جب میں پانچویں جماعت میں تھا تو پہلی بار اپنے’’ دشمن‘‘ کے بارے میں پڑھا کہ وہ کس بے دردی سے مجھے تکلیف دیتاہے،میرے حقوق کو غضب کرتا ہے اور میرا خون بہاتا ہے۔ یہ سب جان کر میں غصے میں پسینے سے شرابور ہوجا تا تھا اور اپنے ’’دشمن‘‘کا منہ نوچنے اور اس کا کلیجہ چبانے کا دل کرتا۔ سوچتا تھا کہ کیسے اس کے مظالم کابدلہ ایک ایک کر کے لے لوں۔۔۔
و قت گزرتا گیا، میں چھٹی جماعت میں آگیااور نصابی کتب سے اپنے ’’دشمن‘‘ کے بارے میں مذید’’ آگاہی ‘‘حاصل کی۔اس بار میرا غصہ پہلے سے زیادہ شدید تھاکیونکہ مجھ پر میرے ’’دشمن‘‘ کے مظالم کے نئے در واں ہوگئے تھے اور یہ داستان پہلے نہیں سنے تھے۔ جوں جوں سال گزرتے گئے میرے غصے کی شدت بڑھی گئی ، نفرت کا ایک پہاڑسینے میں کھڑا ہوگیا اور میں انتقام کی آگ میں جلتا گیا۔ کبھی کھبار اس آگ کی لہریں اور تپش اتنی تیز اور بھیانک ہوتی کہ پوری دنیا کو جلا کر راکھ کرنے کا دل کرتا۔ مگر مجبور، لاچار اوار تنہا۔۔۔۔۔کیسے ممکن ہوتا؟؟ میں اس آگ میں فقط خود ہی جل کر بھسم ہوجاتا تھا،کوئی اور حتیٰ کہ برابر میں بیٹھا شخص بھی اس کی تپش محسوس نہیں کرتا۔ اس آگ سے کسی کو کوئی نقصان کا خدشہ نہیں ہوتا بشرطیکہ وہ اس کے اپنے سینے اندر نہ لگی ہو۔
میٹرک تک پہنچتے پہنچتے میں کبھی ٹیپو سلطان کے گھوڑے کی پشت پر بیٹھے دشمنوں کو زیر کرتا رہا، کبھی محمود و ایاز کے ساتھ نمازیں ادا کرتا رہا۔ پھر سترویں صدی کے وسط میں شاہ ولی اللہ کے ساتھ اسلام کی ’’تبلیغ‘‘ کی اور احمد شاہ ابدالی کو ہندوستان آنے کی دعوت دی۔ انھوں نے ہندوستان کے ساتھ جو سلوک کیا۔۔۔۔۔۔۔
اٹھارویں صدی میں نے احمد شاہ شہید سے جہاد کا مطلب اورمفہوم سمجھا اسی صدی میں احمد رضاخان اور ان کے پیروکاروں کے ساتھ مل کرزمین کو گول کہنے والے جاہلوں کے خلاف ’’جہاد ‘‘ کیا۔ ابتدا میں سرسید بھی ہمارے حامیوں میں تھے مگر جلد ’’مکر‘‘ گئے۔ میں مغل شہنشاہوں کو کنیزوں کے پہلووں میں بیٹھے تکتاتھا اور گوروں کی آمدبھی دیکھ لی ۔
ظلم کا بازار ہر دور میں گرم رہا۔ میرا دشمن ہر دور میں خون کی ہولی کھیلتا رہا۔ 1947 میں آزاد ملک میں سانس لینے لگا مگر میری سانس گھٹتی رہی ، لاشیں گرتی رہی۔ میرادشمن ظلم کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا تھا۔ اب چند برسوں سے مجھے محسوس ہونے لگا ہے کہ میں شاید پاگل ہو گیا ہوں۔مجھے ایک اور دشمن نظر آنے لگا ہے۔ اس کے ظلم کا انداز’’ مہذبانہ‘‘ ہے مگر میرے پہلے دشمن سے زیادہ خطرناک ہے۔ اس کا چہرہ بھیانک نہیں(جیسا کہ اپنے پہلے دشمن کے بارے میں پڑھایا گیا تھا) مگر ارادے مکروہ ہیں۔ظلم کا داستاں طویل نہیں مگر مظلوموں کی تعداد کئی گنا زیادہ ہے۔
۔یہ مجھ پر بم نہیں گراتامگر بھوکا رکھتا ہے۔
۔یہ مجھ سے لگان نہیں لیتا مگر ٹیکس لیتا ہے۔
۔ قرض وہ لیتا ہے ، بوجھ مجھ پہ آتا ہے اور چکاتا میں ہوں۔
۔ گاڑی وہ چلاتا ہے تیل کا انتظام میں کرتا ہوں۔
۔ منا فع وہ کماتا ہے فیکٹریوں میں کام میں کرتا ہوں۔
