Wednesday, May 8, 2013

مہذب کُتّے


یونیورسٹی کی کینٹین کے باہر طلبا کا بڑا رش تھا، تمام طلبا چیخ چیخ کے کینٹین والے کو آوازیں دے رہے تھے کہ پہلے انھیں چیزیں دے دی جائے۔ اسی بھیڑ میں مجھے دو کُتے بھی نظر آئے، جو ایک طرف کھڑے لوگوں کو دیکھ رہے تھے۔ میرا دوست بڑی دیر سےغور کے ساتھ کُتوں کو دیکھ رہا تھا، مجھ سے کہنے لگا
"یار علی! جامعہ کے کُتے بھی مہذب ہیں، بھونکتے نہیں ہیں۔"
میں نے عرض کیا "جناب ! آپ اپنے جملے میں سے لفظ "بھی" ہٹا دیجئے اور اس کی جگہ "ہی" لگادیجئے۔" اس کے منہ پہ بنا سوالیہ نشان مجھے نظر آرہا تھا، اس لئے کہاکہ
جامعہ کے کُتے "ہی"مہذب ہیں۔

Tuesday, May 7, 2013

گٹر میں شہید



ایک خبر کے مطابق خیبر پختونخوا میں ہندو نوجوان کو بچاتے ہوئے دو مسلمان ہلاک ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق ایک ہندو جوان گٹر کی صفائی کے لیے نیچے اترا جہاں زہریلی گیس کے باعث وہیں بے ہوش ہو گیا۔ راجیش کی جان بچانے کے لیے ایک داؤد نامی نوجوان گٹر میں اترا لیکن وہ بھی وہیں بے ہوش ہو گیا۔ ان دونوں کو بچانے کے لیے قریبی مسجد سے حافظ اسداللہ وہاں پہنچا اور انھیں بچانے کے لیے گٹر میں اتر گیا، لیکن بدقسمتی سے اس کا پاؤں پھسلا اور وہ بھی گٹر میں گر گیا جس کے نتیجے میں تینوں ہلاک ہو گئے۔
انسانی رواداری کا یہ واقعہ آخر دنیا کو کیوں نظر نہیں آتا؟؟؟؟ کاش ہمارا میڈیا الیکشن مہم میں مصروف سیاست دانوں کے پیچھے بھاگنے کے بجائے اس واقعے کو بھی کووریج دے دیتا۔کاش
خیبر پختونخوا جو کہ فرقہ ورانہ تشدد اور مذہبی انتہاپسندی کے حوالے سے مشہور ہے، میں ایسے واقعے کا رونما ہونا شائد پوری دنیا کے لئے اچھنبے کی بات ہو لیکن میرے لئے نہیں۔ یہ واقعہ پوری دنیا کو چیخ چیخ کے یہ بتا تا ہے کہ ہر مسلمان دہشت گرد نہیں اور نہ ہر مدرسے کا طالب علم خودکش بمبار ہوتا ہے میں "شہید" داود اور شہید حافظ اسداللہ کو سلام پیش کرتا ہوں۔

میرے نزدیک ان دونوں کا مقام اور رتبہ ایسے افراد سے لاکھوں درجہ اچھا ہے جو مذہب اور سیاست کے نام پر بے گناہوں کو مارتے ہیں اور بے موت مرتے ہیں۔ لفظ "شہید" ایسے افراد کے لئے ہی استعمال ہونا چاہیے، نہ کہ ان درندوں کے لئے جو مسجدوں ، مزاروں اور مارکٹوں میں معصوم لوگوں کی جان لے لیتے ہیں۔

