جنوری کی سرد رات تھی،یخ بستہ ہوائیں جب جسم کو چھوتی تھی تو یوں گماں ہوتا تھا جیسے کسی نے تیز دھار آلے سے جسم پر وار کردیا ہو۔ لوگوں نے موٹی گرم چادریں اور جیکٹیں ژیب تن کی تھیں۔ ڈھول کی تھاپ پر کچھ لڑکے دیوانہ وار رقص کر رہے تھے، برقی قمقموں نے ہر طرف روشنی پھیلادی تھی۔ چند بزرگ افراد اور ادھیڑ عمر کے خواتین و حضرات جھومتے لڑکوں کو تالیاں بجا کر داد دے رہے تھے۔پاس کھڑی لڑکیاں رنگ برنگ کے لباس میں ملبوس ماحول کواور خوبصورت اور دلکش بنا رہی تھی۔یہ ایک شادی ہال کے باہر کا منظر ہے۔ دلہا کے پہنچتے ہی صاف ستھرے سوٹ میں ملبوس ایک جوان گاڑی کی چھت پر چڑھ گیا جس کے ہاتھ میں روپیوں کی گڈیاں تھی۔وہ مسلسل ”کڑک
نوٹ“ دولہا کے اوپر برسا رہا تھا۔
چند قدم کے فاصلے پردس بارہ سالہ لڑکی ٹکٹکی باندھے حسرت بھری نگاہوں سے یہ منظر دیکھ رہی تھی۔ جسم پر واحد پھٹا پرانا اور کافی چھوٹا کرُتا تھا جس سے اس نے اپنا میلا بدن ڈھانپنے کی نا کام کوشش کی تھی۔ اس کی نظریں کبھی ہوا میں اڑتے نوٹوں پر تو کبھی بھاری بھرکم میک اپ میں میں ڈھیر سارے زیور سے آراستہ دلہن کی طرف حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتی۔۔۔ اس کے ساتھ بیٹھا چھوٹا بچہ بنا پلک جھپکائے برابر میں لگے سیخ کباب کی طرف دیکھتا جارہا تھا۔۔۔ اس دوران ٹریفک دوبارہ رواں دواں ہوگئی اور میں آگ بڑھ گیا۔آدھا ایک گھنٹے بعد جب میں واپس لوٹ رہا تھا تو اس جگہ پر ایک اور منظر میرامنتظر تھا،جسے دیکھ کر خود سے اور پوری انسانیت سے نفرت ہونے لگی وہی معصوم بچے اب شادی ہال سے کچھ فاصلے پر موجودکچرے کے ڈھیر پر بیٹھے اس کچرے میں سے چاول نکال کرپیٹ کی آگ بجھارہے تھے۔غالبا ً شادی ہال سے بچا کھانا یہاں پھینک دیا تھا۔ان بچوں کے برابر میں دو کتےّ ایک دوسرے کے ساتھ گتم گتّا تھے مگر بچے دنیا جہاں سے بے خبر پیٹ کی آگ بجھا رہے تھے۔
ایسے مناظر ہمیں روزانہ دیکھنے کو ملتے ہیں۔لیکن ہمارا ضمیر اتنا مردہ ہوگیا ہے کہ ایک پل کے لئے بھی انسانوں میں اس تفریق کے بارے میں نہیں سوچتے۔ یہاں کوئی ایک
نوالے کے لے ترستا ہے اور چند لوگوں کے کتےّ بھی راج کرتے ہیں۔ شاعر نے کیا خوب فرمایا ہے۔
ہر بلاول ہے قوم کا مقروض
پاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے
کاش بلاول اور مریم نوازش بھی یہ منظر دیکھ سکے اس ملک میں، جہاں ان کے باپ دادا، اور دیگر رشتہ دار حکومت کرتے آئے ہیں، میں ایک غریب کیسے جیتا ہے؟لیکن انھیں اس سے کیا غرض!! یہ تو حکمرانی کے لیے پیدا ہوئے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق صرف کراچی میں تیس ہزار بے گھر بچے گلیوں میں اپنے شب و روز بِتاتے ہیں۔ اس نظام کے خلاف جنگ ہمیں لڑنی ہے جدوجہد ہمیں کرنی، متحد ہوکر۔۔ اس تفریق کو مٹا کر۔