۔ خون پسینہ میں ایک کرتا ہوں مگر بینک بیلنس اس کا بڑھتا ہے۔
۔ بڑے شاندار گھر میں تعمیر کرتا ہوں مگراس میں رہائش اختیار وہ کرتا ہے۔
۔ سخت موسم میں گرمی ،سردی برداشت کر کے ، گھنٹوں لائنوں میں کھڑے ہوکر ووٹ میں دیتا ہوں مگر ایوانوں میں مزے وہ لوٹتا ہے۔
اتنا سب کرنے کے باوجود وہ خود کو میرا خیرخواہ کہتا ہے، اپنا دوست کہتا ہے اور خود کو میری خوشحالی کا خواہش مند کہتا ہے۔ میں کیسے
مان جاؤں؟؟ میں کیونکر یقین کروں؟؟ اب میں پہچان گیا ہوں اپنے دشمن کو۔۔۔ بھلے مجھے نصابی کتب میں جو بھی پڑھایا جائے۔۔۔
اک شخص کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر
کاش اس زبان دراز کا منہ نوچ لے کوئی
(جونؔ )
کسی مکان کو آگ لگی ہوئی ہوتو آگ لگنے کی وجوہات پرریسرچ کرنے سے پہلے آگ بجھانا فرض ہے۔
Tuesday, May 20, 2014
وفا ہی جفا؟
کہا جاتا ہے کہ مجھ سے ایک نیا رشتہ7 194ء کو جوڑا گیا اور میرے ساتھ ویسا ہی سلوک کیا گیا جو مشرقی عورتوں کے ساتھ ان کے نا خدا مرد کرتے ہیں۔ یہ بھی بارہا سن چکی ہوں کہ میری تاریخ اور میراماضی بہت شاندار رہا ہے۔ اپنی خوبصورتی بیان کر کے اپنے منہ میں مٹھو نہیں بننا چاہتی۔ میرے حُسن کوحسنِ یوسف سے تشبہ دی جاتی ہے۔ میری خوبصورتی دیکھ کر دیکھنے والوں کی آنکھیں ماند پڑجاتی ہیں۔ میرے برف پوش پہاڑوں کو دیکھ کر گورے ،کالے سب پروانوں کی طرح میرے ارد گرد منڈلاتے ہیں، طواف کرتے ہیں اور کچھ قربان بھی ہوجاتے ہیں۔ میری سر سبز وادیوں اور لہلہاتے کھیتوں کی دلکشی ہر شخص پہلی نظر میں دل دینے پر مجبور کرتی ہے۔ میرے شفاف پانی کے چشمے لوگوں کو اپنی طرف ایسے کھینچتے ہیں جیسے مے خوار کو مے، عاشق کو معشوق، لوہے کو مقناطیس، بھوکے کو روٹی ، اور عابد کو معبود ۔۔۔۔ صاف و شفاف پانی کے آبشاروں کو دیکھ کر لوگوں کو بہشت کے دودھ کی نہروں کا گماں ہوتا ہے۔ میرے پاس سب کچھ ہوکر بھی کچھ نہیں ہے۔ میں اب اس دوشیزہ کی مانندجی رہی ہوں جس کی خوبصورتی اس کے لئے بھیانک خواب بن جاتی ہے اور چاروں سمت سے ننگی نظریں اس کا جینا دو بھر کر دیتی ہیں۔ میرے ساتھ بھی عجیب سلوک روا رکھا جاتا رہا ہے۔ مجھے ہر وفا کا صلہ جفا کی صورت ملا اور مل رہا ہے۔ کبھی مجھے جنرل کے جوتوں تلے روندا گیا اور کھی میرے بچوں کو شعیہ ، سنی کی ’’ہڈّی‘‘ پر لڑوایا گیا۔ میرے بچے، میرے سپوت ہر
میدان میں کارنامے انجام دیتے ہے مگر افسوس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کبھی لالک جان بن کراپنی جان کی پرواہ کئے بغیر مخالف فوج کے پرخچے اڑاتے ہیں تو کبھی نظیر صابر، حسن سدپارہ ، ثمینہ بیگ اور مرزہ علی
