔ جس وقت اسے سٹریچر پر ڈال کے آپریشن روم میں لے جایا رہا تھا تو ان نرسوں کی نظر اس پر پڑی۔ اس کا بادامی رنگ کا اوور کوٹ ابھی تک اس کے جسم پر تھا اور سفید سلک کا مفلر گلے میں لپٹا ہوا تھا۔ اس کے کپڑوں پر جا بجا خون کے بڑے بڑے دھبے تھے۔ کسی نے ازراہ درد مندی اس کی سبز فلیٹ ہیٹ اٹھا کے اس کے سینہ پر رکھ دی تھی تاکہ کوئی اڑانہ لے جائے۔ شہناز نے گل سے کہا” کسی بھلے گھر کا معلوم ہوتا ہے بے چارہ“۔ گل دبی آواز میں بولی۔” خوب بن ٹھن کے نکلا تھا بے چارہ ہفتے کی شام منانے“۔ ڈرائیور پکڑا گیا یا نہیں؟“ ”نہیں بھاگ گیا۔“ ”کتنے افسوس کی بات ہے“۔ آپریشن روم میں اسٹنٹ سرجن اور نرسیں چہروں پر جراحی کے نقاب چڑھائے جنہوں نے ان کی آنکھوں سے نیچے کے سارے حصے کو چھپارکھا تھا۔ اس کی دیکھ بھال میں مصروف تھے۔ اسے سنگ مرمر کی میز پر لٹادیا گیا۔ اس نے سر میں جو تیز خوشبودار تیل ڈال رکھا تھا۔ اس کی کچھ کچھ مہک ابھی تک باقی تھی۔ پٹیاں ابھی تک جمی ہوئی تھیں۔حادثے سے اس کی دونوں ٹانگیں تو ٹوٹ چکی تھیں مگر سر کی مانگ نہیں بگڑنے پائی تھی۔ اب اس کے کپڑے اتارے جارہے تھے۔ سب سے پہلے سفید سلک کا گلو بند اس کے گلے سے اتارا گیا۔ اچانک نرس شہناز اور نرس گل نے بیک وقت ایک دوسرے کی طرف دیکھا، اس سے زیادہ وہ کر بھی کیا سکتی تھیں۔ چہرے جو دلی کیفیات کا آئینہ ہوتے ہیں، جراحی کے نقاب تلے چھپے ہوئے تھے اور زبانیں بند۔ نوجوان کے گلو بند کے نیچے نکٹائی اور کالر، کیا سرے سے قمیض ہی نہیں تھی۔ اوور کوٹ اتارا گیا تو نیچے سے ایک بہت بوسیدہ اونی سویٹر نکلا جس میں جابجا بڑے بڑے سوراخ تھے۔ ان سوراخوں سے سویٹر سے بھی زیادہ بوسیدہ اور میلا کچیلا ایک بنیان نظر آرہا تھا۔ نوجوان سلک کے گلوبند کو کچھ اس ڈھب سے گلے پر لپیٹے رکھتا تھا کہ اس کا سارا سینہ چھپارہتا تھا۔ اس کے جسم پر میل کی تہیں بھی خوب چڑھی ہوئی تھیں۔ ظاہر ہوتا تھا کہ وہ کم سے کم پچھلے دو مہینے سے نہیں نہایا البتہ گردن خوب صاف تھی اور اس پر ہلکا ہلکا پوڈر لگا ہوا تھا۔ سویٹر اور بنیان کے بعد پتلون کی باری آئی اور شہناز اور گل کی نظریں پھر بیک وقت اٹھیں۔ پتلون کو پیٹی کے بجائے اک پرانی دھجی سے جوشاید کبھی نکٹائی ہوگی خوب کس کے باندھا گیا تھا۔ بٹن اور بکسوے غائب تھے۔ دونوں گھنٹوں پر سے کپڑا مسک گیا تھا۔ اور کئی جگہ کھونچیں بھی لگی تھیں۔ مگر چونکہ یہ حصے اوور کوٹ کے نیچے رہتے تھے اس لیے لوگوں کی ان پر نظر نہیں پڑتی تھی۔ اب بوٹ اور جرابوں کی باری آئی اور ایک مرتبہ پھر مس شہناز اور مس گل کی آنکھیں چار ہوئیں۔ بوٹ تو پرانے ہونے کے باوجود خوب چمک رہے تھے۔ مگر ایک پاؤں کی جراب دوسرے پاؤں کی جراب سے بالکل مختلف تھی۔ پھر دونوں جرابیں پھٹی ہوئی بھی تھیں۔ اس قدر کہ ان میں سے نوجوان کی میلی میلی ایڑیاں نظر آرہی تھیں۔بلاشبہ اس وقت تک وہ دم توڑچکا تھا۔ اسی کا جسم سنگ مرمر کی میز پر بے جان پڑا تھا۔ اس کا چہرہ جو پہلے چھت کی سمت تھا کپڑے اتارنے میں دیوار کی طرف مڑ گیا تھا۔ معلوم ہوتا تھا کہ جسم اور اس کے ساتھ روح کی اس برہنگی نے اسے خجل کردیا ہے اور وہ اپنے ہم جنسوں سے آنکھیں چرارہا ہے۔ اس کے اوور کوٹ کی مختلف جیبوں سے جو چیزیں برآمد ہوئیں وہ یہ تھیں۔ ایک چھوٹا ساسیاہ کنگھا، ایک رومال، ساڑھے چھ آنے، ایک بجھا ہوا آدھا سگریٹ، ایک چھوٹی سی ڈائری جس میں لوگوں کے نام اور پتے لکھے تھے، نئے گراموفون ریکارڈوں کی ایک ماہانہ فہرست اور کچھ اشتہار جو مٹرگشت کے دوران میں اشتہار بانٹنے والوں نے اس کے ہاتھ میں تھمادیئے تھے اور اس نے انہیں اوور کوٹ کی جیب میں ڈال لیا تھا۔
افسوس کہ اس کی بید کی چھڑی جو حادثے کے دوران میں کہیں کھوگئی تھی اس فہرست میں شامل نہ تھی۔

Thursday, March 5, 2015

دین ، دھرم ، اسلام تمہارا


دین ، دھرم ، اسلام تمہارا
ہم کو جینے دو خدارا
ہم نہ خون بہانا جانیں
نہ بندوق چلانا جانیں
اپنی سوچ اور اپنا عقیدہ
زور سے نہ منوانا جانیں
ہم اللہ کے جاہل بندے
تو اللہ کا راج دلارا
ہم کو جینے دو خدا را
حور کی لذت تجھے مبارک
دودھ اور شربت تجھے مبارک
ہم دوزخ کی آگ ہی لیں گے
ساری جنت تجھے مبارک
جنت ہم کو نہیں گوارا
ہم کو جینے دو خدارا
دین ، دھرم ، اسلام تمہارا
ہم کو جینے دو خدارا

(ضمیر)