”آؤ مل کرسمیٹ لیں خود کو
اس سے پہلے کے دیر ہوجائے“
کسی مکان کو آگ لگی ہوئی ہوتو آگ لگنے کی وجوہات پرریسرچ کرنے سے پہلے آگ بجھانا فرض ہے۔
Monday, January 20, 2014
Wednesday, January 15, 2014
کرسی۔۔۔۔جادو
کرسی کے چار پیر ہوتے ہیں اور کچھ کرسیوں کے آرم(بازو) بھی ہوتے ہیں لیکن اس دنیا کی ہر کرسی ہاتھوں اور انگلیوں سے محروم ہونے کے با وجود لوگوں کو اپنی انگلیوں پر نچاتی ہے۔کہنے کو تو یہ بے جان چیز ایک ہی جگہ ساکت رہتی ہے،لیکن اس کے حصول کے لئے لوگ ہر قسم کا سفر کرلیتے ہیں۔
ہمارے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں طبِ کی کرسی پر بیٹھا شخص یعنی ڈاکٹر، یہ چاہتا ہے کے ملک میں خوب امراض پھیلیں،وکالت کی کرسی پر بیٹھے شخص کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ سب لوگ جرائم کا ارتکاب کریں،معمار اس تاک میں رہتے ہیں کے موسم خراب ہو شدید بارشیں ہوں اور لوگوں کے مکانات زمین بوس ہوجائے۔ اس ملک میں سب سے خطرناک کرسی سیاست کی ہوتی ہے اس کرسی پر بیٹھنے والے کا بس چلے تو ایلفی لگا کر مستقل طور پر اس کے ساتھ چمٹ جائیں۔ اس مقصد کے لئے وہ طرح طرح کے کھیل کھیلتے ہیں اور لطف اٹھا تے ہیں۔ عوام میں دراڈیں جتنی زیادہ ہوتی ہیں انکی کرسی اتنی ہی مضبوط ہوجاتی ہے وہ ہمیشہ چاہتے ہیں کہ عوام شعور اور آگاہی جسے ” لعنت“سے دور رہیں۔
دوسری اہم کرسی ملاّبرادری کی ہے۔ یہ اپنی کرسی میں ”مسلک“اور”فرقے“ کی کیلیں ٹھوکتے ہیں۔ ان کی کرسی کو مضبوط بنانے کے لئے لا ؤڈ اسپیکر اہم کردارادا کرتا ہے۔جنت کا سرٹیفکٹ یہ ہمیشہ اپنی جیب میں لئے گھومتے ہیں اور موقع ملتے ہی جھٹ سے پیش کردیتے ہیں۔ منافرت کی دراڑیں پیدا کرنا ان کا محبوب مشغلہ ہے جنکی داڑھی لمبی ہوتی ہے، شلوار ٹخنوں سے اوپر ہوتا ہے اسے مذہبی قراردیا جاتا ہے۔ملاّ وشیخ کا دائرہ ء اسلام ان کی ذہنیت کی طرح سکڑتا جاتا ہے۔
ان تمام کرسیوں پر بیٹھنے والوں کا ایک مشترکہ مقصد ہوتا ہے کہ عوام کسی قیمت پر متحد نہ ہوں،تفرقہ،لسانیت، کے بیچ بوئے جاتے ہیں بد قسمتی سے ہم خود اس بیچ کو بہت پیار سے پانی دیتے ہیں، خیال رکھتے ہیں اور پھلنے پھولنے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں جو کہ اپنے پیر پہ کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے۔
کسی کی جان چلی جائے مال و اسباب لٹ جائے، کوئی عورت بیوہ ہوجائے،کسی ماں کا جوان بیٹا کھو جائے، کوئی بہن بھائی کے سائے سے محروم ہوجائے؛کرسی والوں کے
کانوں پرجوں نہیں رینگتی شاید انکی جوں بھی کرسیوں پر مضبوطی سے بیٹھنے کے عادی ہیں۔ جالب ؔ نے بجا فرمایا تھا محبت گولیوں سے بو رہے ہو