بن کر دنیا کی بلند ترین چوٹیوں پر فتح کے جھنڈے گاڑتے ہیں۔ کھیلوں کے میدانوں میں ڈیانہ بیگ، محمد کریم، عباس، آمنہ اورارفہ ولی بن کرشاہین کی طرح اونچی اُڑان بھرتے ہیں۔ امن اور علم کا عَلم تو میرے بچوں کی خاص نشانی ہے اور پہچان ہے جسے وہ نہ صرف ملک میں بلکہ پوری دنیا میں بلند کئے ہوئے ہیں۔ مگر صلے میں کیا ملتا ہے؟؟؟؟ پہلے جہاں میرے کانوں میں مینا و بلبل اور خوبصورت پرندوں کی چہچہاہٹ رس گھولتی تھی اب بم دھماکے اور بندوقوں کی آواز سنائی دیتی ہے۔ لال گلاب ، چنبیلی اور دیگر رنگ برنگ پھولوں کی خوشبو میرے بدن میں بسی رہتی تھی ، اس کی جگہ بارود کی بُو نے لے لی ہے۔ رنگینیوں میں ڈوبے میرے
پیراہن اب میرے اپنے بچوں کے خون سے رنگین ہیں۔ وفاوؤں کا یہ صلہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آخر میرا قصور کیا ہے؟ میری خطا کیا ہے؟ کونسا جرم میں کرچکا ہوں؟؟ مجھ سے اور میرے بچوں سے ایسا کونسا گناہ سرزد ہوگیا تھا کہ اب ان کے منہ سے نوالہ بھی چھین لیا جاتا ہے؟ شاید ان کا لالک جان، نظیر صابر، ثمینہ بیگ، میرزہ بیگ، حسن سدپارہ، ڈیانہ بیگ، محمد کریم، عباس، آمنہ اور عارفہ ولی بننا غلطی ہے۔ میں آج یہ سوال پوچھنا چاہتی ہیں کہ کیا میری وفا ہی میری خطا ہے؟؟ اگر ہاں، تو پھر سزا دو مجھے۔۔۔ چھین لو میرے بچوں سے روٹی ۔۔۔ لڑادو انھیں۔۔۔ مٹادو مجھے۔۔۔ لُوٹ لو۔۔۔۔۔
Sunday, March 16, 2014
زخمی ہیں بہت پاؤں ، مسافت بھی بہت ہے
پرانے وقتوں میں جاگیر دار تعلیم کے خلاف تھا اور اپنے علاقے میں اسکول بنائے جانے کی بھر پور اور موثر اور موثر مخالفت کرتا تھا اب وقت کے ساتھ
ان کا طریقہ مخالفت بھی تبدل ہوگیا ہے ۔ اب کچھ مجبوریاں لاحق ہیں اور اس پیمانہ کی مخالفت ممکن نہیں، تو سرمایہ دار اور جاگیر دار کی ملی بھگت سے ان کی مفادات کی ضامن بہترین حکمت عملی حاوی نظر آتی ہے کہ یہ طبقات تعلیم کے ساتھ ساتھ اب علم کی مخالفت پر بھی کمر باندھ چکے ہیں اور بڑی حد تک اپنے مقاصد میں کامیاب ہیں ۔انھیں کامیابی کا عطیہ دینے میں ملک کے سیاستدانوں کا بھی بڑاہاتھ ہے۔ ایک دلچسپ امر یہ ہے کہ ملک میں آج کل برساتی مینڈکوں کی طرح ہرسڑک ،گلی، محلے میں نام نہاد تعلیمی ادارے نظرآتے ہیں ۔ بے شمار تعلیمی ادارے زیر تعمیرہیں ۔ پرائمری اسکول، ثانوں تعلیم ، قانون، طب، زراعت ، نجینئرنگ، فاصلاتی تعلیم، دینی تعلیم وغیرہ جیسے بے شمار ادارے ہمیں ہر شاہراہ پر سال بھر’’داخلے جاری ہے‘‘ کے بینرکے ساتھ استقبال کرتے ہیں ۔ اس کے باوجود ملک میں شرح خواندگی اور معیاری تعلیم کی پستی پہلے سے بہتر نہیں ۔اس کی ایک تازہ مثال 2013میں CSSکے نتائج کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے ۔ جو پچھلے سال کی نسبت نہایت خراب ہے، پچھلے سال 14,335طلباء میں سے 10,006ان امتحانات میں شریک ہوگئے تھے اور 778کامیاب ٹھہرے(588میل،200فی میل )۔ اس سال 15,998نے اپلائی کیا اور 11,406امتحانات میں شریک ہوگئے ان میں صرف 238(66فی میل 172میل) نے کامیابی حاصل کی۔ یہی صورت حال اسکول سطح کی تعلیم کی ہے، ایک تازہ تحقیق کے مطابق اسکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد کے حوالے سے دنیا بھر میں پاکستان دوسرے نمبر پر ہے جہاں 5.1ملین کم عمر بچے اسکول میں داخل نہیں، تعلیمی شعبہ پر ہمارے اخراجات میں کمی واقع ہورہی ہے۔ ہر سال شرح پیدائش میں اضافہ کے باوجود پرائمری اسکول میں داخلہ کی شرح زوال پزیر ہے ایک رپورٹ کے مطابق 190-91میں پرائمری اسکولوں میں داخلے کی شرح 46فیصد تھی جو دس برس بعد 2000میں 42فیصد پر آگئی اب صورت حال مذید تشویش ناک ہے ۔ بظاہر تو ہر فرد ،ہر ادارہ ، اور ملک کا ہرسیاست دان اور ہر طبقہ اس مسلئے میں دلچسپی رکھتا ہے مگر عملی اقدامات سے ہر کوئی گریزاں ہے ۔ سب سے بڑاالمیہ یہ ہے کہ یہ تمام فراد صرف آئین میں اس چیز کو شامل کرتے اور دور اقتدار میں مختلف ’’بڑے بڑے‘‘ اور’’ اہم ترین‘‘ مسائل میں الجھے چلے جاتے ہیں ۔مگر بنیادی اور اہم ترین مسئلہ ان کی توجہ مبذول کروانے میں آج تک کامیاب نہیں ہوسکا۔ہمارے یہاں مختلف اوقات میں کوئی نہ کوئی تعلیمی پالیسی برائے نام ہی سہی سامنے آتی رہتی ہے ۔کمیشن بنتے ہیں جو اپنی سفارشات طے کرتے ہیں، آئین سازی ہوتی ہے ، قوانین بنتے ہیں ،تحریکیں چلتی ہیں لیکن آج تک ترقی اور بہتری کے لیے تو عملی کام نہیں کیا جا سکا۔ طبقاتی نظام تعلیم اور ٹیوشن سینٹر کلچر ملک میں اس شعبے کو مزید تباہی کے دھانے کی طرف لے جارہاہے ۔ امریکہ اور برطانیہ کے نصاب پڑھانے والے تعلیمی ادارے ہر گلی محلے میں پہنچ چکے ہیں اور اکیڈمی اور ٹیوشن سینٹر کی بہتات نے علاقے کی ٹریفک اور گھروں کے کرایوں میں بے ہنگم اضافہ کردیا ہے ۔ شہروں میں اسکول کے بعد ٹیوشن سینٹر ایک فیشن اور کینسر کی شکل اختیار کر چکا ہے ۔ یہ بات بالکل سمجھ سے بالاتر ہے کہ بڑے بڑے نجی اسکولوں کے طلباء جو موٹی موٹی فیسیں ادا کرتے ہیں، بھی اسکول کے بعد ٹیوشن کی طرف مائل ہیں ۔ ہمارے ملک میں اس شعبے کی مثال ایک ایسے ہیرونچی کی سی ہو گئی جو ہمیشہ نشے میں دھٹ لڑکھڑاتا ہے ہر دور میں حکمران سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کی ملی بھگت سے ایک نیا انجکشن اس شعبے کو لگا دیتاہے ۔تاکہ یہ شعبہ سنبھل نہ پائے یوں ہی لڑکھڑاتا رہے ۔کیونکہ اسی طرح عام عوام ،مزدور،کسان اور غریب طبقہ تعلیم اور شعور سے دور رہے اور ان کی خدمت کرتارہے
Wednesday, January 22, 2014
!!! اسلام خطرے میں ہے
لا ئبریری میں لاکھوں کی تعداد کی کتابیں تھیں،طب،ریاضی، نفسیات، تاریخ۔۔۔ غرض کہ ہر شعبے کے متعلق لکھی گئی کتابیں۔۔ لیکن ان میں ایک کتاب” میرے مذہب“ کے خلاف تھی۔ میں نے اپنے دوستوں کو جمع کیا اور لائبیریری کے تمام دروازوں پر بڑے بڑے تالے لگادئے اور بند کردیا۔ یہ سب میں نے ”اسلام“ اورخدا کے لئے کیا۔۔۔