Monday, February 23, 2015

جنت سے جون ایلیا کا انور مقصود کے نام خط

انو جانی، تمہارا خط ملا، پاکستان کے حالات پڑھ کر کوئی خاص پریشانی نہیں ہوئی۔ یہاں بھی  اسی قسم کے حالات چل رہے ہیں۔شاعروں اور ادیبوں نے مار مار کر یہاں کا بیڑا گرق کر دیا ہے۔مجھے یہاں بھائیوں کے ساتھ رہنے کا کہا گیا تھا، میں نے کہا کہ میں زمین پر بھی بھائیوں کے ساتھ ہی رہا کرتا تھا، مجھے ایک الگ  کوارٹر عنایت فرمائیں۔مصطفیٰ زیدی نے یہ کام کر دیا اور مجھے کواٹر مل گیا، مگر اس کا ڈیزائن نثری نظم کی طرح کا ہے جو سمجھ میں تو آجاتی ہے لیکن یاد نہیں رہتی، روزانہ بھول جاتا ہوں کہ میرا بیڈ روم کہاں ہے۔ لیکن اس کوارٹر میں رہنے کا ایک فائدہ ہے، میر تقی میر کا گھر سامنے ہے۔ ان کے 250 اشعار جن میں وزن کا  فقدان تھا، نکال چکا ہوں مگر میر سے کہنے کی ہمت  نہیں ہو رہی۔
کُوچہ شعر و سخن میں سب سے بڑا گھر غالب کا ہے۔میں نے میر سے کہا آپ غالب سے بڑے شاعر ہیں آپکا گھر ایوانِ غالب سے بڑا ہونا چاہئے، میر نے کہا ، دراصل وہ گھر غالب کے سسرال کا ہے، غالب نے اس پر قبضہ جما لیا ہے۔میر کے گھر کوئی نہیں آتا، سال بھر کے عرصے میں بس ایک بار ناصر کاظمی آئے وہ بھی میر کے کبوتروں کو دیکھنے کے لئے۔ایوانِ غالب مغرب کے بعد کھلا رہتا ہے، جس کی وجہ تم جانتے ہو
مجھے کیا بُرا تھا، گر ایک “بار” ہوتا۔
یہاں آکر یہ مصرعہ مجھے سمجھ میں آیا۔ اس میں “بار”انگریزی والا ہے۔
دو مرتبہ غالب نے مجھے بھی بلوایا لیکن منیر نیازی نے یہاں بھی میرا پتا کاٹ دیا۔سودہ کا گھر میرے گوارٹر سے سو قدم کے فاصلے پر ہے۔یہاں آنے کے بعد میں ان سے ملنے گیا، مجھے دیکھتے ہی کہنے لگے، میاں! تم میرا سودا لا دیا کرو۔مان گیا۔ سودہ کا سودا لانا میرے لئے باعث عزت ہے۔ لیکن جانی!جب سودہ حساب مانگتے تھے تو مجھ پر قیامت گزار جاتی تھی۔جنت کی مرغی اتنی مہنگی لے آئے، حلوہ کیا نیاز فتح پوری کی دکان سے لے آئے؟، تمہیں ٹینڈوں کی پہچان نہیں ہے؟ ہر چیز پہ اعتراض۔ مجھے لگا تھا کہ وہ شک کرنے لگے ہیں کہ میں سودے میں سے پیسے رکھ لیتا ہوں۔4 روز پہلے میں نے ان سے کہہ دیا کہ میں اردو ادب کی تاریخ کاواحد شاعر ہوں جو اسی لاکھ کیش چھوڑ کے یہاں آیا ہے۔آپکے ٹینڈوں سے کیا کماؤں گا۔آپکو بڑا شاعر مانتا ہوں اس لئے کام کرنے کو تیار ہوا، آپکی شاعری سے کسی قسم کا فائدہ نہیں اٹھایا، آپکی کوئی زمین استعمال نہیں کی۔آئیندہ اپنا سودا فیض احمد فیض سے منگوایا کیجیئے، تاکہ آپکا تھوڑا بہت قرض تو چکائیں۔میرے ہاتھ میں بینگن تھا، وہ ان کو تمایا اور کہا:
بینگن کو میرے ہاتھ سے لینا کہ چلا میں
ایک شہد کی نہر کے کنارے احمد فراز سے ملاقات ہوئی، میں نے کہا میرے بعد آئے ہو اس لئے خود کو بڑا شاعر مت سمجھنا، فراز نے کہا، مشاعرے میں نہیں آیا۔ پھر مجھ سے کہنے لگے، امراؤ جان کہاں رہتی ہے؟ میں نے کہا، رسوا ہونے سے بہتر ہے گھر چلے جاؤ، مجھے نہیں معلوم کہا وہ کہاں رہتی ہے۔
جانی! ایک حُور ہے جو ہر جمعرات کی شام میرے میرے گھر آلو کا بھرتا پکا کے لے آتی ہے۔شاعری کا بھی شوق ہے، خود بھی لکھتی ہے، مگر جانی! جتنی دیر وہ میرے گھر رہتی ہے صرف مشتاق احمد یوسفی کا ذکر کرتی ہے۔اس کو صرف مشتاق احمد یوسفی سے ملنے کا شوق ہے۔ میں نے کہا، خدا ان کو لمبی زندگی دے، پاکستان کو ان کی بہت ضرورت ہے، اگر ملنا چاہتی ہو تو زمین پر جاؤ، جس قسم کی شاعری کر رہی ہو کرتی رہو، وہ خود تمہیں ڈھونڈ نکالیں گے اور پکنک منانے سمندر کے کنارے  لے جائینگے۔ابنِ انشاء، سید محمد جعفری، دلاور فگار، فرید جبال پوری اور ضمیر جعفری ایک ہی کوارٹر میں رہتے ہیں۔ ان لوگوں نے 9 نومبر کو اقبال کی پیدائش کے سلسلے میں ڈنر کا اہتمام کیا تھا۔اقبال، فیض، قاسمی، صوفی تبسم، فراز اور ہم وقتِ مقررہ پر پہنچ گئے۔کوارٹر میں اندھیرا تھا اور دروازے پر پرچی لگی تھی: “ہم لوگ جہنم کی بھینس کے پائے کھانے جا رہے ہیں، ڈنر اگلے سال 9 نومبر کو رکھا ہے۔”اگلے دن اقبال نے پریس کانفرنس کی اور ان سب کی ادبی محفلوں  میں شرکت پر پابندی لگا دی۔
تم نے اپنے خط میں مشفاق خواجہ کے بارے میں پوچھا تھا۔ وہ یہاں اکیلے رہتے ہیں، کہیں نہیں جاتے ۔ مگر حیرت کی بات ہے جانی!میں نے ان کے گھر اردو اور فارسی کے بڑے بڑے شاعروں کو آتے جاتے دیکھا ہے۔یہاں آنے کی بھی جلدی نہ کرنا کیونکہ  تمہارے وہاں رہنے میں میرا بھی فائدہ ہے۔اگر تم بھی یہاں آگئے پھر وہاں مجھے کون یاد کرے گا؟؟؟
جیتے رہو اور کسی نہ کسی پر مرتے رہو،ہم بھی کسی نہ کسی پر مرتے رہے مگر جانی!جینے کا موقع نہیں ملا۔