وطن کا چہرہ خون سے دھو رہے ہو
گماں تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہے
یقین مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو
ہم چاہ کر بھی ان کرسیوں والو ں کا کچھ نہیں بگاڑسکتے ہاں البتہ اس طاقت کو ان سے چھین سکتے ہیں، جو ہم نے ہی انھیں دے دی ہے اور متحد ہوکر ہر کرسی کی
ٹانگیں توڑسکتے ہیں۔ آئے مل کر کوشش کرتے ہیں۔آخر ہمیں اپنی کا اندازہ کیوں نہیں ہے؟؟ فیضؔ کہتے ہیں (یہاں ’کتے‘ کا مطلب عوام ہے۔)
یہ گلیوں کے آوارہ بے کار کتّے
کہ بخشا گیا جن کو ذوقِ گدائی
زمانے کی پھٹکار سرمایہ ان کا
جہاں بھر کی دھتکار ان کی کمائی
نہ آرام شب کو، نہ راحت سویرے
غلاظت میں گھر، نالیوں میں بسیرے
جو بگڑے تو ایک دوسرے سے لڑادو
ذرا ایک روٹی کا ٹکڑا دکھادو
یہ ہر ایک کی ٹھوکریں کھانے والے
یہ فاقوں سے اکتا کے مر جانے والے
یہ مظلوم مخلوق گر سر اٹھائے
تو انسان سب سر کشی بھول جائے
یہ چاہیں تو دنیا کو اپنا بنالیں
یہ آقاوؤں کی ہڈّیاں تک تک چبالیں
کوئی ان کو احساسِ ذلت دکھادے
کوئی ان کی سوئی ہوئی دُم ہلادے
کانوں پرجوں نہیں رینگتی شاید انکی جوں بھی کرسیوں پر مضبوطی سے بیٹھنے کے عادی ہیں۔ جالب ؔ نے بجا فرمایا تھا محبت گولیوں سے بو رہے ہو
وطن کا چہرہ خون سے دھو رہے ہو
گماں تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہے
یقین مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو
ہم چاہ کر بھی ان کرسیوں والو ں کا کچھ نہیں بگاڑسکتے ہاں البتہ اس طاقت کو ان سے چھین سکتے ہیں، جو ہم نے ہی انھیں دے دی ہے اور متحد ہوکر ہر کرسی کی
ٹانگیں توڑسکتے ہیں۔ آئے مل کر کوشش کرتے ہیں۔آخر ہمیں اپنی کا اندازہ کیوں نہیں ہے؟؟ فیضؔ کہتے ہیں (یہاں ’کتے‘ کا مطلب عوام ہے۔)
یہ گلیوں کے آوارہ بے کار کتّے
کہ بخشا گیا جن کو ذوقِ گدائی
زمانے کی پھٹکار سرمایہ ان کا
جہاں بھر کی دھتکار ان کی کمائی
نہ آرام شب کو، نہ راحت سویرے
غلاظت میں گھر، نالیوں میں بسیرے
جو بگڑے تو ایک دوسرے سے لڑادو
ذرا ایک روٹی کا ٹکڑا دکھادو
یہ ہر ایک کی ٹھوکریں کھانے والے
یہ فاقوں سے اکتا کے مر جانے والے
یہ مظلوم مخلوق گر سر اٹھائے
تو انسان سب سر کشی بھول جائے
یہ چاہیں تو دنیا کو اپنا بنالیں
یہ آقاوؤں کی ہڈّیاں تک تک چبالیں
کوئی ان کو احساسِ ذلت دکھادے
کوئی ان کی سوئی ہوئی دُم ہلادے
Monday, December 2, 2013
بلاول کا "بھٹو" بننے کی ناکام کوشش
زیر نظر تصویر پی پی پی کے چیرمین بلاول زرداری کی ہے، جو بعد از مرگ بینظیر ، عوام کو بے وقوف اور اقتدار کو حاصل کرنے کے لئے '' بلاول بھٹو زرداری'' بنا دئے گئے، کی ہے۔ جس میں وہ اپنے دورہ لاڈکانہ کے موقعے پر ایک ٹھیلے والے سے چاٹ خرید رہے ہیں اور ان کے بائیں ہاتھ میں ہزار کا نوٹ ہے۔ اب سوچنے والی بات یہ ہے کیا یہ ٹھیلہ والا اتنا کماتا ہے؟؟ یہ بیچار پورے ہفتے میں ہزار روپے نہیں کماتا ہوگا۔