دوسرا واقعہ ملاحظہ کیجئے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے بھی ایسی ہی بچکانہ حرکت کی ہے۔یو ٹیوب جو کہ دنیا بھر کے معلومات کا خزانہ ہے، پر اس پر اسلا م کے نام سے پابندی لگادی۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ اسلام اتنا کمزور ہے کہ ایک ویب سائیٹ سے اسے خطرہ ہے؟؟ پوری دنیا کے پچاس سے ذائداسلامی ممالک نے ایسی نادانی نہیں کی صرف ہمارے ملک کے نام نہاد مسلمانوں نے اپنے عوام پر معلومات کے دوازے بند نہیں کر دیے۔ان اسلام کے ٹھیکیداروں نے صرف پاکستان میں ایسا کیوں کیا؟؟ کیا سارے پکے مسلمان صرف یہاں بستے ہیں؟؟ کیا کوئی اور حل موجود نہیں ہے؟؟ کیااسلام اتنا کمزور ہے کہ ایک ویپ سائٹ سے خوف محسوس ہونے لگا؟؟ ہم پوری دنیا کو اسلام کا کیسا امیج دے رہے ہیں۔ میرے خیال میں آج اسلام کو سب سے بڑا خطرہ انہی لوگوں سے ہے جو اسلام کو مٹی کا برتن سمجھ بیٹھے ہیں ا ور ”حفاظت“ کرنے کی خاطر اونچی جگہ پر رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
چاٹتی ہے آج بھی انسانیت اپنا لہو
ابو ظہبی کے 64سالہ حکمران شیخ حماد بن ہمدان الہنیان نے اپنے نجی جزیرے کے تین کلو میٹر سے زائد علاقے پر اپنا نام لکھوایا ہے جو خلاء سے نظر آتا ہے۔ ہر حرف
نصف میل اونچا اور دو میل لمبا ہے اس پر تقریباً 23ارب ڈالر خرچ کیے گئے ہیں۔
اس دنیا میں کتنے ایسے لوگ ہیں جو ایک ایک نوالے کے لئے ترستے ہیں۔بھوک کی وجہ سے سسک سسک کر مرتے ہیں،آدھی سے زیادہ دنیا غربت کے لکیر کے نیچے دبی ہوئی ہے۔ اور چند لوگوں کے پاس اتنا پیسہ ہے کہ وہ خرچ کرنے کے لیے بہانے ڈھونڈتے ہیں۔ دوسری طرف جن کے ہاتھ میں چند سکّے ہیں وہ اس لیے پریشان ہیں کہ پیٹ کی آگ بجھا دی جائے یا تن ڈھانپا جائے؟؟
نادان شیخ اگر ڈھیر سارا پیسہ دنیا کے بھوکوں اور بے لباسوں کی مددکے لئے خرچ کرتے، کوئی ہسپتال کھولتے، کوئی تعلیمی ادارہ بناتے تو ان کا نام رہتی دنیا تک تاریخ کے صفحوں پر محفوظ رہتا۔۔۔۔ لوگوں کے سرچھپانے کے لئے جھونپڑی نہیں اورشیخ صاحب کے پاس کئی نجی جزیرے ہیں۔
ذرا سوچئے۔۔۔ ساحل پر یہ نام کب تک محفوظ رہیگا؟؟ چند سالوں تک۔۔۔ اس کے بعد اس کی اپنی ہی اولاد شاید وہاں اپنا نام کھدوایں، اگر وہ ان پیسوں سے کوئی جامعہ یا انسانی خدمت کے لیے خرچ کرتا تو نام ہمیشہ کے لیے تاریخ کے اوراق پر زندہ رہتا۔۔۔ نادان ہی نہیں بلکہ بے وقوف بھی ہے۔۔۔۔۔
Monday, January 20, 2014
”امیرِ شہر کے کتّے بھی راج کرتے ہیں“
جنوری کی سرد رات تھی،یخ بستہ ہوائیں جب جسم کو چھوتی تھی تو یوں گماں ہوتا تھا جیسے کسی نے تیز دھار آلے سے جسم پر وار کردیا ہو۔ لوگوں نے موٹی گرم چادریں اور جیکٹیں ژیب تن کی تھیں۔ ڈھول کی تھاپ پر کچھ لڑکے دیوانہ وار رقص کر رہے تھے، برقی قمقموں نے ہر طرف روشنی پھیلادی تھی۔ چند بزرگ افراد اور ادھیڑ عمر کے خواتین و حضرات جھومتے لڑکوں کو تالیاں بجا کر داد دے رہے تھے۔پاس کھڑی لڑکیاں رنگ برنگ کے لباس میں ملبوس ماحول کواور خوبصورت اور دلکش بنا رہی تھی۔یہ ایک شادی ہال کے باہر کا منظر ہے۔ دلہا کے پہنچتے ہی صاف ستھرے سوٹ میں ملبوس ایک جوان گاڑی کی چھت پر چڑھ گیا جس کے ہاتھ میں روپیوں کی گڈیاں تھی۔وہ مسلسل ”کڑک