Saturday, February 21, 2015

سَاربَانِ محمد: آغاخان سوئم سر سلطان محمد شاہ


(آغاخان سوئم سر سلطان محمد شاہ نے بر صغیر کے مسلمانوں کی گراں قدر خدمات انجام دی  اوران کا شمار تحریک پاکستان کے قائدین میں ہوتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے نئی نسل کی زیادہ تعداد اس ہستی کے نام تک سے اشنا نہیں  ہے۔

نئی نسل اس ہستی کے نام سے واقف ہوگی بھی کیسے؟ کیونکہ  course and curriculum کی کسی کتاب میں ان کا نام نظر نہیں آتا۔

ہماری ناکا می کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ نئی نسل کو سکولوں،کالجوں حتی کہ یونیورسٹی  سطح پر بھی مسخ شدہ تاریخ  پڑھائی جاتی ہے۔ غالبا یہی وجہ ہے کہ سر سلطان محمد شا ہ کی تاریخ  ولادت ۲نومبر کو خاموشی سے گزر گئی۔

درجہ بالا مضمون کا انتخاب سہ ماہی فکرو نظر(۶۸۹۱) سے کیا ہے جسے پروفیسر نسیم انصاری نے تحریر کیا تھا۔)

_____________________________________________________________________

اورنگ زیب کے بعدہندوستان میں  مغلیہ حکومت کو ختم ہونے میں  ڈیڑھ سو برسوں میں حالات کچھ اسے رہے کہ ہندوستان والے اس سلطنت کے بدلے دوسری سلطنت نہ بنا سکے اور اقتدار مکمل طور سے انگریزوں  کے قبضہ میں چلا گیا۔ لیکن انگریز  اِس ملک میں اجنبی رہے۔ ۷۵۸۱ئ کی بغاوت کے بعد خود انگریز  اور اُن کے ماتحت بہت سے ہندوستانی بھی آہستہ آہستہ یہ سمجھنے لگے کہ اجنبیوں کی حکومت اتنے بڑے ملک پر ہمیشہ نہیں  رہ سکتی اس کا احساس سب سے پہلے بنگال، بمبئی اور مدراس کے انگرےزی پڑھے ہوئے لوگوں کو ہوااور اِس کے ساتھ ہی انھوں نے یہ سوچنا شروع کےا کہ انگریزوں کے چلے جانے کے بعد ہندوستان میں کیا ہو گا؟  اُن کے سامنے لندن کی حکومت کا نقشہ موجود تھا۔ انہیں خیال ہوا کہ اگر اِسی طرح کی حکومت ہمارے یہاں بھی بن جائے تو کیا اچھا ہو۔انگریزوں  کے بادشاہ کی جیسی حیثیت ولایت میں ہے ویسی ہی ہندوستان میں بھی رہے لیکن ملک کا بندوبست ہندوستانی پارلیمنٹ کے ہاتھ میں ہو۔ اِس خیال کا آنا تھا کہ دِلوں میں جیسے شمعیں  جلنے لگیں، سارے ملک میں بس یہی چرچے شروع ہوگیے.

۔مسلمان ڈیڑھ سو برس سے اپنا زوال دیکھ رہے تھے اور اب ہار کر بالکل بے بس ہو گے تھے۔. حالت یہ تھی کہ انگریز اُن پر شک کرتے تھے اور اُن کے ہندو ساتھیوں میں جو بیدار ہو چکے تھے وہ ویسٹ منسٹر  جیسی حکومت بنانے کا خواب دیکھ رہے تھے۔سرسیّد اور اُن کے ساتھیوں نے اپنے ہم مذہب لوگوں کو جھنجھوڑا کہ دیکھو دنیا بدل رہی ہے، شکست کا رونا کب تک روو گے۔ اب آنے والے زمانے کا فکر کرو۔سب نے آنکھیں ملنا شروع کیں اور کچھ سرسیّدکی آواز پر لپکے بھی،آہستہ آہستہ ایک قافلہ بنتا گیا جس میں حالی،شبلی،محسن الملک علی گڑھ تحریک کے ذریعہ شامل ہوئے، دوسری طرف بمبئی سے بدرالدین طیب جی اور بنگال سے جسٹس سرسیّدامیر علی نے بھی بات کو سمجھنے کی کوشش کی، زیادہ تر لوگوں کی رائے یہ تھی کہ مسلمانوں کی بھلائی اسی میں ہے کہ انگریز ابھی ہندوستان میںرہیں کیونکہ وہ اگر ابھی چلے گئے تو ہندوستان کے تھکے ہارے،لُٹےہوئے غافل مسلمانوںکا کیا ہو گا جنھیں نہ تو انگیریزی زبان آتی ہے اور نہ وہ ویسٹ منسٹر کے طور طریق سے واقف ہیں اور نہ ہی اس لائق ہیں کہ جلدی سے اپنے برادرانِ وطن کے برابر لیاقت پیدا کر کے اس جدوجہد میں حصہ لے سکیں جو جمہوری نظام کے لئے ضروری ہے اگر جمہوریت کے لئے دوڑ شروع ہوئی تو یہ زخم خوردہ اِس میں بھی شامل نہ ہو سکیں گے۔سب چاہتے تھے کہ زخم بھر جائیں بدن میں کچھ طاقت آجائے تب ہی مقابلہ میں شرکت کا خیال کیا جائے اس لیئے یہی طے ہوا کہ ابھی میدان میں نہ اتریں۔ لیکن زمانہ اُن کا انتظار کیوں کرتا۔ کھیل شروع ہو گیا۔ انڈین نیشنل کانگریس نے اپنے مطالبات حکومت کے سامنے رکھنا شروع کر دئے۔

سر سیّد کا زمانہ ختم ہوا تھا لیکن اُن کی آنکھیں بند ہونے سے پہلے ایران کا ایک شہزادہ علی گڑھ آیا جس ے گھر والوں نے اپنا وطن چھوڑ کر ہندوستان میں رہنا شروع کر دیا تھا اور اس کی پیدائش اسی ملک کے ایک شہر کراچی میں ۲نومبر۷۷۸۱ءمیں ہوئی تھی۔ نام سلطان محمد شاہ رکھا گیا تھا۔ جب ان کے والد آغا علی شاہ آغا خان ثانی کا ۵۸۸۱ء میں انتقال ہو گیا تو ایشا، افریقہ اور یورپ کے اسماعیلیوں نے اس آٹھ برس کے خوبصورت شاہزادہ کو آغا خان کا لقب دیکر اپنا امیر بنالیا۔آغا خان ۶١۹۸۱ میں علی گڑھ آئے اُس وقت وہ اُنیس برس کے تھے۔ سر سیّد نے اسٹریچی ہال میں ان کا شاہانہ استقبال کیا اور ایک ایڈریس کیا جس میں کہا گیا تھا کہ انگریزی تسلط کے بعد جب مسلمانوں کی حالت بہت خراب ہوئی تو؛