'' بلاول زرداری صاحب'' نے یقیناً بھٹو کے ''چکر'' میں یہ ناکام کوشش کی ہے۔ اب انھیں یہ کون سمجھائے کہ غریب ٹھیلے والے خواب میں ہی ہزارکا نوٹ دیکھتا ہے۔
مجھے یقین ہے کہ برگر کھانے والے اس "برگر" نے ٹھیلے سے خریدی ہوئی چاٹ نہیں کھائی ہوگی۔ کہیں پھینک دی گی۔ آخر کب تک ہم ایسے لوگوں کو اپنا "لیڈر" مانتے رہینگے جنہیں عوام کے مسائل کا الف، بے بھی نہیں معلوم۔۔۔۔۔
Wednesday, November 27, 2013
رفع حاجت بھی بڑا جنجال ہے۔۔
شہر کی دیواروں پر ایک جملہ اکثر پڑھنے کو ملتا ہے ’’یہاں پیشاپ کرنا منع ہے‘‘ لیکن اس نوٹیفیکیشن کو عوام ملک کے دیگر قوانین کی طرح روند ڈالتے ہیں اور اسی دیوار کے نیچے ’’ہلکا‘‘ ہوجاتے ہیں۔ کچھ مقامات پر لوگ تنگ آکر ایک اور دلچسپ جملہ لکھ دیتے ہیں کہ ’’دیکھو گدھا پیشاپ کر رہا ہے‘‘ لیکن ان کا یہ’’ وار‘‘ بھی ضائع جاتا ہے اور لوگ وہی’ ہلکا‘ ہوکر اپنی راہ لیتے ہیں۔ یہ انسان کی biological need ہے کہ نظامِ انہظام کے بعد فضلہ جسم سے خارج ہوجاتاہے۔ فرض کریں ایک شخص سندھ یا پنجاب سے طویل سفر کے بعد کراچی پہنچ جائے اور اسے ٹائلٹ جانے کی ضرورت پیش آئے تو کیا کریگا؟؟ مرد وں کے لئے اتنی مشکلات درپیش نہیں آتی۔ وہ کسی دیوار کی طرف منہ کرکے، کسی درخت کے نیچے یا کسی پارک کے کونے میں جاکر ’’ہلکا‘‘ ہوجائیگا۔یا پھر قریبی مسجد کا رُخ کریگا۔ لیکن بے چاری خواتین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کے لئے تو مسجد کے ٹائلٹ کے دروازے بھی بند ہیں۔ شہر میں پبلک ٹائلٹ نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ایک اخباری رپورٹ کے مطابق کراچی جو کہ دنیا کا ساتواں بڑا شہر ہے، میں صرف تین چار پبلک ٹائلٹ (برائے خواتین) ہیں، ان میں بِن قاسم پارک، کراچی چڑیا گھر شامل ہیں۔ مشرف کے دورِاقتدار میں کراچی کے سٹی ناظم مصطفی کمال نے شہرکے مختلف بس اسٹاپس پر پبلک ٹائلٹ بنوائے تھے لیکن یہ احتجاجی ریلیوں کی نذر ہوگئے۔ مختلف احتجاجی مظاہروں میں کھڑکیاں اور دروازے اکھاڑ کر لے گئے۔ ہمارے ملک کے اسلام کے ٹھیکیدار اور مذہبی انتہاپسندوں نے تو پہلے ہی اس پر ’’فحاشیت‘‘ کا ٹھپّہ لگادیا تھا۔ UNICEFکے سروے کے مطابق پاکستان میں چار ملین یعنی چالیس لاکھ سے ذیادہ افراد ٹائلٹ کی سہولت سے محروم ہیں۔ فرض کریں کسی خاتون کو دورانِ سفر، بس اسٹاپ یا شاپنگ کے بعد ٹائلٹ جانے کی ضرورت پیش آئے، تووہ بے چاری کہاں جائیگی؟؟ حکومت کو چاہئے کہ شہر کے مصروف شاہراہوں کے بس اسٹاپس پر پبلک ٹائلٹ تعمیر کرے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ پاکستان کے عوام ڈرون حملے، مہنگائی، بے روزگاری اور دہشت گردی کے بعد رفع حاجت کی وجہ سے جان بحق ہونا شروع کریں