نوٹ“ دولہا کے اوپر برسا رہا تھا۔ چند قدم کے فاصلے پردس بارہ سالہ لڑکی ٹکٹکی باندھے حسرت بھری نگاہوں سے یہ منظر دیکھ رہی تھی۔ جسم پر واحد پھٹا پرانا اور کافی چھوٹا کرُتا تھا جس سے اس نے اپنا میلا بدن ڈھانپنے کی نا کام کوشش کی تھی۔ اس کی نظریں کبھی ہوا میں اڑتے نوٹوں پر تو کبھی بھاری بھرکم میک اپ میں میں ڈھیر سارے زیور سے آراستہ دلہن کی طرف حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتی۔۔۔ اس کے ساتھ بیٹھا چھوٹا بچہ بنا پلک جھپکائے برابر میں لگے سیخ کباب کی طرف دیکھتا جارہا تھا۔۔۔ اس دوران ٹریفک دوبارہ رواں دواں ہوگئی اور میں آگ بڑھ گیا۔آدھا ایک گھنٹے بعد جب میں واپس لوٹ رہا تھا تو اس جگہ پر ایک اور منظر میرامنتظر تھا،جسے دیکھ کر خود سے اور پوری انسانیت سے نفرت ہونے لگی وہی معصوم بچے اب شادی ہال سے کچھ فاصلے پر موجودکچرے کے ڈھیر پر بیٹھے اس کچرے میں سے چاول نکال کرپیٹ کی آگ بجھارہے تھے۔غالبا ً شادی ہال سے بچا کھانا یہاں پھینک دیا تھا۔ان بچوں کے برابر میں دو کتےّ ایک دوسرے کے ساتھ گتم گتّا تھے مگر بچے دنیا جہاں سے بے خبر پیٹ کی آگ بجھا رہے تھے۔ ایسے مناظر ہمیں روزانہ دیکھنے کو ملتے ہیں۔لیکن ہمارا ضمیر اتنا مردہ ہوگیا ہے کہ ایک پل کے لئے بھی انسانوں میں اس تفریق کے بارے میں نہیں سوچتے۔ یہاں کوئی ایک
نوالے کے لے ترستا ہے اور چند لوگوں کے کتےّ بھی راج کرتے ہیں۔ شاعر نے کیا خوب فرمایا ہے۔
ہر بلاول ہے قوم کا مقروض
پاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے
کاش بلاول اور مریم نوازش بھی یہ منظر دیکھ سکے اس ملک میں، جہاں ان کے باپ دادا، اور دیگر رشتہ دار حکومت کرتے آئے ہیں، میں ایک غریب کیسے جیتا ہے؟لیکن انھیں اس سے کیا غرض!! یہ تو حکمرانی کے لیے پیدا ہوئے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق صرف کراچی میں تیس ہزار بے گھر بچے گلیوں میں اپنے شب و روز بِتاتے ہیں۔ اس نظام کے خلاف جنگ ہمیں لڑنی ہے جدوجہد ہمیں کرنی، متحد ہوکر۔۔ اس تفریق کو مٹا کر۔
”آؤ مل کرسمیٹ لیں خود کو
اس سے پہلے کے دیر ہوجائے“
نوٹ“ دولہا کے اوپر برسا رہا تھا۔ چند قدم کے فاصلے پردس بارہ سالہ لڑکی ٹکٹکی باندھے حسرت بھری نگاہوں سے یہ منظر دیکھ رہی تھی۔ جسم پر واحد پھٹا پرانا اور کافی چھوٹا کرُتا تھا جس سے اس نے اپنا میلا بدن ڈھانپنے کی نا کام کوشش کی تھی۔ اس کی نظریں کبھی ہوا میں اڑتے نوٹوں پر تو کبھی بھاری بھرکم میک اپ میں میں ڈھیر سارے زیور سے آراستہ دلہن کی طرف حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتی۔۔۔ اس کے ساتھ بیٹھا چھوٹا بچہ بنا پلک جھپکائے برابر میں لگے سیخ کباب کی طرف دیکھتا جارہا تھا۔۔۔ اس دوران ٹریفک دوبارہ رواں دواں ہوگئی اور میں آگ بڑھ گیا۔آدھا ایک گھنٹے بعد جب میں واپس لوٹ رہا تھا تو اس جگہ پر ایک اور منظر میرامنتظر تھا،جسے دیکھ کر خود سے اور پوری انسانیت سے نفرت ہونے لگی وہی معصوم بچے اب شادی ہال سے کچھ فاصلے پر موجودکچرے کے ڈھیر پر بیٹھے اس کچرے میں سے چاول نکال کرپیٹ کی آگ بجھارہے تھے۔غالبا ً شادی ہال سے بچا کھانا یہاں پھینک دیا تھا۔ان بچوں کے برابر میں دو کتےّ ایک دوسرے کے ساتھ گتم گتّا تھے مگر بچے دنیا جہاں سے بے خبر پیٹ کی آگ بجھا رہے تھے۔ ایسے مناظر ہمیں روزانہ دیکھنے کو ملتے ہیں۔لیکن ہمارا ضمیر اتنا مردہ ہوگیا ہے کہ ایک پل کے لئے بھی انسانوں میں اس تفریق کے بارے میں نہیں سوچتے۔ یہاں کوئی ایک