Wednesday, February 20, 2013

پانچ اہم اسباق۔۔۔۔ چند مِنٹوں میں


اس دِن ہم ایک دوست کو کراچی ائیرپورٹ سے اسلام آباد کی طرف روانہ کر کے واپس آرہے تھے ۔فروری کی سرد شام ، اور ٹھنڈی ہوائوں کا گالوں کوچھُونا بھلا معلوم ہو رہا تھا۔ میرے اُلجھے خیالات کی طرح بال بھی الجھے ہوئے تھے اور کراچی کی یخ ہوا انھیں مذید اُلجھا رہی تھی۔پانچ منٹ کی مسافت کے بعد ایک سگنل پہ لال بتی روشن ہوگئی اور تمام گاڑیاں رُک گئی۔ میں برابر میں کھڑی گاڑی کے شیشے میں اپنا عکس دیکھ رہا تھا جس میں ہوا میرے اُلجھے ہوئے بالوں کو سُلجھانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔ اتنے میں سگنل کھُل گیا اور گاڑیاں اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہوگئیں۔ اسی لمحے پیچھے شور اور چیخنے کی آواز آئی،مُڑ کے دیکھا تو ایک کار اور موٹر سائیکل ٹکراگئی تھیں، ایک ادھیڑ عمر کا شخص روڑ پر گِرا ہُوا تھا ۔ لوگ اردگرد جمع ہوتے جارہے تھے۔ ہم بھی موٹر سائیکل ایک طرف کھڑی کر کے وہاں پہنچ گئے۔ 1ہم نے اس شخص کو اٹھاکر فٹ پاتھ پر بیٹھایا ،اس کی ٹانگ کی ہڈی برُی طرح ٹوٹی ہوئی تھی اور خون بہہ رہا تھا۔اس کے ساتھ ایک بچہ اور بھی سوار تھاجو بالکل ٹھیک ٹھاک تھا ۔ آدمی درد کی شِدت سے بُری طرح کراہ رہا تھا، اسے پانی پلایا گیا تو سب سے پہلا سوال اپنے بیٹے کے متعلق پوچھا جسے خراش بھی نہیں آیاتھا۔ وہ چونکہ حساس ایریا ہے اس لئے پولیس پہلے سے موجود تھی۔ زخمی شخص کوہم نے اُسی کار میں بیٹھا کر ہسپتال بھیج دیا ، جس سے بائک ٹکراگئی تھی۔پھر ہم ہاتھ دھو کر (جن پہ خون لگ گیاتھا) اپنے گھر کی طر ف نکل پڑی۔اس واقعے نے پانچ اہم اسباق سیکھادئیی۔
پہلاسبق :صبر اور قانون کی پاسداری
وہ آدمی چند منٹ صبر کا مظاہرہ کرتا ،ٹریفک کے قوانین کی پاسداری کرتا تو حادثے کا شکا ر نہیں ہوتا۔ نہ اس کی ٹانگ ٹوٹتی اور نہ گاڑیوں کو نقصان پہنچتا اور نہ ہی ٹریفک کی روانی میں خلل پیدا ہوتا۔ دوسرا سبق: والدین کی محبت
وہ شخص خود بُری طرح زخمی ہونے کے باوجود سب سے پہلے اپنے بیٹے کے متعلق پوچھا۔جو بالکل خیروعافیت سے تھا۔ اسے اپنے زخموں سے زیادہ فِکر بیٹے کی تھی۔ اس سے بڑھ کر محبت کی اور کیا مثال دی جا سکتی ہی؟
تیسرا سبق: غرور ،گھمنڈ
انسان اپنے طاقت اور جوانمردی پر بڑا ناز کرتا ہی۔ وہ آدمی چند منٹ قبل توانا اور صحت مند تھا ، اب اپنے پیروں پر کھڑا نہیں ہو پا رہا تھا۔ انسان کو ہر لمحہ یہ سوچنا چاہیے کہ اُسے ایک دن اسی مٹی میں ملنا ہے ۔ ہمارا خوبصورت چہرہ، توانا جسم سب مٹی میں مل جائیگا جس پہ آج ہمیں غرور ہی۔
چوتھاسبق: انسانیت
حادثے کے بعد اپنی موٹر مائیکل کو ایک طرف پارک کر کے جائے حادثہ تک پہنچنے تک ہمیں تقریباً تین منٹ لگ گئے تھی،تب تک بھیڑ وہاں جمع ہو گئے تھی۔لیکن مدد کر نے کے لئے کوئی آگے نہیں بڑھا تھا۔کیا ہمارا مذہب یہی درس دیتا ہی؟ایک انسان زمین پر پڑا تڑپ رہا ہی،ٹانگ ٹوٹی ہوئی ہی،خون بہہ رہا ہے اور لوگ کھڑے تماشہ دیکھ رہے ہیں۔ایسا ہی واقعہ آپ کے ساتھ بھی پیش آ سکتا ہی۔
پانچواں سبق :پولیس اہلکاروں کی نا اہلی
جائے حادثہ پر پولیس موجود تو تھی لیکن رپوٹ لکھنے اور گاڑیوں کے کاغذات کا مطالبہ کر نے میںمصروف تھی،وہ یہ کام ہسپتال پہنچ کر ابتدائی طبی امداد کے بعد بھی کر سکتی تھی۔ ہمارے ارد گرد روزانہ سینکڑوں ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں، ہمیں ان باتوں کا خیال ضرور رکھنا چاہئے