”گروہے از مسلمانان را رگ حمیّت بجنبد دل بہ درد

آمد و خواستند کہ مدرسئہ عظمیٰ برپا کنند“

شہزادہ نے مہمان نوازی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا:

”بسیار از ملاقاتِ شما و دیدنِ ایں مدرسہ مشہور

خوش وقت و خوش حال گشتم فی الحقیقت ایں مدرسہ

از مدارسِ بسیار معروفِ ہندوستان است وبرائے

طلابِمسلمانان ازیں بہتر درہندوستان دارالعلمی نیست

بلکہ درسائر ملکہائے ملل کہ من دیدہ ام مدرسہ شد

ایں دیدہ نہ شد“۔

اس ملاقات کے بعد سے یہ سلسلہ شروع ہوتا ہے جس میں آغاخان کا تعلق علی گڑھ تحریک سے بڑھتا ہی رہا۔ سر سیّد کے انتقال کے بعد نواب محسن الملک نے قافلہ کی رہنمائی کی۔ انڈین نیشنل کانگریس اگرچہ انگریزوں کے ایما سے بنی تھی لیکن جب اس نے انگلستان کے حزب مخالف کا ایسا رویہ اختیار کرنا شروع کیا تو حکومت نے سوچا کہ انھیںقابو میں رکھنے کے لئے مسلمانوں کو اپنی ایک پارٹی بنانے پر آمادہ کیا جائے۔تاکہ بات حد سے نہ گزر نے پائے۔ یہ تحریک مسلمانوں کے مفاد میں بھی تھی کہ انھیں چلنے کے لئے بھی بیساکھیوں کی ضرورت تھی۔علی گڑھ کالج کے پرنسپل آرجی بالڑنے شملہ میں وائسرائے کے پاس ایک ڈیپوٹیشن کا انتظام کر کے وہ بیساکھی مہیا کر دی۔یہ دیپوٹیشن ۶۰۹۱ئمیں نوجوان آغاخان کی سربراہی میں وائسرائے سے ملا اور اس نے ایک عرضداشت پیش کی۔اس میں کہا گیا تھا کہ اگر ہندوستان کو جمہوریت کی طرف بڑھنا ہے تو اس جمہوریت کی وہ صورت نہیں ہو سکتی جو انگلستان میں ہے جہاں کے رہے والے ایک ہی طرح کے لوگ ہیں اور جن کی تاریخ ، زبان، مذہب اور دوسری سب روایات مشترک ہیں۔ ہندوستان میں یہ صورت نہیں ہے اس لئے یہاں کی جمہوریت کا انداز بھی مختلف ہونا چاہیے اور ایسا انتظام ہو کہ جس میں مسلمان جو آج پس ماندہ ہیں ہمیشہ پس ماندہ نہ رہیں۔ عرض داشت میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ۔

(۱)حکومت کے اداروں میں انتخاب کی صورت میں مسلمان اپنے نمائندے خود منتخب کریں

(۲) ان اداروں میں مسلمانوں کی تعداد ملک میں ان کے مرتبہ کا لحاظ رکھکر مقرر کی جائے نہ کہ محض ان کی آبادی کے تناسب سے۔

(۳) مسلمانوں کو حکومت کی ملازمتیں بغیر کسی روک ٹوک کے دی جائیں۔

(۴) یونیورسٹیوں کے سنڈیکیٹ اور سینٹ میں مسلمانوں کو بھی رکھا جائے۔

(۵) مسلم یونیورسٹیوں کے قیام میں مدد دی جائے۔

یہ ڈیپوٹیشن ہندوستان کی تحریک آزادی میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔یہ گویا اس بات کا اعلان تھا کہ ہندوستانی جمہوریت کا انداز یوروپین وضع کا نہ ہو گا بلکہ اس کی وضع خالص ہندوستانی ہو گی۔ کانگریس والوں کو یہ بات پسند نہ آئی اور یہیں سے اختلافات کا وہ سلسلہ شروع ہوتا ہے جس کا خاتمہ ہندوستان کی تقسیم پر ہوا۔

ہندوستانی جمہوریت کے متعلق آغا خان کا ذہن بالکل صاف تھا۔ وہ جداگانہ انتخابات کے علمبردار تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ ہندوستان کے بیشتر مسائل تو ایسے ہیں جن میں ہندو اور مسلمانوں کا مفاد مشترک ہے، کچھ مسائل ایسے ہیں جن کا خاص تعلق مسلمانوں سے ہے۔یہ دونوں طرح کے مسائل صرف ہندو اور مسلمان آپس میں مل کر ہی حل کر سکتے ہیں۔ چنانچہ مسلم لیگ کے تیسرے اجلاس میں جو ۰۱۹۱ئ میںنواب صاحب ارکاٹ کی صدارت میں دہلی میں ہوا آغاخان نے ارئے دی۔

”ہمارے نمائندے جو کونسلوں میں ہیں وہ سب سے پہلے وفادار ہندوستانی ہیں اس کے بعد وہ مسلمانوں کے حقوق کے خاص محافظ ہیں۔انھیں ان کونسلوں میں تین طرح کے کام کرنے ہیں، اوّل ملک کے عام فائدے کے کام مثلاً تعلیم کا انتظام جس میں لازمی بِلا فیس کے پرائمری تعلیم بھی شامل ہے۔ تجارت وزراعت کی ترقی جس میں کوآپرٹیو سوسائٹیوں اور تقسیم کرنے والی انجمنوںکا قیام بھی شامل ہے اور ملک کے قدرتی وسائل کا استعمال یہ کام ایسے ہیں جو ہیں جو ہندو اور مسلمان نمائندوں کو ہندو اور دوسرے فرقوں کے ساتھ مل کر وہ تمام فوائد حاصل کرنا چاہیں جو ان کی اجتماعی بہبودی کے کام میں مدد دیں۔

تیسرے ہمارے نمائندوں کو اپنے مسلمان بھائیوں کی تمدنی بہتری کی تجاویز بھی ہندو ممبران کی مدد سے منظور کرانا اور ان کے خاص مسائل کی بھی فکر کرنا چاہیے کیوں کہ ہمارے خاص ضرورتیں ایسی بھی ہیں جن سے وہ نا واقف ہیں اور جنھیںہم ہی سمجھتے ہیں“۔

آغاخان کی ساتھیوں نے اُن کی اس پالیسی سے اتفاق کیا اور اُسی بنیاد پر انھیں آئندہ دو برسوں کے لئے مسلم لیگ کا صدر منتخب کر دیا۔اس کے بعد سے ہندوستانی سیاست آہستہ آہستہ ایک نئے دور میں داخل ہو گئی جس کی خصوصیت یہ تھی کہ ہندو اور مسلمان دونوں نے یہ سمجھ لیا تھا کہ انگریزوں سے آزادی ہی میں دونوں کی بھلائی ہے۔اب تحریک آزادی نے عوامی جدوجہد کا رخ اختیار کر لیا اور بین الاقوامی حالات ایسے تھے کہ مسلمان یہ سمجھنے لگے کہ انگریز ساری دنیا کے مسلمانوں کو محکوم بنانا چاہتے ہیں۔چنانچہ خلافت تحریک شروع ہوئی اور کانگریس نے اس کی موافقت کی اور سارے ہندوستان میں جیسے آگ لگ کئی تھی لیکن جب ترکوں نے خود اس ادارے کو ختم کر دیا تو تحریک بھی بے جان ہو گئی۔