نوالے کے لے ترستا ہے اور چند لوگوں کے کتےّ بھی راج کرتے ہیں۔ شاعر نے کیا خوب فرمایا ہے۔
ہر بلاول ہے قوم کا مقروض
پاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے
کاش بلاول اور مریم نوازش بھی یہ منظر دیکھ سکے اس ملک میں، جہاں ان کے باپ دادا، اور دیگر رشتہ دار حکومت کرتے آئے ہیں، میں ایک غریب کیسے جیتا ہے؟لیکن انھیں اس سے کیا غرض!! یہ تو حکمرانی کے لیے پیدا ہوئے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق صرف کراچی میں تیس ہزار بے گھر بچے گلیوں میں اپنے شب و روز بِتاتے ہیں۔ اس نظام کے خلاف جنگ ہمیں لڑنی ہے جدوجہد ہمیں کرنی، متحد ہوکر۔۔ اس تفریق کو مٹا کر۔
”آؤ مل کرسمیٹ لیں خود کو
اس سے پہلے کے دیر ہوجائے“
Wednesday, January 15, 2014
کرسی۔۔۔۔جادو
کرسی کے چار پیر ہوتے ہیں اور کچھ کرسیوں کے آرم(بازو) بھی ہوتے ہیں لیکن اس دنیا کی ہر کرسی ہاتھوں اور انگلیوں سے محروم ہونے کے با وجود لوگوں کو اپنی انگلیوں پر نچاتی ہے۔کہنے کو تو یہ بے جان چیز ایک ہی جگہ ساکت رہتی ہے،لیکن اس کے حصول کے لئے لوگ ہر قسم کا سفر کرلیتے ہیں۔
ہمارے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں طبِ کی کرسی پر بیٹھا شخص یعنی ڈاکٹر، یہ چاہتا ہے کے ملک میں خوب امراض پھیلیں،وکالت کی کرسی پر بیٹھے شخص کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ سب لوگ جرائم کا ارتکاب کریں،معمار اس تاک میں رہتے ہیں کے موسم خراب ہو شدید بارشیں ہوں اور لوگوں کے مکانات زمین بوس ہوجائے۔ اس ملک میں سب سے خطرناک کرسی سیاست کی ہوتی ہے اس کرسی پر بیٹھنے والے کا بس چلے تو ایلفی لگا کر مستقل طور پر اس کے ساتھ چمٹ جائیں۔ اس مقصد کے لئے وہ طرح طرح کے کھیل کھیلتے ہیں اور لطف اٹھا تے ہیں۔ عوام میں دراڈیں جتنی زیادہ ہوتی ہیں انکی کرسی اتنی ہی مضبوط ہوجاتی ہے وہ ہمیشہ چاہتے ہیں کہ عوام شعور اور آگاہی جسے ” لعنت“سے دور رہیں۔
دوسری اہم کرسی ملاّبرادری کی ہے۔ یہ اپنی کرسی میں ”مسلک“اور”فرقے“ کی کیلیں ٹھوکتے ہیں۔ ان کی کرسی کو مضبوط بنانے کے لئے لا ؤڈ اسپیکر اہم کردارادا کرتا ہے۔جنت کا سرٹیفکٹ یہ ہمیشہ اپنی جیب میں لئے گھومتے ہیں اور موقع ملتے ہی جھٹ سے پیش کردیتے ہیں۔ منافرت کی دراڑیں پیدا کرنا ان کا محبوب مشغلہ ہے جنکی داڑھی لمبی ہوتی ہے، شلوار ٹخنوں سے اوپر ہوتا ہے اسے مذہبی قراردیا جاتا ہے۔ملاّ وشیخ کا دائرہ ء اسلام ان کی ذہنیت کی طرح سکڑتا جاتا ہے۔