یہاں مجھے سیّدمحمد جعفری کی ایک نظم ’’بھنگیوں کی ہڑتال‘‘ یاد آرہی ہے۔
بھنگیوں کی آج کل ہڑتال ہے
کہتر و مہتر کا پتلا حال ہے
گردشِ دوراں نے ثابت کر دیا
رفعِ حاجت بھی بڑا جنجال ہے
ضَبط کی حد پر کھڑہیں شیخ جی
سانس کھینچتے ہیں مگر منہ لال ہے
پیٹ پکڑے پھر رہے ہیں سیٹھ جی
جیسے دھوتی میں بہت سا مال ہے
آگیا روکے سے رُک سکتے نہیں
اپنا اپنا نامہء اعمال ہے
ہر گلی کوچے کی اپنی جھیل ہے
ہر جگہ دلّی میں نیتی تال ہے
یہاں مجھے سیّدمحمد جعفری کی ایک نظم ’’بھنگیوں کی ہڑتال‘‘ یاد آرہی ہے۔
بھنگیوں کی آج کل ہڑتال ہے
کہتر و مہتر کا پتلا حال ہے
گردشِ دوراں نے ثابت کر دیا
رفعِ حاجت بھی بڑا جنجال ہے
ضَبط کی حد پر کھڑہیں شیخ جی
سانس کھینچتے ہیں مگر منہ لال ہے
پیٹ پکڑے پھر رہے ہیں سیٹھ جی
جیسے دھوتی میں بہت سا مال ہے
آگیا روکے سے رُک سکتے نہیں
اپنا اپنا نامہء اعمال ہے
ہر گلی کوچے کی اپنی جھیل ہے
ہر جگہ دلّی میں نیتی تال ہے
Tuesday, July 30, 2013
مگر مجھ کو لوٹادو بچپن کا ساون..
بارش ہورہی تھی، میں سرتا پا بھیگا ہوا تھا۔ میں نے قمیض کے اوپر اُونی سویٹر، اس کے اوپر بھاری بھار کم جیکٹ ذیب تن کی تھی۔ جو جگہ جگہ سے منہ کھولے ہنس رہی تھی۔ آستین پر میں اپنی ناک کی مدد سے بلیک اینڈ وائٹ پینٹیگز بنائے تھے۔ اسی دوران میری نظر دیوار پرلاچاری اور بے سروسامانی کے عالم میں بیٹھی چڑیا پر پڑی۔
میں ٹکٹکی بھاند کر اسے دیکھتا رہا ۔ نجانے کب میری آنکھوں سے آنسوں رواں ہوگئے۔ وجہ دریافت کرنے پر میں نے اّمی کو اشارے سے چڑیا دیکھا دی اور بتایا کہ اس کا تو گھر بھی نہیں ہے۔ بارش ہورہی ہے ، کہاں جائیگی؟؟ میں امّی کے ساتھ خوبانی اٹھانے گیا تھا جسے رات تیز ہوا نے درخت سے گرائے تھے۔ "اللہ بڑا مہربان ہے۔ ان سب کی حفاضت کرتاہے۔ پرندوں کے بھی اپنے گھر ہوتے ہیں۔"
امّی نے پیار سے سمجھایا۔
یہ واقعہ تقریبا پندرہ برس قبل پیش آیا تھا۔ اس وقت میری عمر سات آٹھ برس تھی۔ آج زمانہ کتنا بدل گیا ہے؟؟ روز سینکڑوں لوگ مرتے ہیں۔ بھوک افلاس، بے روزگاری اور کئی دیگر وجوہات کی وجہ سے۔ لیکن کبھی آنسوں نہیں نکلتے۔ میں بڑا ہوگیا یا بے حِس؟؟ اکثر سوچتا ہوں تو فراق گورکھپوری کی غزل جسے جگجیت سنگھ کی آواز نے امر کردی ہے، یاد آتی ہے
تو آنکھیں نم ہوجاتی ہیں۔
یہ دولت بھی لے لو یہ شہرت بھی لے لو
بھلے چھین لو مجھ سے میری جوانی
مگر مجھ کو لوٹادو بچپن کا ساون
وہ کاغذ کی کشتی وہ بارش کا پانی
Thursday, July 25, 2013
گلستانِ مُلاّ ...