خلافت تحریک کے سلسلہ میں مسلمانوں میں ایسا جوش پیدا ہوا کہ ان کے ہم وطن خا ئف ہو گئے۔ ایک طرف تو خود مسلمانوں کے ذہن میں نئے ہندوستان کا کوئی نقشہ نہیں تھا اور دوسری طرف یہاں کے ہندﺅسں ہیں قدرتی طور پر یہ خدشہ پیدا ہوس کہ کہیں یہ لوگ دوبارہ تو مغل یا پٹھان طرز کی حکومت ہندوستان پر نہیں تھوپنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ آپس کے اختلافات بڑھنے لگے اور ان کا سب سے افسوس ناک اظہارہندو مسلم فساد کی شکل میں شرہع ہوا۔آغاخان کا رجحان اس قسم کی سیاست سے بالکل مختلف تھا، ان کا یقین تھا کہ ہندو اور مسلمان کی بھلائی اسی میں ہے کہ وہ آپس ہیں میل ملاپ سے وہیں۔ اس کا اظہار انھوں نے کئی بار کیا۔ ۸۲۹۱ئ ۔ ۹۲۹۱ئمیں آل پارٹیز مسلم کانفرنس میں گائے کی قربانی کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے بابر کا قول دوہرایا کہ ہمیں نہ صرف ہندوﺅں کے مذہب کا لحاظ رکھنا چاہئے بلکہ ان کے رجحانات کا بھی احترام کرنا چاہئے۔ انھوں نے مسلمانوں کو رائے دی کہ اگر ہندﺅوں کا دل جیتنے کے لیے گائے کی قربانی بند کرنا پڑے تو اسے ضرور بند کیا جائے۔

وہ صحیح معنوں میں لبرل تھے اور اسی لیے ملک کے شرفاءمیں ان کی بڑی عزت تھی۔۰۳۹۱ئمیں جب راوئنڈٹیبل کانفرنس لندن میں ہوئی تو وہ برٹش انڈین ڈیلیگیشن کے لیڈر تھے۔ اس کانفرنس میں اُن کی کوشش یہ رہی کہ ہندوستان کے اقلیتی مسئلہ کو ہندو مسلم سوال کے بجائے ایک مخصوس سیاسی سوال سمجھا جائے۔چنانچہ ان کی تحریک پر ہندوستان کی سب اقلیتوں کے نمائندوں نے ایک مشترکہ تحریر ہندوستان کے دستور کے لیے پیش کی بد قسمتی سے یہ تجویز کانگریس کے لیے قابل قبول نہ تھی۔ بہر حال ہزہائی نس کی ان کوششوں کاسب نے اعتراف کیا۔ کانفرنس کے بعد لندن میں ریاستی اور برٹش انڈیا کے نمائندوں کا ایک جلسہ ہوا جس میں سرتیج بہادر سپرو اور سر اکبر حیدری وغیرہ شامل تھے۔اس جلسہ میں آغا خان کے طرز عمل کی بہت تعریف کی گئی۔ہندو مسلم مسئلہ حل کرنے میں آغاخان کی ناکامی در اصل ہندوستان کی آزادی کی تحریک کی ناکامی تھی۔کانگریس کے لیڈر سمجھتے تھے کہ ہندوستان میں صرف دو فریق ہیںایک کانگریس اور دوسرے انگریزی حکومت، غیر کانگریسی خصوصاً مسلم لیگ کے نمائندوں کو وہ انگریزوں کے خفیہ ایجینٹ سمجھتے تھے اسکا جوان آخر میں مسلم لیگ کی طرف سے یہ دیا جانے لگا کہ کانگریس ہندوﺅں کی جماعت ہے جسے مسلمانوں کے حقوق کے معاملے میں بولنے کا کوئی حق نہیں ہے اور مسلمانون کے صحیح نمائندے تو صرف مسلم لیگ والے ہیں۔ظاہر ہے کہ جب دلوں میں اس طرح کی باتیں بیٹھ جائیں تو اتحاد ناممکن ہو جاتا ہے۔چنانچہ آپس کی اس لڑائی میں ملک کے ٹکڑے ہو گئے۔اگرچہ آغاخان اپنے اتحاد کے مشن میں ناکام رہے لیکن اپنی زندگی میں انھوں نے جس دوسرے کام کا بیڑا اٹھایا تھا اس میں وہ کامیاب ہو گئے۔ یہ کام تھا علی گڑھ میں مسلم یونیورسٹی کا قیام۔

۸۹۸۱ئمیں سر سیّد کے انتقال لے بعد بواب محسن الملک آغاخان کے پان بمبئی گئے اور ان سے تمام ہمدردان محمڈن اینگلو اورینٹل کالج کی اُس تمنّا کا اظہار کیا کہ اس کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دیا جائے ہزہائی نس نے اس سے پورا اتفاق کیا اور اپنے پان سے ایک کثیر رقم پیش کی کہ اس کے سہارے ملک میںدورے کر کے یونیورسٹی کی ضرورت کا احساس لوگوں کو دلایا جائے اور اس کے علاوہ بھی ہر قسم کی مدد کا وعدہ کیا۔

چنانچہ نواب محسن الملک اور ان کے ساتھیوں نے مسلمانوںکے دِلوں میں یہ تمنّا جگا دی کہ ان کی اعلیٰ تعلیم کے لئے علی گڑھ میں ایک یونیورسٹی بنائی جائے۔اس کے لئے ۲۰۹۱ئمیں جب ایدورتھ ہفتم کی تاج پوشی پر دلّی میں دربار کا انتظام ہو رہا تھا تو نواب محسن الملک اور ان کے ساتھیوں نے اس موقع پر ایک تعلیمی کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا اور سر آغا خان کو اس کی صدارت کے لیے آمادہ کیا۔

یہ جلسہ دہلی میں بڑی شان سے ہوا۔ ڈپٹی نذیر احمد جب صدارت کی تحریک پیش کرنے کھڑے ہوئے توجواں سال آغاخان کی طرف دیکھکر پہلے تو یہ کہا۔

آفاقہا گردیدہ ام، مہر بتان ورزیدہ ام

بسیار خوباںدیدہ ام، امّا تو چیزے دیگری

اس کے بعد اُن سے صدارت کی درخواست کی۔ جناب امین زبیری صاحب(جو اس جلسہ میں شریک تھے اور جن کی کتاب ”پرنس آغاخان“پر اس مضمون کی بنیاد ہے) کا بیان ہے کہ مجمع پر ایک کیفیت سی طاری ہو گئی تھی۔ نو عمر آغاخان نے اپنی تقریرمیں کہا؛