ان تمام کرسیوں پر بیٹھنے والوں کا ایک مشترکہ مقصد ہوتا ہے کہ عوام کسی قیمت پر متحد نہ ہوں،تفرقہ،لسانیت، کے بیچ بوئے جاتے ہیں بد قسمتی سے ہم خود اس بیچ کو بہت پیار سے پانی دیتے ہیں، خیال رکھتے ہیں اور پھلنے پھولنے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں جو کہ اپنے پیر پہ کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے۔
کسی کی جان چلی جائے مال و اسباب لٹ جائے، کوئی عورت بیوہ ہوجائے،کسی ماں کا جوان بیٹا کھو جائے، کوئی بہن بھائی کے سائے سے محروم ہوجائے؛کرسی والوں کے
کانوں پرجوں نہیں رینگتی شاید انکی جوں بھی کرسیوں پر مضبوطی سے بیٹھنے کے عادی ہیں۔ جالب ؔ نے بجا فرمایا تھا محبت گولیوں سے بو رہے ہو
وطن کا چہرہ خون سے دھو رہے ہو
گماں تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہے
یقین مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو
ہم چاہ کر بھی ان کرسیوں والو ں کا کچھ نہیں بگاڑسکتے ہاں البتہ اس طاقت کو ان سے چھین سکتے ہیں، جو ہم نے ہی انھیں دے دی ہے اور متحد ہوکر ہر کرسی کی
ٹانگیں توڑسکتے ہیں۔ آئے مل کر کوشش کرتے ہیں۔آخر ہمیں اپنی کا اندازہ کیوں نہیں ہے؟؟ فیضؔ کہتے ہیں (یہاں ’کتے‘ کا مطلب عوام ہے۔)
یہ گلیوں کے آوارہ بے کار کتّے
کہ بخشا گیا جن کو ذوقِ گدائی
زمانے کی پھٹکار سرمایہ ان کا
جہاں بھر کی دھتکار ان کی کمائی
نہ آرام شب کو، نہ راحت سویرے
غلاظت میں گھر، نالیوں میں بسیرے
جو بگڑے تو ایک دوسرے سے لڑادو
ذرا ایک روٹی کا ٹکڑا دکھادو
یہ ہر ایک کی ٹھوکریں کھانے والے
یہ فاقوں سے اکتا کے مر جانے والے
یہ مظلوم مخلوق گر سر اٹھائے
تو انسان سب سر کشی بھول جائے
یہ چاہیں تو دنیا کو اپنا بنالیں
یہ آقاوؤں کی ہڈّیاں تک تک چبالیں
کوئی ان کو احساسِ ذلت دکھادے
کوئی ان کی سوئی ہوئی دُم ہلادے
کانوں پرجوں نہیں رینگتی شاید انکی جوں بھی کرسیوں پر مضبوطی سے بیٹھنے کے عادی ہیں۔ جالب ؔ نے بجا فرمایا تھا محبت گولیوں سے بو رہے ہو
وطن کا چہرہ خون سے دھو رہے ہو
گماں تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہے
یقین مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو
ہم چاہ کر بھی ان کرسیوں والو ں کا کچھ نہیں بگاڑسکتے ہاں البتہ اس طاقت کو ان سے چھین سکتے ہیں، جو ہم نے ہی انھیں دے دی ہے اور متحد ہوکر ہر کرسی کی
ٹانگیں توڑسکتے ہیں۔ آئے مل کر کوشش کرتے ہیں۔آخر ہمیں اپنی کا اندازہ کیوں نہیں ہے؟؟ فیضؔ کہتے ہیں (یہاں ’کتے‘ کا مطلب عوام ہے۔)
یہ گلیوں کے آوارہ بے کار کتّے
کہ بخشا گیا جن کو ذوقِ گدائی
زمانے کی پھٹکار سرمایہ ان کا
جہاں بھر کی دھتکار ان کی کمائی
نہ آرام شب کو، نہ راحت سویرے
غلاظت میں گھر، نالیوں میں بسیرے
جو بگڑے تو ایک دوسرے سے لڑادو
ذرا ایک روٹی کا ٹکڑا دکھادو
یہ ہر ایک کی ٹھوکریں کھانے والے
یہ فاقوں سے اکتا کے مر جانے والے
یہ مظلوم مخلوق گر سر اٹھائے
تو انسان سب سر کشی بھول جائے
یہ چاہیں تو دنیا کو اپنا بنالیں
یہ آقاوؤں کی ہڈّیاں تک تک چبالیں
کوئی ان کو احساسِ ذلت دکھادے
کوئی ان کی سوئی ہوئی دُم ہلادے
Subscribe to:
Posts (Atom)