Monday, December 3, 2012

تعلیم بھی فتنہ۔۔۔۔۔

دیوار پر بنی تصویر میں فضل الرحمن صدر بُش کی دوش پر سوار ہے، دوسری تصویر میں ایم۔کیو۔ایم کے قائد الطاف حسین مشرف کے کندھے پر بیٹھا ہوا ہے۔ بائیں طرف صدر زرداری کے نام کے ساتھ غلیظ گالیاں لکھی گئی ہیں اور ساتھ ہی فریال تالپور کا نام بھی درج ہے۔دائیں جانب سندھی قوم کو بُرا بھلا کہا گیا ہے اس کے نیچے جواباـپنجابیوں کو ظالم اور غدّار لکھا گیا ہے۔ اس کے بیک گراونڈ پر لڑکی کی برہنہ تصویر بنادی گئی ہے۔اور اس کے سینے پر دو تین فون نمبر درج ہیں اور کا ل کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ رحمن ملک کے نام کے آگے غلیظ گالیاں دو لائنوں پر مشتمل ہیں لیکن الطاف بھائی یہاں رحمن ملک کو شکست دیتے نظر آتے ہیں۔ جماعت اسلامی کے ناظم منّور حسن کو بھی ’’اعلیٰ القابات‘ـ‘ سے نوازا گیا ہے۔ نواز شریف کے سابق بغیر بالوں والے سر پر کافی ’’تعریفی کلمات‘‘ نقش کر دئے گئے ہیں۔ یہ تمام تحاریر و تصاویر ہمارے ملک کے اعلیٰ تعلیم یافتہ جوانوں نے جامعہ کراچی کی مین لائبریری کے ٹائلٹ کی دیواروں پر بنادی ہیں۔ افسوس کہ قلم کی تقدّس کو اس غلیظ جگہ پر پامال کیا جاتا ہے۔انہیں طالب علم کہنا طالب علمی کی بے حرمتی ہے اور ان کی تعلیم کلنک کے سوا کچھ نہیں۔یہ لوگ شعر کے ایک نا مکمل مصرے کی طرح ہیں کیونکہ اخلاقیات اور عمل کے بغیر انسان کو نامکمل تصّور کیا جاتا ہے۔ میرے خیال میں ان افراد سے ان پڑھ لاکھ درجہ اچھے ہیں کیونکہ وہ اس طرح بے ہودہ حرکتیں نہیں کرتے۔ یہ نامعقول باتیں اور بے ہودہ تصاویر صرف کراچی یونیورسٹی میں نہیں بلکہ پورے ملک کے کالجز اور جامعات کے باتھ روم میں نظر آتی ہیں حد تو یہ ہے کہ مساجد کے ٹوئلٹ کی دیواریں بھی محفوظ نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ملک کا تعلیم یافتہ اور نوجوان طبقہ قوم کا سرمایہ اور ملک کا معمار ہوتا ہے لیکن افسوس صد افسوس ادھر یہ افراد بعداز استعمال فلش کرنا اور پانی ڈالنا بھی گوارہ نہیں کرتے۔۔۔۔۔یہاں یہ طبقہ اپنے دل و دماغ میں نفرتیں اور غلاظت کئے پھرتا ہے۔ ڈگری اور اچھے نمبرز تو حاصل کرتے ہیں لیکن اخلاقیات اور انسانیت سے کوسوں دُور چلے جاتے ہیں۔ اِ نہیں سمجھانے والا بھی کوئی نہیں کیونکہ یہاں اساتذہ کورس کی کتابیں رٹّوانے اور والدین پیسہ کمانے میں مصروف ہیں۔