اگر تزئینِ چمن کا فریضہ کسی ملا ّ کو دے دیا جائے تو چمن "سدھارنے" اور پاک بنانے کے لئے مندرجہ ذیل اقدامات کریگا۔
۔مرغ۔۔ شہنشاہ
مرغ چمن کا شہنشاہ ہوگا کیونکہ اسے آزان دینا آتی ہے۔ مینا، بلبل، طاوس سمیت تمام پرندوں کو مرغ کے مدرسے میں داخل ہوکر آذانیں سیکھنا
ہوںگی۔
۔ فقط پتّوں کے برقعے میں تبسم کی اجازت:
کلیوں اور پھولوں کو فقط پتّوں کے برقعے میں تبسم کی اجازت ہے کیونکہ چمن میں کلی کا پھول بننا بے پردگی اور "فحاشی" ہے۔ اس کئے لازم ہے کہ پھول اور کلیاں پتّوں سے پردے کا اہتمام کریں
۔
۔ ہوا اٹھکیلیاں مت کر:
ہوا اٹھکیلیاں مت کر کیونکہ اس کی وجہ سے درختوں کی شاخیں جھومنے لگتی ہیں اور چمن میں رقص کی بنیاد پڑتی ہے۔ شاخیں ایک دوسرے کو چھُولیتی ہیں، پتّے ایک دوسرے کو چُوم لیتے ہیں، پھر طاوس پنکھ پھیلا کر رقص کرنے لگتے ہیں۔ یوں چمن میں "بے حیائی" کی بنیا د پڑتی ہے۔
طاوس کے پنکھ کاٹ کر داڑھی بڑھانے کا حکم جاری کیا جائے۔
۔ تتلیوں کو کوڑے لگاو:
تتلیوں کی پُشت پر کوڑے لگادئے جائے کیونکہ یہ سرِعام پھولوں کے ساتھ بغل ہوجاتی ہیں۔ دوسرا قصوران کا رنگ برنگ لباس ہے۔ اس طرح یہ
"متّقی اور پرہیزگاروں" کا دیں خراب کرتے ہیں۔
۔ کوئل کی کُوکُو اور پرندوں کی چہچہاہٹ پر پابندی:
موسیقی چونکہ حرام ہے ،کوئل کی کُوکُواور پرندوں کا چہچہانا موسیقی کے ذمرے میں آتا ہے۔ لہٰذا اس پر مکمل پابندی لگادی جائے ۔
۔مکڑی کو جالا بُننے پر پابندی:
مکڑی کا جالا بُننا کینوس پر پینٹنگ کے مترادف ہے۔ جو کہ سراسر حرام ہے۔اگر رذقِ حلال کی خاطر جالا بُننا مجبوری ہے تو ڈیزائننگ کے بغیر
سادہ جالا بُنا جائے۔ تاکہ دیکھنے والے اس طرف متوجہ نہ ہوں۔
7۔ خوشبو کا کسی جھونکے کی انگلی تھامنا نہیں جائز:
خوشبو کا سرِعام کسی اجنبی جھونکے کی انگلی تھام کر چلنا ناجائز ہے کیونکہ یہ جھونکیں "نامحرم" ہیں۔ کسی نامحرم کے ساتھ ایسے گھومنا "گناہِ کبیرہ" ہے۔
Sunday, July 21, 2013
ماہِ صیام کا تقاضا اور ہمارا رویّہ...