”جو گریہ و زاری ہم قوم کی تباہی پر کرتے ہیں اگر وہ صدقِ دل سے ہے تو ہم کو چاہیے کہ سن کو اس حالت سے نکالنے کے واسطے متفق ہو کے کوشش کریں اور اس سلسلہ میں پہلا اور سب سے مقدم کام یہ ہے کہ اب ایک یونیورسٹی قائم کی جائے۔یہ یونیورسٹی ایسی ہو کہ علاوہ علوم جدیدئہ کے نوجوانوں کو یہ بھی بتایا جائے کہ ان کا گزشتہ زمانہ کیسا باعظمت تھا اور ان کا مذہب کیسا ہے اور وہ یونیورسٹی ایسی جگہ ہو کہ جہاں طلبہ رہیںاورجہاں مثل آکسفورڈ کے کیرکٹر پر بہ نسبت امتحانات کے زیادہ توجہ دی جائے۔ علاوہ ازیں یہ بھی خیال رہے کہ مسلمانانِ ہند کو اس بات کا جوازاً حق حاصل ہے کہ ان کے ہم مذہب جو ترکی ،پرشیا، افغانستان اور دیگر ممالک میں ہیں وہ ان کی ذہنی نشونما کی طرف متوجہ ہوں اور ان کو مدد دینے کا بہترین طریقہ ہے کہ علی گڑھ کو ہی مسلمانوں کاآکسفورڈ بنا دیا جائے کہ جہاں لائق ترین مسلمان طلبا بھیجے جائیںاور نہ صرف اس غرض سے کہ علوم جدیدہ حاصل کریں بلکہ دیانت اور ایثار بھی سیکھیں جو پہلی صدی کے مسلمانوں سے ان کو ورثہ میں ملا ہے۔

اپنے خطبہ میں آغاخان نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ ایک کروڑ روپیہ یونیورسٹی فنڈ میں جمع کریں۔ یہ تحریک منظور ہوئی اور سارے ملک میںیونیورسٹی بنانے کے کوششیں شروع ہوگیں۔ ۶۰۹۱ئمیں انگلستان کے ولی عہد کے ہندوستان آنے کا پروگرام بنا۔ اس زمانہ میں وہ پرنس آف ویلز کہلاتے تھے اور بعد میں جارج پنجم کے نام سے انگلستان کے بادشاہ ہوئے۔نواب محسن الملک نے گورنمنٹ سے یہ خواہش ظاہر کی کہ پرنس آف ویلز علی گڑھ بھی آئیں لیکن حکومت نے یہ کہ کر ان کی درخوست مسترد کر دی کہ پروگرام پہلے سے بن چکا ہے اور بادشاہ نے اس کی منظوری بھی دے دی ہے اس لئے اس میں تبدیلی کی گنجائش نہیں ہے محسن الملک نے آغاخان سے درخواست کی کہ وہ کچھ مدد کریں آغاخان راضی ہو گئے اور اپنے ذاتی رسوخ اور شاہی خاندان سے تعلقات کو کام میں لا کر پرنس آف ویلز کے علی گڑھ آنے کا انتظام کر وا دیا۔

۸مارچ۶۰۹۱ئکو پرنس آف ویلز علی گڑھ کالج دیکھنے آئے۔ اس تقریب سے سارے ملک میں کالج کا وقار بہت بڑھ گیاسر آغاخان نے سائنس کے تمام شعبوں کو ملا کر ایک سائنس اسکول کھولنے کی اسکیم بنائی اور پرنس آف ویلز کو بمبئی کے ایک مشہور تاجر سیٹھ آدم جی کا ایک تار دکھایا کہ جس میں سیٹھ صاحب نے سائنس کالج کے لیے ایک لاکھ دس ہزار روپیہ دینے کا وعدہ کیا تھا۔ پرنس نے اسکول کو اپنے نام سے بنانے کی اجازت دے دی۔ جب پچیس تیس برس کے بعد سر راس مسعود کی وائس چانسلری کے زمانہ میں کیمسٹری، زولوجی اور سائنس کی تعلیم کے لیے نئی عمارتیں تیار ہوئیں تو ان عمارتوں کے نام پرنس آف ویلزلیبارٹیزرکھا گیا اور ان کے کتبوں پر آج بھی یہ نام لکھا ہوا ہے۔

یونیورسٹی کے لیے رقم مہیا کرنے کی مہم برابر تیز ہوتی گئی ۱۱۹۱ئ میں جب مسلم یونیورسٹی کے لیے چندہ جمع کرنے اور یونیورسٹی کے قوائد مرتب کرنے کے لیے علی گڑھ میں ایک سنٹرل فاﺅنڈیشن کمیٹی بنائی گئی تو آغاخان سے اس کی صدارت کی درخواست کی گئی۔جو انھوں نے قبول فرمائی۔اس کمیٹی نے سارے ملک میں اپنی نمائندے بھج کر روپیہ اکھٹا کرنا شروع کیا ایک وفد کی قیادت خود سر آغاخان نے کی اور وہ سلطان جہان بیگم والیہ بھوپال کے پاس تشریف لے کئے ، بیگم نے ایک لاکھ روپیہ دینے کا اعلان کیا اس پر آغاخان نے بڑے جوش وخروش سے فرمایا۔

”دل بندہ را ذندہ کر دی، دلِ اسلام را ذندہ کر دی

دل قوم را ذندہ کر دی، خدائے تعلی بطفیل رسول اجرش دہد“۔

اسی سال یعنی فروری ۱۱۹۱ئ میں آغاخان ایک وفد کو لے کر اسی غرض سے لاہور پہنچے، وہاں ایک شاہانہ استقبال ہوا۔ جوش وخروش کا یہ حال تھا کہ ایک اخبار نے سعدی کی گلستان کا ایک نعتیہ شعر آغاخان کے لئے لکھ دیا۔

”چہ غم دیوارِامت را کہ باشد چوں توپشتی باں

چہ باک از موج بحراں را کہ باشد نوح کشتی باں“

مولانا شبلیبھی اس وفد میں شریک تھے۔ انھوں نے جلسہ میں ایک نظم پڑھی جس کے چند اشعار یہ تھے۔