Thursday, November 29, 2012

.... کیسا اسلام۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟؟

بے علم بھی ہم لوگ ہیں غفلت بھی ہے طاری
افسوس کہ اندھے بھی ہیں اور سو بھی رہے ہیں
اکبر الہ آبادی

محرم الحرام کے شروع ہوتے ہی ہر سال میرے پڑوس میں ایک دلچسپ لیکن افسوسناک واقعہ رونما ہوتا ہے۔ اور ہر سال اس کی شدت میں اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ دسویں محرم تک یہ انوکھا کھیل جاری رہتا ہے۔ جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ ان دنوں میں پورے ملک کی فضائیں نوحوں کی آواز سے گونج اٹھتی ہے، ویسے ہی میرے پڑوس میں بھی باآواز بلند نوحے چلائے جاتے ہیں۔ میرے دونوں پڑوسی الگ الگ مکتبۂ فکر کے ماننے والے ہیں۔اور دونوں ان دِنوں میں ’’مذہب اور عبادت‘‘ کے نام پر اخلاقیات کو یکسر بھُلا دیتے ہیں۔ یا یوں کہیے کہ اخلاقیات کے ساتھ ساتھ مذہب کا بھی جنازہ نکال دیتے ہیں۔
ایک گھر میں اتنی تیز آواز میں نوحے چلائے جاتے ہیں کہ مجبوراً مجھے گھر کی کھڑکیاں اور دروازے بند کرنے پڑتے ہیں۔ایسے میں پڑھنا اور مطالعہ کرنا تو کُجا چین سے بیٹھنا محال ہوتا ہے۔ کیونکہ دوسرے گھر والے نوحوں کا مقابلہ قرآن کی تلاوت سے کرتے ہیں۔ان کی یہ کوشش ہوتی ہے کا کسی نہ کسی طرح قرآن کی تلاوت کی آواز نوحوں سے اونچی ہو۔ایک بیوقوفانہ عمل۔................۔ بہت ہی احمقانہ اور انوکھی بات یہ ہوتی ہے کہ جونہی نوحے چلائے جاتے ہیں اُسی لمحے دوسرے گھر سے سورہ الرحمن فُل آواز میں سنائی دیتی ہے۔ یہاں ایک اور دلچسپ بات بتاتا چلوں کہ باقی ایام میں دونوں گھرانوں میں قدرے دھیمی آواز میں ہندوستانی فلموں کے گیت سُنے جاتے ہیں لیکن اس طرح کا مقابلہ دیکھنے کو نہیں ملتا۔ اب فیصلہ آپ قارئین کریں کہ ہم مسلمان کس سمت جارہے ہیں؟؟ یہ واقعہ ہماری آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہم کتنے متحد ہیں؟ اورکس حد تک ایک دوسرے کو برداشت کرتے ہیں؟؟ ہم عید ساتھ مناتے ہیں نہ دوسرے تہواروں میں ایک دوسرے کے عقیدوں کا احترام کرتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ ہم نے عبادت خانوں سے لیکر برتن اور رنگوں کو بھی مذہبی و مسلکی بنیاد پر تقسیم کیا ہوا ہے۔ تمام مسلمان یکجا ہوکر صرف منٰی میں شیطان کو کنکریاں مارسکتے ہیں اور کچھ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دنیا کے ہر کونے میں شکست خوردہ ہیں۔ ذرا سوچئے اور اس خول کو اُتار پھینک دیں اس سے پہلے کہ دیر ہوجائے۔