اسلامی تعلیمات کے مطابق ماہِ صیام انکساری ، قناعت ، برداشت اور اپنی نفسیاتی خواہیشات پر قابو پانے کا درس دیتا ہے تاہم آج کا مسلم معاشرہ خصوصاً پاکستان میں صورتِ حال بالکل اس کے بر عکس ہے۔ ہر سال کئی ایسے واقعات اخباروں کی زینت بنتے ہیں جو ملک اور مذہب دونوں کو بُری طرح بد نام کرتے ہیں۔ایسا ہی ایک واقعہ پچھلے دنوں گلگت میں پیش آیا۔
نمازِ جمعہ ادا کرنے کے بعد چند ڈنڈا بردار عناصر نے ایک مقامی ہوٹل پر دھاوا بول دیا ان روزہ داروں نے سب سے پہلے ہوٹل کے مالک کو مارا پیٹا پھر باقی ’’مذہبی فریضہ‘‘ ہوٹل کے فرنیچر اور دیگر اشیاء توڑ پھوڑ کر ادا کیا۔ہوٹل سے کھانے پینے کی چیزیں اُٹھا کر باہر پھینک دی گئیں اور وہاں موجود لوگوں کو بھی نہیں بخشا۔وجہ یہ تھی کہ رمضان کے مہینے میں یہ ہوٹل بند نہیں کیا تھا۔ تحقیقات سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ DHQ ہسپتا ل گاہکوچ کے پاس بنا یہ چھوٹا ہوٹل مسافروں کے لیے طعام کی فراہمی کے واسطے مقامی انتظامیہ سے باقاعدہ اجازت نامہ(پرمٹ) کے حصول کے بعد کھُلا رہتا ہے۔
قارئین ذرا غور کیجیے ! ہم پوری دنیا میں اپنی ساکھ کو کس طرح خراب کر رہے ہیں یہاں کئی سوالات جنم لیتے ہیں کہ کیا ہمارا مذہب اس طرح تشدد کرنے اور دہشت پھیلانے کا درس دیتا ہے؟کیا ریاستی قوانین کو توڑنے کی اجازت دیتا ہے؟ کیا روزے کا تقاضا یہی ہے؟ نہیں ہر گز نہیں۔۔یہ ڈنڈا بردار افراد نمازِ جمعہ ادا کرکے آئے تھے اور ماشاء اللہ سے روزہ دار بھی۔۔لیکن انہوں نے جو پُر تشددرویّہ اختیار کیا اس کا درس کم از کم مذہبِ اسلام نہیں دیتا ۔ تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے ایک قطرہ خون بہائے بنا مکہ فتح کیا تھا لیکن ان تاریخی واقعات کو ہم صرف جمعے کے خطبے میں دہراتے ہیں اور عملی زندگی میں ان پر عمل کرنا گوارا نہیں کرتے۔یہ عناصر اپنے بنائے فیصلوں کو پتھر پر لکیر سمجھتے ہیں اور بسا اوقات ریاستی قوانین کو کُچلتے نظر آتے ہیں۔
کیا ہی اچھا ہوتا کہ یہ حضرات اس ہوٹل کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رجوع کر لیتے یا پھر باہمی گفت و شنید کے ذریعے اس مسئلے کو سلجھانے کی کوشش کرتے۔۔لیکن انہوں ایسا نہیں کیا۔ ڈنڈے اُٹھائے مار پیٹ کی،تشدد کیااور اسے اسلام کی خدمت قرار دے کر’’اپنے نیکیوں میں اضافہ کیا‘‘۔
یہی وجہ ہے کہ آج پوری دنیا میں مسلمان عدم برداشت اور صبرو تحمل کے فقدان کی وجہ سے بدنامی کا شکار ہو رہے ہیں جو کہ ہمارے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
دوسرا اہم سوال یہ اٹھتا ہے کہ لوکل گورنمنٹ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس واقعے کے بعد خاموش کیوں ہیں؟اگر وہ تحفظ فراہم کرنے کے اہل نہیں اور ایسے شر پسند عناصر کو لگام دینے میں بے بس ہیں تو اجازت نامہ(پرمٹ) کیوں جاری کیا؟؟ حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے گھناؤنے واقعات کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور ایسے پُر تشدد واقعات کے مرتکب افراد کو کڑی سے کڑی سزا دے اور لوگوں کے مال و جان کے محافظ ہونے کا ثبوت دے۔
Subscribe to:
Posts (Atom)