”ولے آساں نباشد درس گاہے را بنا کردن

کہ خود ہر گو نہ گوں رنجوری مار اشفا باشد

دریں بو دیم ما کز پردہ گاہ غیب برسر زد

ہمایوں طلعتی کیں عقدہ را مشکل کشا باشد

سر آغاخان کہ خود خوابست ایں تعبیر نوشیں را

چہ خوش باشد کہ خواب از ما وتعبیر ازخدا با شد

بکیش شیعہ و سنّی سر آغاخان خداانبود

ولیکن کشتی اسلامیاں را ناخدا باشد

کنوں بینی کہ زود آں گلشن رنگیں بپا گر دد

کہ شبلی ہم درو یک بلبل رنگیں نوا باشد“

ادھر چندہ کی مہم جاری تھی اُدھر جب مسلم یونیورسٹی کا مجوزہ قانوں گورنمنٹ کے سامنے پیش کیا گیا تو گورنمنٹ نے یونیورسٹی کو ملک کے دوسرے تعلیمی اداروں کے الحاق کا حق منظور نہیں کیا۔اُس زمانے میں عام مسلمان اسے بہت اہمیت دیتے تھے۔ لیکن باوجود ہر کوشش کے حکومت اس معاملہ میں ٹس سے مس نہ ہوئی۔ یہاں یہ بات غور کرنے کی ہے کہ دہلی کی کوئی بھی حکومت کبھی اس کو گوارہ نہیں کر سکتی کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی مسلمانوں کا سیاسی مرکز بنے۔ الحاق کی تجویز سے حکومت کو یہ اندیشہ تھا کہ اس طرح یہ یونیورسٹی سارے ہندوستان کے مسلمانوں کا سیاسی مرکز بن جائے گی۔ ظاہر ہے کہ وہ یہ بات کبھی گوارہ نہیں کر سکتی تھی۔ آئندہ بھی کوئی حکومت کسی یونیورسٹی کو اس قسم کا سیاسی مرکز بننے کی اجازت نہیں دے سکتی۔

ظاہر ہے کہ اس سے بہت سے لوگوں کو مایوسی ہوئی جن میں آغاخان بھی تھے۔ لیکن وہ معاملہ کی نوعیت کو جلد سمجھ گئے۔ اس عرصہ میں یورپ میں جنگ عظیم چھڑ گئی اور یونیورسٹی کا معاملہ نگاہوں سے اوجھل ہو گیا۔ جنگ بلقان اور ترکی کی حمایت میں خود مسلمان اتنا مشتعل ہو گئے تھے کہ وہ یونیورسٹی کی اہمیت کو بھول سے گئے۔ لیکن آغاخان کبھی اسے نہ بھولے، پہلی جنگ عظیم کے خاتمہ پر انھوں نے پھر تحریک شروع کی۔ پہلے تو مسلمان ان شرائط پر یونیورسٹی قبول کرنے کو تیار نہ تھے جو حکومت کی طرف سے پیش کی جا رہی تھیں لیکن بعد میں سر آغا ©خان اور مہاراجا محمود آباد کی کوششوں سے با لآخر مسلمانوں نے یونیورسٹی کی تجویز منظور کر لی اور ۰۲۹۱ئمیں یونیورسٹی قائم ہو گئی، بیگم بھوپال چانسلر، سر آغاخان پرو چانسلر اور مہا راجا محمود آباد وائس چانسلر منتخب کیے گئے۔

آغاخان یونیورسٹی کے قیام کے بعد سے علی گڑھ کے معاملات میں اور زیادہ دلچسپی لینے لگے۔ ۶۳۹۱ئمیں جب ڈاکٹر ضیاءالدیں پہلی مرتبہ وائس چانسلر بنے تو سر آغاخان نے انھیں انجنیرنگ کالج کے قیام کا مشورہ دیا وہ علی گڑہ آئے اور اگریکلچر کالج کے قیام کی تجویز پیش کی۔اس کے بعد انھوں نے پرو چانسلر کے عہدے سے استعفیٰ دیکر نواب صاحب رامپور کو اپنا جانشیں تجویز کیا جس کو کورٹ نے منظور کر لیا اور آغاخان کو یونیورسٹی کا ریکٹر بنا دیا۔

۸۳۹۱ئمیں وہ ایک بار پھر نواب صاحب رام پور کے ساتھ علی گڑھ تشریف لائے اور انجینرنگ کالج کے لئے اپنی طرف سے ایک لاکھ روپیہ دینے کا اعلان کیا اسی قدر رقم کا وعدہ نئے چانسلر نظام آف حیدر آباد نے بھی کیا اور نواب صاحب رام پور نے ایک لاکھ دو ہزار روپے دیے۔

جب ۱۴۹۱ئمیں ڈاکٹر ضیاءالدین دوسری دفعہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر مقرر ہوئے تو آغاخان نے انھیں میڈیکل کالج کے قیام کا مشورہ دیا اور اس کالج کے لیے ایک لاکھ روپیہ چندہ دیا۔

غرض ہزہائی نس سر آغاخان نے سر سیّد کے زمانہ سے دوسری جنگ عظیم تک کے طویل عرصہ میں علی گڑھ سے اپنا تعلق قائم رکھا اور جو محبت انھیں اس اِدارے سے رہی اس کا حق برابر ادا کرتے رہے۔

آغاخان دنیا کے ریئس ترین لوگوں میں سے تھے اور انھیں دنیا برتنے کا سلیقہ بھی تھا۔ شاید دیکھنے والوں کی نگاہیں ان کی دولت سے ایسی چکناچوند ہوئیں کہ ان کے قومی کارنامے نظروں سے اوجھل ہوگئے۔ وہ ہندوستان کے ایک بہت روشن خیال اور دانشمند رہنما تھے جنھوں نے جمہوریت کو ہندوستانی پس منظر میں سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی۔ساری عمر وہ کوشاں رہے کہ ہندوستان کے لوگوں اور خصوصاً مسلمانوں کو بیسویں صدی میں باعزت زندگی بسر کرنے کا سلیقہ آ جائے۔

۷۵۹۱ئمیں یہ شمع فروزاں گل ہو گئی۔ان کے بعد ان کے پوتے پرنس کریم الحسینی آغاخان چہارم ان کے جانشین ہوے۔