Thursday, September 6, 2012

بارش.....

مجھے بارش پسندہے
صرف دیکھنے سے دلچسپی
انھیں بھیگنے سے محبت
آج ویسا ہی موسم ہے
میری کھڑکی کھلی ہے
مگر دریچے دل کے مقفل ہیں
وہ بھیگتے جارہے ہیں
ٹھٹھرتے لب،بھیگتا آنچل
وہ گیلے بالوں کا رخسار چھوُن
ان کے گالوں سے چپکنا
مجھ کو جلا کر راکھ کرتے ہیں
ہوائیں سرد ہیں لیکن
مجھے صحرا کی لو معلوم ہوتی ہیں
نہ جانے کب میرے تشنہ وجود پر
کوئی بادل اتر آئے
اور اس ساون کے موسم میں
میں اس کے ساتھ بھیگ جاؤں

Wednesday, September 5, 2012

سیاست۔۔۔؟؟؟؟؟؟

عرضِ شمال کی حسین وادیوں میں بدامنی کے پے درپے واقعات سے جہاں خوف و ہراس پایا جاتا ہے وہی گلگت بلتستان میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بھی لگ رہا ہے۔سانحہء بابوسر کے بعد گلگت میں فائرنگ اور دھماکوں کی خبریں تواتر آرہی ہیں ان واقعات میں کئی بے گناہ معصوم شہری ذندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں لیکن اب تک ان واقعات میں ملوث کوئی کردار گرفتار نہیں ہو سکا ہے۔مہدی شاہ حکومت صرف دعویے اور اعلانات کے علاوہ کوئی عملی کام کرتی نظر نہیں آتی۔ ان حالات کو دیکھ کر جونؔ ایلیا کایہ شعر دل و دماغ کے دروازوں پر دستک دیتا ہے
کون اس گھر کی دیکھ بال کرے
روز ایک چیز ٹوٹ جاتی ہے
کیا ہی اچھا ہوتا کہ گلگت بلتستان کے سیاستدا ن اور مذہبی علماء علاقے میں لگی فرقہ واریت کی آگ کو ہوا دینے کے بجائے بُجھانے کی کوشش کرتے،لیکن بدقسمتی سے ان میں بیشتر لوگ لاشوں پر بھی سیاست کرتے نظر آتے ہیں۔ایک ایسا ہی واقعہ گزشتہ دنوں یاسین میں پیش آیا۔ رقص چوک گلگت میں ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکار راجہ جمال الدین، جنہیں گولی مار کر قتل کر دیا گیا تھا، کی لاش جب آبا ئی گاؤں یاسین پہنچ گئی تو وہاں کے نامور سیاستدان اور این اے کونسل کے امیدوار راجہ جہانزیب خطے میں لگی آگ کو ہوا دیتے نظر آئے۔ 1500کے قریب لوگ جو کہ تدفین اور فاتحہ خوانی کے لئے آئے تھے،جلوس کی شکل میں دوسرے فرقے کے خلاف نفرت انگیز نعرہ بازی کرتے رہے۔ستم ظریفی یہ ہے کہ پولیس کی موجودگی میںیہ ’’کارنامہ‘‘ انجام دیا گیا ۔ سب بڑا احمقانہ عمل یہ تھا کہ لاش گھر لے جانے کے بجائے تقریبا پندرہ کلومیٹر کا راستہ جلوس کی شکل میں طے کر کے طاوس چوک پہنچ گئے، وہاں سے واپس قبرستان۔ سوال یہ ہے کہ لاش کو بارا ت کی شکل میں گھمانے کا مقصد کیا تھا؟؟ دوسرے فرقے کے خلاف نعرہ بازی کی کیا ضرورت تھی؟؟ تدفین کے بعد جہانزیب نے نہایت غیر ضروری تقریر کی جو کہ دھمکیوں سے بھر پور تھی۔کسی سیا ستدان کو اس قسم کے الفاظ بالکل ذیب نہیں دیتے۔وہ بھی ایک ایسے موقعے پر جب پورا علاقہ مشکل ترین حالات سے گزر رہا ہو۔ نماز جنازہ پڑھانے والے مولانا صاحب جن کا تعلق داماس سے بتایا جاتا ہے،نے حیرت انگیز انکشافات کئے۔ انھوں نے دعوی کیا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی RAWنے حالیہ فسادات کرانے کے لئے چار کروڑ روپے دیے ہیں۔ اس بات میں کتنی صداقت ہے یہ حکومت کو چاہیے کا مولوی صاحب سے پوچھ لے۔ اور ا ن ا فراد کو مولانا صاحب سے معلومات لیکرگرفتا ر کیا جائے ۔ جہانزیب جو تدفین میں شریک افراد کا شکریہ ادا کرنے آئے تھے، نے اپنی تقریر میں کہا کہ چلاس ،تانگیر ، بشام ،داریل ، سوات سے ان کے ’’فدائی‘‘ انتقام لینے کے لئے مسلسل رابطے کر رہے ہیں، انھیں میرے ایک اشارے کی ضرور ت ہے۔ انھوں نے مذید کہا کہ اگر ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا تو اپنی طاقت کا استعمال کریں گے اور ایک کے بدلے دودو لاشیں گرائنگے۔یہاں کئی سوالات جنم لیتے ہیں کہ جہانزیب چلاس، داریل، تانگیر کی کونسی طاقت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں؟؟ کیا یہ وہی ’’طاقت‘‘ تو نہیں،جس نے چند ماہ قبل چلاس میں معصوم شہریوں کے خون سے ہاتھ رنگا تھا؟؟؟ کیا یہ وہی ’’طاقت‘‘ تو نہیں،جس نے چند روز قبل بابوسر کے مقام پر معصوم شہریوں کے خون ہولی کھیلی تھی؟؟؟؟ اب حکومت کو چاہیے کہ وہ ان حضرات سے دریافت کرے کہ پانچ لاکھ کی افرادی قوت(جس کا ذکر تقریرمیں جہانزیب نے کیاتھا) سے کونسے دشمنوں کا صفایا کرینگے؟؟؟ اس ایک تقریر نے یاسین کے سیاسی حالات کو یکسر بدل دیا ہے۔یاسین کے سادہ لوح عوام پی پی پی کے سابق جنرل سکٹریری غلام محمد اورMLA ایوب شاہ سے بیحد مایوس ہوچکے ہیں اور ان کا جھکاؤ جہانزیب کی طرف بڑھ گیا تھا،اب اپنی سیاسی سوچ کوبدل رہے ہیں ان کی نظریں اب کسی نئے سیاستدان کو ڈھونڈ رہی ہیں جو صحیح معنوں میں انکی نمائندگی کرے۔ دُعا ہے کہ یاسین کے عوام کو ایسی نوجوان سیاسی قیادت نصیب ہو جو سیاسی بتوں کو توڑ دے اور مذہبی انتہا پسند سیاستدانوں کو زیر کر کے حقیقی معنوں میں عوام کی نمائندگی کرے۔(آمین)