Friday, December 12, 2014

کیسے دربان؟

’’پہلے دو دن میری والدہ کی طبیعت سخت ناساز تھی۔ انھیں ہسپتال لیکر جانا تھااس لئے دفتر نہیں جاپایا۔ دسمبر کی دوسری تاریخ کو جب میں دفتر کے لئے گھر سے نکلا تو ٹریفک بری طرح جام تھا۔ یونیوسٹی روڈ کو دو جگہ کنٹینر لگا کر بند کر دیا گیا تھا۔ پہلے مجھے لگا کہ شاید شہر کے حالات ٹھیک نہیں یا پھر خدا نخواسته کوئی دھماکہ ہو گیا ہے۔ ‘‘
میرا دوست اجمل نیم تر آنکھوں کے ساتھ نوکری سے فارغ کردئے جانے کی کہانی سنا رہاتھا۔
’’جیسے تیسے میں دفتر پہنچ گیا مگر ایک گھنٹہ تاخیر سے۔۔۔میرے بوس آگ بگولا ہوگئے۔ وہ بھی حق بجانب تھے کیونکہ والدہ کی طبیعت کی خرابی کی وجہ سے دو دن دفتر کی چھٹی کی تھی اور تیسرے دن مقررہ وقت سے ایک گھنٹے بعد پہنچا تھا۔ ‘‘
اجمل چونکہ گھر کا واحد کفیل ہے اوردو شفٹوں میں کام کرتا ہے۔ صبح آٹھ بجے سے چار بجے تک ہارڈ ویئر کمپنی میں اور رات کو ایک کھلونوں کی دکان پر بطور سیل مین کام کرتا ہے۔
’’چوتھے دن دفتر جانے کے لئے متبادل راستے کا انتخاب کیا اور بجائے یونیورسٹی روڈ کے ، براستہ نیشنل سٹیڈیم رو ڑ دفتر کی جانب نکلا۔جب میں لیاقت ہسپتال کے قریب پہنچا تو معلوم ہوا کہ وہاں بھی شاہراہ کو کنٹینر لگا کر بند کردیا گیا ہے۔ پرایشانی کے عالم میں بس سے اتر کر رکشہ لیا اور وقت پر دفتر پہنچنے کی ناکام کوشش کی۔میرے بوس نے بغیر ایک سوال پوچھے تین دنوں کے پیسے پکڑا دئے۔ میں نے اپنی مجبوریاں پیش کرنے کی کوشش کی مگر بے سود۔۔۔ انھوں نے صاف کہہ دیا کہ کسی مجبوری کا ذکر مت کرنا میری بھی مجبوری ہے۔ خدا حافظ۔۔۔۔
میرے ذہن پر اپنی والدہ کی ادویات، گھر کا کرایہ ، کچن کے اخراجات، چھوٹے بھائی کی فیس اور اپنی نوکری کے بارے میں کئی سوالات مسلسل ہتھوڑے کی طرح برس رہے تھے اور ہنوز یہ سلسلہ جاری۔۔۔ آخر میرا قصور کیا ہے؟ میرا مجرم کون ہے؟ میرے نقصانات کا آزالہ کون کرے گا؟ ‘‘ (اور پھر وہ بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا)
یہ ایک اجمل کی کہانی نہیں ہے ۔ روشنیوں کے شہر کے کئی اجمل پچھلے چار دنوں سے پریشانیوں کے اندیھروں میں ڈوب رہے ہیں ۔ اس کی وجہ کراچی ایکسپو سنٹر میں جاری’’ دفاعی نمائش: آئیدیاز 2014 ‘‘ ہے۔ اس کے سبب شہریوں کی معمولات زندگی بری طرح متا ثرہے کیونکہ مین شاہراہوں کو کنٹینر لگاکر بند کیا کردیا ہے اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔ لوگ وقت پر دفتر نہیں پہنچ پاتے، ایمبولنس ہسپتال نہیں پہنچ سکتے اوربچے وقت پر اسکول نہیں پہنچ پارہے۔۔۔۔یوں کہہ لیجئے کہ زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے۔
اس موقعے کی مناسبت سے میں حکومت اور خصوصاً پاک فوج سے چند سوالات پوچھنے کی جسارت کر رہا ہوں ۔
١۔ ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہی ہے اور ملک کے سالانہ بجٹ کا بہت بڑا حصہ دفاع پر خرچ کیاجاتا ہے۔جس کی وجہ سے بنیادی ضروریات مثلاً تعلیم ، خوراک کو ترجیح نہیں دی جاتی۔عام آدمی مشکل سے زندگی کی گاڑی کو کھینچ رہا ہے ، ایسے میں کراچی جیسے گنجان آباد شہر میں یہ میلہ لگاکر عوا م کو کیوں پریشان کیا جارہاہے؟
٢۔ ایک اخباری رپورٹ کراچی کاایک بڑا رقبہ فوج کے قبضے میں ہے، شہر کے قلب میں یہ تماشہ رچانے کے بجائے ملیر کینٹ جیسی ممنوعہ جگہ پر کیوں منعقد نہیں کیا گیا کیوں کہ عام آدمی کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے؟
٣۔ اس نمائش سے عام آدمی کو کیا فائدہ پہنچ رہا ہے؟
٤۔ کیا کبھی حکومت اور پاک فوج نے نئی نسل اور طالب علموں کے لئے ایسی پروقار تقریب کا انعقاد کیا یا کوئی کتابی میلہ لگایا؟
اور رہی بات دفاعی اسلحہ اور اس کے کردار کی تو مجھے رہ رہ کر وسعت اللہ خان صاحب کے وہ الفاظ یاد آرہے ہیں جو انھوں نے ایٹم بم کے بارے میں کہے تھے۔
’’یہ ایٹم بم نہیں بلکہ غریب کے د رپہ بندھا ہاتھی ہے جس کے گنے بھی پورے نہیں ہوپارہے تم سے۔۔۔۔بلکہ میں تو یوں کہوں کہ یہ ایٹم بم نہ ہوا سولہ دوشیزہ ہوگئی کہ کوئی اٹھاکر نہ کے جائے۔ اپنی حفاظت کے لئے بنایا تھا ناں ؟ اب اس کی حفاظت کے لالے پڑے ہیں ۔‘‘

Wednesday, December 3, 2014

بے مقصد۔۔۔"دفاعی نمائش آئیڈیاز "2014





جگہ جگہ مین شاہراہیں کنٹینر لگاکر بند کردی گئی ہیں،  ٹریفک جام ہونے کی وجہ سے معمولات زندگی بری طرح متاثرہے، ایمبولنس وقت پرہسپتال نہیں پہنچ پارہے، لوگوں کو دفتر پہنچے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، بچے وقت پر اسکول نہیں پہنچ پاتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان تمام مسائل کا سبب " دفاعی نمائش آئیڈیاز 2014" ہے۔ جس کے باعث شہر قائد کے عوام کی زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے۔ 
میں حکومت خصوصا افواج پاکستان چند سوالات پوچھنا چاہتا ہوں
۱۔ اس نمائش سے ملک کے عوام کو کیا فائدہ ہے، سوائے خواری کے ؟
۲۔ کیا کروڑوں ڈالر کے عوض یہ اسلحہ تمائش کے لئے خریدا گیا ہے؟
کیونکہ ہر معرکے میں ثابت ہوچکا ہے ان ہتھیار کا استعمال دشمن کے خلاف نہیں ہوتا اور نہ ہی سرحدوں کی حفاظت کر پائے ہیں۔  سقوط ڈھاکہ سے لے کر کرگل محاز تک کے قصے مثالی نمونے ہیں ان سے صرف اپنے شہریوں گولیاں چلائی جاتی ہیں۔
۳، اس نمائش کا مقصد کیا ہے؟
۴۔ کیا کبھی افواج پاکستان یا حکومتی طور پر اتنے بڑے کتب میلے کا انعقاد ہوا ہے؟
۵۔ شہر کے فلب میں یہ تماشا رچانے کے بجائے ان مقامت پر یہ  نمائش کیوں نہیں لگائی جو پہلے سے فوج کے قبضے میں ہے۔ یاد رہے کہ ایک رپورٹ کے مطابق کراچی کا ایک بڑا رقبہ افواج کے قبضے میں ہے۔

یوں گماں ہوتا ہے کہ یہ تمام ہتھیار صرف نمائش کے لئے ہی خریدا گیا ہے